ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 101

اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتۡ لَہُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰۤی ۙ اُولٰٓئِکَ عَنۡہَا مُبۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ۙ
بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہو چکی، وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔
جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ اس سے دور رکھے جائیں گے
البتہ بے شک جن کے لئے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے۔ وه سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101){ اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى …: الْحُسْنٰۤى اَلْأَحْسَنُ} کی مؤنث ہے، معنی ہے سب سے اچھی چیز۔ مراد وہ سعادت اور خوش قسمتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کی تقدیر میں لکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی وجہ سے جہنم میں جانے والوں کے ذکر کے بعد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والوں کا ذکر فرمایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سعادت اورنیک اعمال کی توفیق یا معافی مقدر کر دی ہے اور وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے مراد وہ صالحین، انبیاء اور فرشتے لیے ہیں جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے۔ ان کے مطابق یہ آیت مشرکین کے جواب میں اتری ہے جنھوں نے اعتراض کیا تھا کہ اگر اللہ کے علاوہ جن کی عبادت کی گئی ہے وہ جہنم میں جائیں گے تو لوگوں نے عبادت فرشتوں اور پیغمبروں کی بھی کی ہے۔ جواب یہ دیا گیا کہ یہ لوگ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ اگرچہ اس آیت میں اس اعتراض کا جواب بھی موجود ہے، تاہم آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے اس میں فرشتوں، پیغمبروں اور صالحین کے ساتھ تمام سعادت مند مومن بھی شامل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاص اسلوب ہے کہ وہ جنت و جہنم اور نیک و بد دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ فرماتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سعادت مند لوگوں کو عطا ہونے والی پانچ نعمتیں ذکر فرمائی ہیں، جن میں سے پہلی یہ ہے کہ وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 بعض لوگوں کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا تھا یا مشرکین کی طرف سے پیدا کیا جاسکتا تھا، جیسا کہ فی الواقع کیا جاتا ہے کہ عبادت تو حضرت عیسیٰ و عزیز علیہالسلام، فرشتوں اور بہت سے صالحین کی بھی کی جاتی ہے تو کیا یہ بھی اپنے عابدین کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے؟ اس آیت میں اس کا ازالہ کردیا گیا ہے کہ یہ لوگ تو اللہ کے نیک بندے تھے جن کی نیکیوں کی وجہ سے اللہ کی طرف سے ان کے لئے نیکی یعنی سعادت ابدی یا بشارت جنت ٹھہرائی جا چکی ہے۔ یہ جہنم سے دور ہی رہیں گے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ بلا شبہ جن لوگوں کے لئے ہمارے طرف سے پہلے ہی بھلائی [89] مقدر ہو چکی ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔
[89] کون سے معبود جہنم سے بچائے جائیں گے:۔
جب یہ آیت نازل ہوئی کہ مشرکین سب اپنے معبودوں سمیت جہنم کا ایندھن بنیں گے تو مشرک کہنے لگے کہ ہم تو ان بتوں کے علاوہ فرشتوں کو بھی پوجتے ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰؑ کو اور یہود نے عزیرؑ کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا یہ فرشتے اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت عزیرؑ سب جہنم میں جائیں گے؟ اس سوال کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیا کہ جو شخص بھی خود یہ چاہتا ہو کہ اس کی عبادت کی جائے وہ یقیناً جہنم میں جائے گا۔ اور اسی حوالہ کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نازل فرمایا اور ہر دو جواب کی رو سے فرشتے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت عزیرؑ اور ان کے علاوہ تمام ہستیاں بھی مستثنیٰ قرار دے دی گئیں۔ جو خود تو اللہ کے نیک بندے اور صرف اللہ ہی کے عبادت گزار تھے لیکن بعد میں لوگوں نے انھیں پوجنا شروع کر دیا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ حضرت نوحؑ کی قوم جن پانچ بتوں، ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو پکارتے تھے وہ حقیقتاً اللہ کے عبادت گزار بندے تھے۔ اور اللہ دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ بعد میں شیطان نے لوگوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ ان بزرگوں کے مجسمے بنا کر اپنے پاس رکھ لیا کرو۔ تاکہ تمہیں اللہ کی عبادت میں وہی مزا آئے جو ان بزرگوں کی موجودگی میں آتا تھا۔ چنانچہ ابتداًء ان کے مجسمے اس غرض سے تراشے گئے تھے پھر بعد کے لوگوں نے انہی مجسموں کی عبادت شروع کر دی۔ [بخاري، كتاب التفسير]
اور اس طرح شیطان اپنے شر میں کامیاب ہو گیا اور بنی نوع انسان میں شرک کا آغاز ہوا۔ پھر شرک صرف یہی نہیں ہوتا کہ انسان کسی کے سامنے سجدہ کرے یا ایسے آراء بجا لائے جو اللہ کے لئے مختص ہیں یا ان کے سامنے قربانی یا نذر و نیاز دے بلکہ کسی بھی چیز کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر اسے پکارا جائے تو یہ بھی واضح شرک ہے۔ اور ایسے ”بزرگوں“ کی بھی اس دنیا میں کمی نہیں جو اس قسم کی تعظیم و تکریم کے متمنی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی فی الواقع جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اور جن لوگوں کو بعد میں معبود بنا دیا گیا۔ حالانکہ وہ خود ان باتوں سے منع کرتے رہے۔ انھیں جہنم کی ہوا بھی نہ لگے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔