(آیت 27) ➊ {لَايَسْبِقُوْنَهٗبِالْقَوْلِ:} یعنی ان کی بندگی اور فرماں برداری کا یہ حال ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر بات تک نہیں کرتے۔ ➋ { وَهُمْبِاَمْرِهٖيَعْمَلُوْنَ: ”بِاَمْرِهٖ“} کو پہلے لانے سے دو باتیں واضح ہوئیں، ایک یہ کہ وہ جو کرتے ہیں اس کے حکم سے کرتے ہیں، اس کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔ دوسری یہ کہ وہ ہر کام صرف اس کے حکم سے کرتے ہیں، کسی اور کے حکم سے نہیں۔ غور کرو، بندگی اور غلامی کی انتہا ہے کہ مولا کی مرضی کے بغیر نہ بولتے ہیں نہ کچھ کرتے ہیں، بھلا اولاد بھی اس طرح ہوتی ہے؟ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ سے اولاد کی نفی فرمائی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 اس میں مشرکین کا کہنا ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ فرمایا وہ بیٹیاں نہیں، اس کے ذی عزت بندے اور اس کے فرما بردار ہیں۔ علاوہ ازیں بیٹے، بیٹیوں کی ضرورت، اس وقت پڑتی ہے۔ جب عالم پیری میں ضعف و بڑھاپا، ایسے عوارض ہیں جو انسان کو لاحق ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام کمزوریوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے۔ اس لئے اسے اولاد کی یا کسی سہارے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ وہ اس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے بس اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ’ یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «مَنْذَاالَّذِيْيَشْفَعُعِنْدَهٗٓاِلَّابِاِذْنِهٖ»۱؎[2-البقرة:255] ’ وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَلَاتَنْفَعُالشَّفَاعَةُعِنْدَهٗٓاِلَّالِمَنْاَذِنَلَهٗ»۱؎[34-سبأ:23] یعنی ’ اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی ‘۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ’ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں ‘۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔ اسی طرح کی آیت «قُلْإِنكَانَلِلرَّحْمَـٰنِوَلَدٌفَأَنَاأَوَّلُالْعَابِدِينَ»۱؎[43-الزخرف:81] اور «لَىِٕنْاَشْرَكْتَلَيَحْبَطَنَّعَمَلُكَوَلَتَكُوْنَنَّمِنَالْخٰسِرِيْنَ»۱؎[39-الزمر:65]، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔