ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 107

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر رحم کرتے ہوئے۔
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے
اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 107){ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ:} اعراب القرآن (قرآن کی ترکیب نحوی) کے موضوع پر لکھی ہوئی تقریباً تمام کتابوں میں { رَحْمَةً } کو { اَرْسَلْنٰكَ } کا مفعول لہ بیان کیا گیا ہے۔ بعض کتابوں میں دوسری تراکیب بھی بیان ہوئی ہیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ نحو کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ مفعول لہ جس فعل کی علت بیان کر رہا ہو اس فعل کا اور مفعول لہ کا فاعل ایک ہوتا ہے، مثلاً {ضَرَبْتُ زَيْدًا تَأْدِيْبًا} (میں نے زید کو ادب سکھانے کے لیے مارا) اس میں مارنے والا اور ادب سکھانے والا ایک ہی ہے، اس طرح یہاں بھیجنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور رحم کرنے والا بھی۔ چنانچہ معنی یہ ہو گا کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر رحم کرنے کے لیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے کی وجہ اللہ تعالیٰ کا جہانوں پر رحم کرنا ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ونفرستادیم ترا مگر ازروئے مہربانی برعالمہا (اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر مہربانی کی وجہ سے) اور شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے ترجمہ کیا ہے: اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہر (یعنی مہربانی) کر کر جہان کے لوگوں پر۔ مفسر ابوالسعود نے فرمایا: { أَيْ مَا أَرْسَلْنَاكَ بِمَا ذُكِرَ لِعِلَّةٍ مِنَ الْعِلَلِ إِلاَّ لِرَحْمَتِنَا الْوَاسِعَةِ لِلْعَالَمِيْنَ قَاطِبَةً} اور ہم نے تجھے مذکورہ وحی دے کر کسی بھی وجہ سے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں پر اپنی وسیع رحمت کی وجہ سے۔ امام المفسرین طبری نے فرمایا: { وَمَا أَرْسَلْنَاكَ يَا مُحَمَّدُ! إِلاَّ رَحْمَةً لِمَنْ أَرْسَلْنَاكَ إِلَيْهِ مِنْ خَلْقِيْ} اور ہم نے اے محمد! تجھے نہیں بھیجا مگر اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں پر رحم کے لیے جن کی طرف ہم نے تجھے بھیجا ہے۔ پھر امام طبری نے { لِّلْعٰلَمِيْنَ } کی تفسیر میں اس قول کو ترجیح دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے کی وجہ مومن و کافر سب پر رحم ہے کہ جو آپ پر ایمان لائے گا اس کے لیے دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں رحمت لکھی جائے گی اور جو آپ پر ایمان نہیں لائے گا وہ دنیا میں ان عذابوں سے محفوظ رہے گا جو پہلی امتوں پر نبی کو جھٹلانے کی وجہ سے نازل ہوتے تھے، مثلاً زمین میں دھنس جانا، شکلیں بدل جانا وغیرہ۔
ایک ترکیب نحوی یہ ہے کہ { رَحْمَةً } حال بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔ جس طرح کہتے ہیں {زَيدٌ عَدْلٌ} کہ زید عدل ہے، یعنی اتنا عادل ہے گویا سراپا عدل ہے۔ پھر یہ { اَرْسَلْنٰكَ } میں ضمیر فاعل ہم سے بھی حال ہو سکتا ہے اور { اَرْسَلْنٰكَ } میں ضمیر کاف سے بھی۔ پہلی صورت میں معنی یہ ہو گا کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر اس حال میں کہ ہم جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہیں۔ دوسری صورت میں معنی ہو گا کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر اس حال میں کہ تو جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہے۔ پہلا معنی مفعول لہ والے معنی کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہانوں پر رحم کی وجہ سے مبعوث کرنا اور اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں بھیجنا کہ اس کی ذات پاک تمام جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہے، دونوں کا مفہوم ایک ہے جو سورۂ فاتحہ میں { رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ } اور { الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ } کے اکٹھے بیان سے واضح ہے۔ دوسرا معنی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں بھیجا کہ آپ جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہیں، بھی درست ہے کہ آپ مومنوں کے لیے تو دنیا و آخرت دونوں میں سراسر رحمت ہیں، فرمایا: «{ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ [التوبۃ: ۱۲۸] مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ اور فرمایا: «{ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ [التوبۃ: ۶۱] اور ان کے لیے ایک رحمت ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں۔ اور کفار کے لیے بھی دنیا میں سراسر رحمت ہیں کہ آپ کی وجہ سے وہ دنیا میں پہلی قوموں جیسے عذابوں سے محفوظ ہو گئے اور آپ کی شریعت میں صلح و جنگ دونوں حالتوں میں ان پر وہ ظلم و جور روا نہیں رکھا جاتا جو دوسری تمام اقوام اپنے مخالفین پر روا رکھتی ہیں اور آپ کو کفار کے ایمان نہ لانے اور ان کے جہنم کا ایندھن بننے کا اتنا غم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: «{ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ [الشعراء: ۳] شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں پر رحم فرماتے اور اس کا حکم دیتے اور ان پر ظلم سے منع فرماتے تھے، فرمایا: [فِيْ كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ] [بخاري، المظالم، باب الآبار علی الطرق إذا لم یُتأذّبہا: ۲۴۶۶] ہر تر جگر (زندگی) والی چیز (پر رحم) میں اجر ہے۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر ایک بدکار عورت کو مغفرت کی نوید سنائی۔ شریعت اسلامیہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ رحمت بھی رب العالمین ہی کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے محبوب رسول میں یہ وصف رکھا۔ چنانچہ ابن جزی التسہیل میں اعراب کی یہ تینوں وجہیں لکھ کر فرماتے ہیں: {وَالْمَعْنٰي عَلٰي كُلِّ وَجْهٍ أَنَّ اللّٰهَ رَحِمَ الْعَالَمِيْنَ بِإِرْسَالِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ} ان تمام صورتوں میں معنی ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے کے ساتھ جہانوں پر رحم فرمایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے گا اس نے گویا اس رحمت کو قبول کرلیا اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ نتیجتًا دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہوگا اور اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پورے جہان کے لیے ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے جہان کے لیے رحمت بن کر یعنی اپنی تعلیمات کے ذریعے سے دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے آئے ہیں بعض لوگوں نے اس اعتبار سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جہان والوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے یہ امت بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کردی گئی جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی رہیں امت محمدیہ (جو امت اجابت اور امت دعوت کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے) پر اس طرح کا کلی عذاب نہیں آئے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے لیے بد دعا نہ کرنا یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا ایک حصہ تھا انی لم ابعث لعانا وانما بعثت رحمۃ (صحیح مسلم) اسی طرح غصے میں کسی مسلمان کو لعنت یا سب وشتم کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کا باعث قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا حصہ ہے (مسند احمد) اسی لیے ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انما رحمۃ مھداۃ (صحیح الجامع الصغیر) میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں جو اللہ کی طرف سے اہل جہان کے لیے ایک ہدیہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

107۔ اور ہم نے آپ کو تمام دنیا والوں کے لئے رحمت [95] بنا کر بھیجا ہے۔
[95] آپﷺ اہل جہاں کے لیے رحمت کیسے ہیں؟
اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ جہان والوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات اور آپ کی بعثت در اصل پوری نوع انسانی کے لئے رحمت ہے۔ آپ ہی کے ذریعہ غفلت میں پڑی ہوئی اور راہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو ایسا علم نصیب ہوا جو حق و باطل کی راہوں کو ممیز کر کے سیدھی راہ دکھلاتا اور اس پر چلاتا ہے۔ جس سے انسان نے دنیا کی زندگی اچھے طور پر گزارنے کے اصول اور ڈھنگ سیکھے۔ پھر اس راہ پر چلنے سے انسان کی اخروی زندگی بھی سنور جاتی ہے۔ آپ کی یہ مہربانی تو ان لوگوں پر تھی جو آپ پر ایمان لائے اور بد کرداروں اور کافروں کے لئے آپ کی ذات باعث رحمت تھی، چنانچہ ارشاد باری ہے۔ ﴿وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ [33: 8] یعنی جب تک آپ ان کافروں کے درمیان موجود ہیں اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا۔ علاوہ ازیں آپ ہی کی دعا کی وجہ سے خسف اور مسخ اور بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے والے عذاب موقوف ہوئے اور مسلمانوں پر آپ کی رحمت کی داستان تو اتنی طویل ہے جس کا حصر یہاں ممکن نہیں۔ قرآن نے واضح الفاظ میں بتلا دیا کہ آپ مومنوں کے حق میں رحمت بھی تھے اور رحیم بھی۔ کفار مکہ آپ کی بعثت کو اپنے لئے ایک مصیبت سمجھتے اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے اور باپ سے بیٹے کو اور بھائی سے بھائی کو غرض سب قریبی رشتہ داروں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کے اسی قول کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نادانو! جس ہستی کو تم مصیبت سمجھ رہے ہو۔ مسلمان تو درکنار وہ تمہارے لئے بھی اللہ کی رحمت ہے۔ کیونکہ علوم نبوت اور تہذیب و انسانیت کے جو اصول وہ پیش کر رہا ہے ان سے سب مسلم و کافر اپنے اپنے مذاق کے موافق مستفید ہو رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔