اس آیت کی تفسیر آیت 92 میں تا آیت 94 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
93۔ 1 یعنی اگر انہوں نے تیری بات ماننے سے انکار کردیا تھا، تو تجھ کو فوراً میرے پیچھے کوہ طور پر آ کر مجھے بتلانا چاہیے تھا تو نے بھی میرے حکم کی پروا نہ کی۔ یعنی جانشینی کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
93۔ کہ تم لوگ میری پیروی نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی [64] کی؟
[64]موسیٰؑ قوم کی طرف سے یہ عذر لنگ سن کر اسی غصہ کی حالت میں اپنے بھائی ہارون کی طرف متوجہ ہوئے اور جوش غضب میں ان کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لئے اور کہنے لگے۔ میں تمہیں اپنا نائب بنا کر گیا تھا اور یہ تاکید کی تھی کہ ان لوگوں کے حالات پر کڑی نظر رکھنا تو پھر جب تم نے انھیں شرک میں مبتلا ہوتے دیکھا تو تم نے انھیں کیوں منع نہ کیا؟ آخر وہ کون سی بات تھی جو تمہارے آڑے آگئی تھی کہ تم نے انھیں منع بھی کیا؟ کیا تم میری اس تاکید کو یکسر بھول گئے تھے کہ اس بگڑی ہوئی قوم پر کڑی نظر رکھنا اور ان کی اصلاح کی پوری کوشش کرتے رہنا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کوہ طور سے واپسی اور بنی اسرائیل کی حرکت پہ غصہ ٭٭
موسیٰ علیہ السلام سخت غصے اور پورے غم میں لوٹے تھے۔ تختیاں زمین پردے ماریں اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی طرف غصے سے بڑھ گئے اور ان کے سر کے بال تھام کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور وہیں وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے کہ سننا دیکھنے کے مطابق نہیں۔ آپ نے اپنے بھائی اور اپنے جانشین کو ملامت کرنی شروع کی کہ اس بت پرستی کے شروع ہوتے ہی تو نے مجھے خبر کیوں نہ کی؟ کیا جو کچھ میں تجھے کہہ گیا تھا، تو بھی اس کا مخالف بن بیٹھا؟ میں تو صاف کہہ گیا تھا کہ میری قوم میں میری جانشینی کر۔ اصلاح کے درپے رہ اور مفسدوں کی نہ مان۔ ہارون علیہ السلام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے (کہا) کہ موسیٰ علیہ السلام کو زیادہ رحم اور محبت آئے ورنہ باپ الگ الگ نہ تھے، باپ بھی ایک ہی تھے، دونوں سگے بھائی تھے۔ آپ عذر پیش کرتے ہیں کہ جی میں تو میرے بھی آئی تھی کہ آپ کے پاس آ کر آپ کو اس کی خبر کروں لیکن پھر خیال آیا کہ انہیں تنہا چھوڑنا مناسب نہیں۔ کہیں آپ مجھ پر نہ بگڑ بیٹھیں کہ انہیں تنہا کیوں چھوڑ دیا؟ اور اولاد یعقوب میں یہ جدائی کیوں ڈال دی؟ اور جو میں کہہ گیا تھا، اس کی نگہبانی کیوں نہ کی؟ بات یہ ہے کہ ہارون علیہ السلام میں جہاں اطاعت کا پورا مادہ تھا، وہاں موسیٰ علیہ السلام کی عزت بھی بہت کرتے تھے اور ان کا بہت ہی لحاظ رکھتے تھے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔