ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 26

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ عِبَادٌ مُّکۡرَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ وہ بندے ہیں جنھیں عزت دی گئی ہے۔
اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ وہ پاک ہے (اس کے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں
(مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمٰن اوﻻد واﻻ ہے (غلط ہے) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وه سب اس کے باعزت بندے ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) ➊{ وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا …:} عقلی اور نقلی دلیلوں سے شرک کی تردید کے بعد اب ان لوگوں کا رد کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے صاحبِ اولاد ہونے کے قائل تھے۔ عرب کے بعض مشرکین کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ بعض یہود کا کہنا تھا کہ (نعوذ باللہ) جنات اللہ تعالیٰ کے سسرال ہیں، جن سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح یہود نے عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتایا۔ نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کو اور بعض مسلمان کہلانے والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے ذاتی نور کا ٹکڑا قرار دیا اور بعض نے کہا:
خدا کے نور سے پیدا ہوئے ہیں پانچوں تن
محمد است، علی، فاطمہ، حسین و حسن
چونکہ یہ شرک کی بدترین صورت اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی گستاخی تھی (دیکھیے مریم: ۸۸ تا ۹۰۔ بقرہ: ۱۱۶۔ نساء: ۱۷۱) اس لیے اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے اس کا رد فرمایا۔
➋ سب سے پہلے یہ کہہ کر رد فرمایا کہ { وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا } (اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے) یعنی باپ اور اولاد ایک جنس ہوتے ہیں، اب کہاں رحمان کہ جس کی کمال رحمت سے یہ کائنات وجود میں آئی اور مسلسل چل رہی ہے اور جس کے سوا رحمان نام کا مصداق تم بھی کسی کو نہیں سمجھتے۔ اگر اس کی اولاد مانو تو والد اور اولاد کے ایک جنس ہونے کی وجہ سے فرشتوں کو اور عزیر و مسیح علیھما السلام کو اور ایک ہی نور سے ہونے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور پنجتن کو اسم رحمان کا مصداق ماننا پڑے گا۔ خود ہی سوچ لو کیا یہ رحمان تھے؟
➌ پھر { سُبْحٰنَهٗ } کہہ کر رد فرمایا، یعنی جن کمزوریوں کی وجہ سے اولاد کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان سے پاک ہے۔ انسان کو اولاد کی ضرورت اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہوتی ہے، تاکہ وہ مشکل میں اس کی مدد کرے، بڑھاپے میں اس کا سہارا (عصائے پیری) بنے اور مرنے کے بعد اس کی جانشین بنے۔ پھر اولاد کے لیے بیوی کا ہونا لازم ہے، انسان اپنی خواہشِ نفس کی وجہ سے بیوی کا محتاج ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۱) رحمان ان تمام کمزوریوں سے پاک ہے، اگر اس میں یہ کمزوریاں ہوں تو وہ رحمان نہیں ہو گا، بلکہ خود رحم کے قابل ہو گا، جس طرح تمام انسان، جن، فرشتے اور تمام مخلوقات ہیں۔ پھر وہ نہ رحمان ہو گا اور نہ تمام عیوب اور کمزوریوں سے پاک۔ [سُبْحَانَہُ وَ تَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ]
➍ پھر { بَلْ عِبَادٌ } کہہ کر رد فرمایا، یعنی جنھیں یہ لوگ اولاد کہہ رہے ہیں وہ بندے (غلام) ہیں۔ غلام اپنے مالک کی اولاد نہیں ہوتا اور اولاد اپنے باپ کی غلام نہیں ہوتی۔ بندگی اور ولدیت جمع نہیں ہو سکتیں۔ اہلِ علم نے اس آیت سے استدلال فرمایا کہ اگر کسی کا بیٹا غلامی کی حالت میں اس کی ملکیت میں آئے تو آزاد ہو جائے گا، کیونکہ ولدیت اور عبدیت جمع نہیں ہو سکتیں۔
➎ { مُكْرَمُوْنَ } کفار نے ان ہستیوں کی عظمت شان کی وجہ سے انھیں اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہے کو یہ کہہ کر دور فرمایا کہ ان ہستیوں کی تمام عظمت و رفعت صرف اس لیے ہے کہ انھیں عزت عطا کی گئی ہے۔ اس میں ان کا اپنا کمال کچھ نہیں، جب کہ والد اور اولاد اوصاف میں یکساں اور برابر کا جوڑ ہوتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ (مشرکین) کہتے ہیں کہ رحمن کا اولاد [22] ہے۔ اللہ ایسی باتوں سے پاک ہے، بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔
[22] فرشتے اللہ کی اولاد نہیں بلکہ اللہ کے فرمانبردار بندے ہیں:۔
یہ خطاب صرف مشرکین مکہ کو ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ کیونکہ آگے اسی بات کی وضاحت آرہی ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے دست بستہ غلام ہیں اور معزز اس لحاظ سے ہیں کہ ہر وقت اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ با ادب اتنے ہیں کہ اللہ کے حضور کوئی بات ہی نہیں کرتے بس صرف حکم کے منتظر رہتے ہیں۔ اور جب انھیں کوئی حکم دیا جاتا ہے تو فوراً اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ’ یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255]‏‏‏‏ ’ وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ ‘
اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» ۱؎ [34-سبأ:23]‏‏‏‏ یعنی ’ اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی ‘۔
اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ’ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں ‘۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔
اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:81]‏‏‏‏ اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:65]‏‏‏‏، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔