وَ لَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ یہ زمین، اس کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔
اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے
ہم زبور میں پند ونصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 105){وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ …:} زبور کا معنی کتاب ہے، یہاں زبور سے مراد داؤد علیہ السلام کی کتاب ہے اور ذکر سے مراد نصیحت ہے، جیسا کہ ترجمہ کیا گیا ہے، کیونکہ موجودہ زبور میں یہ بات موجود ہے۔ یا پھر زبور سے مراد گزشتہ آسمانی کتابیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے، یعنی پہلے لوح محفوظ میں یہ بات درج ہے اور اس کے بعد آسمانی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی جاتی رہی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہوں گے۔ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا کونی فیصلہ بھی ہے اور شرعی بھی۔ اس زمین سے کیا مراد ہے؟ آیات کے سیاق و سباق کو دیکھنے سے بات صاف سمجھ میں آ رہی ہے کہ اس سے مراد زمین و آسمان کی بساط لپیٹنے کے بعد وجود میں آنے والی زمین ہے، جو بطور انعام اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کو عطا کی جائے گی اور وہ ان کی دائمی اور ابدی وراثت ہو گی۔ چنانچہ موجودہ زبور اگرچہ تحریف سے خالی نہیں مگر یہ حوالہ اس میں بھی موجود ہے: ”صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“ [زبور، باب: ۳۷، آیت: ۲۹] قرآن مجید میں بھی بطور انعام ملنے والی اس وراثت کا ذکر ہے جو ہمیشہ رہے گی، چنانچہ فلاح پانے والے مومنوں کے اوصاف ذکر کرنے کے بعد فرمایا: «{اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ (10) الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ}» [المؤمنون: ۱۰، ۱۱] ”یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں، جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ }» [الزمر: ۷۴] ”اور وہ (جنتی) کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ ہم جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنا لیں، سو یہ عمل کرنے والوں کا اچھا اجر ہے۔“ زبور اور قرآن دونوں سے معلوم ہوا کہ صالحین کو بطور انعام ملنے والی وراثت ارضِ جنت ہے، کیونکہ ہمیشہ کا بسیرا وہی ہے۔ رہی موجودہ زمین، تو اس کی وراثت صالح و طالح، کافر و مسلم دونوں کو ملتی ہے اور صرف انعام کے طور پر نہیں، بلکہ امتحان کے لیے ملتی ہے اور ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ عارضی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ (128) قَالُوْا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ يَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ }» [الأعراف: ۱۲۸، ۱۲۹] ”موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے بناتا ہے اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔ انھوں نے کہا، ہمیں اس سے پہلے ایذا دی گئی کہ تو ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد بھی کہ تو ہمارے پاس آیا۔ اس نے کہا، تمھارا رب قریب ہے کہ تمھارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمھیں زمین میں جانشین بنا دے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔“ اس زمین کی وراثت نہ نیکی و بدی پر موقوف ہے اور نہ ابدی اور دائمی ہے، فرمایا: «{ وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ }» [آل عمران: ۱۴۰] ”اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔“ البتہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر مسلمان صحیح مومن ہوں تو دنیا میں بھی آخر وہی غالب رہیں گے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ }» [آل عمران: ۱۳۹] ”اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔“ اور فرمایا: «{ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ}» [النور: ۵۵] ”اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“ ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی زَوَی لِيَ الْأَرْضَ فَأُرِيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِيْ سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِيْ مِنْهَا وَأُعْطِيْتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ] [أبوداوٗد، الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن و دلائلھا: ۴۲۵۲، و صححہ الألباني]”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین تہ کر دی تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب دیکھ لیے اور میری امت کا ملک وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وہ میرے لیے تہ کی گئی ہے اور مجھے سرخ اور سفید (سونا اور چاندی) دو خزانے دیے گئے ہیں۔“ اور واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق چند ہی سالوں میں مسلمان زمین کے مشرق و مغرب کے مالک بن گئے، مگر جب ان میں ایمان اور عمل صالح کی کمی ہوئی، انھوں نے ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ میں کوتاہی کی اور عیش و عشرت میں پڑ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اور اپنے دشمن سزا دینے کے لیے مسلط کر دیے، جس طرح بنی اسرائیل پر بخت نصر کو مسلط کیا تھا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۵ تا ۷) معلوم ہوا ایسا نہیں ہے کہ جو بھی اس زمین کے کسی حصے کا مالک بن جائے وہ صالحین میں شمار ہو گیا، ورنہ فرعون، ہامان، قارون، شداد، نمرود، چنگیز، ہلاکو، ہٹلر، نپولین، بش، کمیونسٹ، گائے اور بتوں کے پجاری اور تثلیث کے فرزند اللہ کے صالح بندے شمار ہوں گے اور آج کل کے روشن خیال یہی چاہتے ہیں کہ مغرب کے مشرکوں، بدکاروں اور ہم جنس پرستوں کو صالح شمار کیا جائے، تاکہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے سے چھٹکارا مل جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 زبور سے مراد یا تو زبور ہی ہے اور ذکر سے مراد پندونصیحت جیسا کہ ترجمہ میں درج ہے یا پھر زبور سے مراد گذشتہ آسمانی کتابیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یعنی پہلے لوح محفوظ میں یہ بات درج ہے اور اس کے بعد آسمانی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی جاتی رہی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہونگے۔ زمین سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک جنت ہے اور بعض کے نزدیک ارض کفار۔ یعنی اللہ کے نیک بندے زمین میں اقتدار اور سرخرو رہے اور آئندہ بھی جب کبھی وہ اس صفت کے حامل ہوں گے، اس وعدہ الٰہی کے مطابق، زمین کا اقتدار انہی کے پاس ہوگا۔ اس لیے مسلمانوں کی محرومی اقتدار کی موجودہ صورت حال کسی اشکال کا باعث نہیں بننی چاہیے یہ وعدہ مشروط ہے صالحیت عباد کے ساتھ اور اذا فات الشرط فات المشروط کے مطابق جب مسلمان اس خوبی سے محروم ہوگئے تو اقتدار سے بھی محروم کردئیے گئے اس میں گویا حصول اقتدار کا طریقہ بتلایا گیا ہے اور وہ ہے صالحیت یعنی اللہ رسول کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا اور اس کے حدود و ضابطوں پر کاربند رہنا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
105۔ اور زبور میں ہم نے نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث [93] میرے نیک بندے ہوں گے۔
[93] صالحین کی نئی تعبیر خلافت ارضی اور صالحین کی بحث:۔
اس آیت کے معنی کی بعض اہل مغرب کے شیدائیوں نے نہایت غلط تعبیر پیش کی ہے۔ وہ اس آیت میں صالحون سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرمانروا اور نیک بخت بندے مراد نہیں لیتے بلکہ ان کے نزدیک صالحون سے مراد صلاحیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ یعنی جو لوگ بھی اس وقت روئے زمین پر حکمرانی کر رہے ہیں یا حکمرانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہی اللہ کے نزدیک صالح ہیں۔ خواہ وہ بد کردار ہوں، کافر ہوں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے بھی منکر ہوں اور یہ نظریہ کتاب و سنت کی مجموعی تعلیم کے سراسر منافی ہے۔ حالانکہ اس آیت اور اس سے پہلی آیات میں اخروی زندگی اور جنت کا ذکر ہو رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت اور جنت کی زمین کے وارث صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ کے فرمانبردار اور صالح لوگ ہیں اور اس معنی کی تائید سورۃ زمر کی درج ذیل آیت سے بھی ہو جاتی ہے: ﴿وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ﴾ [74: 39] ”اور اہل جنت کہیں گے کہ ہر طرح کی تعریف اللہ کو سزاوار ہے جس نے ہم سے اپنے وعدہ پورا کر دیا اور ہمیں زمین کا وارث بنا دیا ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں وہیں رہتے ہیں“ رہی اس دنیا کی وراثت تو اس کے متعلق فرمایا: ﴿اِنَّ الاَرْضَ نُوْرِِثُهَا مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ﴾ [7: 128] ”زمین اللہ تعالیٰ ہی کی ہے وہ اپنے بندوں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے“ گویا اس موجودہ دنیا میں زمین کی وراثت کے لئے ضروری نہیں کہ وہ نیک لوگوں کو ہی ملے۔ بلکہ بد کردار اور فاسق و فاجر بھی اس پر قابض ہو سکتے ہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ضرور ہے کہ جو ایماندار اپنے دعویٰ ایمان میں اور صالح اعمال کرنے میں سچے اور مخلص ہیں۔ حق و باطل کے معرکہ میں اللہ انھیں ہی کامیاب کرتا ہے۔
خلافت ارضی کے لیے شرائط:
جیسا کہ فرمایا: ﴿وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾ [3: 139] ”اور اگر تم (اپنے اقوال و اعمال میں) مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے“ اور ایسے ہی لوگوں کے حق میں اللہ نے فرمایا: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ [24: 55] ”تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ایسے ہی خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا“ یعنی اللہ تعالیٰ کا وعدہ نام نہاد مسلمانوں کے لئے حکمرانی کا نہیں بلکہ سچے ایمانداروں اور فرمانبرداروں سے خلافت ارضی کا وعدہ ہے جو اقتدار ملنے کے بعد دنیا دار قسم کے حکمران نہیں بلکہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام خلافت قائم کرنے والے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سچا فیصلہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک و مال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت «إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:128] ’ زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے ‘۔
اور فرمان ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» ۱؎ [24-النور:55] ’ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے ‘۔
اور فرمایا کہ ’ یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا ‘۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔
ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔“
یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”صالح لوگ ہم ہی ہیں۔“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ’ اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں ‘۔
پھر فرماتا کہ ’ ہم نے اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے ‘۔
جیسے ارشاد ہے کہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27-28] ’ کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا ‘۔
اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ’ یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں ‘۔
اور فرمان ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» ۱؎ [24-النور:55] ’ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے ‘۔
اور فرمایا کہ ’ یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا ‘۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔
ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔“
یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”صالح لوگ ہم ہی ہیں۔“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ’ اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں ‘۔
پھر فرماتا کہ ’ ہم نے اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے ‘۔
جیسے ارشاد ہے کہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27-28] ’ کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا ‘۔
اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ’ یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں ‘۔
صحیح مسلم میں ہے کہ { ایک موقع پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے لیے بدعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2599]
اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں } }۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490،] اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے }۔
طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔
اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،]
اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں } }۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490،] اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے }۔
طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔
اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،]
مسند احمد میں ہے { سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے حذیفہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ { جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4659،قال الشيخ الألباني:صحیح]
رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”مؤمنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔“
رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”مؤمنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔“