یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ قَدۡ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنۡ عَدُوِّکُمۡ وَ وٰعَدۡنٰکُمۡ جَانِبَ الطُّوۡرِ الۡاَیۡمَنَ وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ﴿۸۰﴾
اے بنی اسرائیل! بے شک ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سے نجات دی اور تمھیں پہاڑ کی دائیں جانب کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔
En
اے آل یعقوب ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لئے تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا
En
اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوه طور کی دائیں طرف کا وعده کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 80) ➊ { يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنٰكُمْ …:} یہ تین آیتیں موسیٰ علیہ السلام کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے دو آیات (۵۵، ۵۶) گزر چکی ہیں۔ اس آیت میں موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بنی اسرائیل مخاطب ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہود کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروائی جا رہی ہوں، جیسا کہ «{ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ }» [البقرۃ: ۴۰، ۴۷، ۱۲۲] میں ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تین نعمتیں یاد دلائیں۔ سب سے پہلے غلامی سے نجات کی عظیم نعمت، اس کے بعد طور پر بلا کر دینی احکام پر مشتمل کتاب عطا کرنے کی نعمت اور آخر میں بلامشقت من و سلویٰ کا پاکیزہ اور لذیذ ترین رزق عطا کرنے کی نعمت۔ من و سلویٰ کی تفسیر کے لیے دیکھیں سورۂ بقرہ (۵۷)۔
➋ { وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ …:} اس واقعہ کا ذکر سورۂ بقرہ (۵۲) میں بھی ہے اور اس کی تفصیل سورۂ اعراف (۱۴۲ تا ۱۴۷) میں ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہاڑ کی دائیں جانب سے مراد کیا ہے؟ کیونکہ پہاڑ کی ہر جانب ہی کھڑے ہونے والے شخص کے لحاظ سے دائیں بھی ہو سکتی ہے اور بائیں بھی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ زمانۂ جاہلیت اور اسلام میں جغرافیہ اور محل وقوع میں جہتوں کے تعین کے لیے مشرق کو اصل قرار دیا گیا ہے، چنانچہ یمن اور شام کے نام اسی مناسبت سے رکھے گئے ہیں کہ کعبہ سے مشرق کی طرف رخ کریں تو دائیں طرف یمن ہے، جس کا معنی دایاں ہے اور بائیں طرف شام۔ امرؤ القیس نے بھی ایک بادل کے برسنے کا محل وقوع بیان کرتے ہوئے کہا ہے:
{عَلٰي قَطَنٍ بِالشَّيْمِ أَيْمَنُ صَوْبِهِ
وَ أَيْسَرُهُ عَلَي السِّتَارِ فَيَذْبُلِ }
”غور سے دیکھنے پر اس کی بارش کا دایاں حصہ قطن مقام پر تھا اور اس کا بایاں حصہ ستار پھر یذبل نامی مقام پر تھا۔“
اس صورت میں اگر {” الْاَيْمَنَ “} سے مراد دائیں جانب لیں تو موسیٰ علیہ السلام کے طور کی مغربی جانب اس کی طرف رخ کرکے کھڑے ہونے پر پہاڑ کی دائیں طرف (جنوب) مراد ہو گی، جیسا کہ مدین سے مصر کو آتے ہوئے پہلی وحی کے وقت وہ پہاڑ کی مغربی جانب میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ }» [القصص: ۴۴] ”اور اس وقت تو مغربی جانب میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی۔“ اور اگر {” الْاَيْمَنَ “} کو {”يَمِيْنٌ“} (دائیں) کے بجائے {”يُمْنٌ“} (برکت) سے اسم تفضیل مانیں تو دائیں بائیں کی تعیین کی ضرورت ہی نہیں بلکہ طور کی جانب ایمن (بابرکت جانب) اور اس سورت کی آیت (۱۲): «{ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى }» میں مذکور وادی مقدس دونوں سے مراد وادی طویٰ ہو گی۔ (ابن عاشور)
➋ { وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ …:} اس واقعہ کا ذکر سورۂ بقرہ (۵۲) میں بھی ہے اور اس کی تفصیل سورۂ اعراف (۱۴۲ تا ۱۴۷) میں ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہاڑ کی دائیں جانب سے مراد کیا ہے؟ کیونکہ پہاڑ کی ہر جانب ہی کھڑے ہونے والے شخص کے لحاظ سے دائیں بھی ہو سکتی ہے اور بائیں بھی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ زمانۂ جاہلیت اور اسلام میں جغرافیہ اور محل وقوع میں جہتوں کے تعین کے لیے مشرق کو اصل قرار دیا گیا ہے، چنانچہ یمن اور شام کے نام اسی مناسبت سے رکھے گئے ہیں کہ کعبہ سے مشرق کی طرف رخ کریں تو دائیں طرف یمن ہے، جس کا معنی دایاں ہے اور بائیں طرف شام۔ امرؤ القیس نے بھی ایک بادل کے برسنے کا محل وقوع بیان کرتے ہوئے کہا ہے:
{عَلٰي قَطَنٍ بِالشَّيْمِ أَيْمَنُ صَوْبِهِ
وَ أَيْسَرُهُ عَلَي السِّتَارِ فَيَذْبُلِ }
”غور سے دیکھنے پر اس کی بارش کا دایاں حصہ قطن مقام پر تھا اور اس کا بایاں حصہ ستار پھر یذبل نامی مقام پر تھا۔“
اس صورت میں اگر {” الْاَيْمَنَ “} سے مراد دائیں جانب لیں تو موسیٰ علیہ السلام کے طور کی مغربی جانب اس کی طرف رخ کرکے کھڑے ہونے پر پہاڑ کی دائیں طرف (جنوب) مراد ہو گی، جیسا کہ مدین سے مصر کو آتے ہوئے پہلی وحی کے وقت وہ پہاڑ کی مغربی جانب میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ }» [القصص: ۴۴] ”اور اس وقت تو مغربی جانب میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی۔“ اور اگر {” الْاَيْمَنَ “} کو {”يَمِيْنٌ“} (دائیں) کے بجائے {”يُمْنٌ“} (برکت) سے اسم تفضیل مانیں تو دائیں بائیں کی تعیین کی ضرورت ہی نہیں بلکہ طور کی جانب ایمن (بابرکت جانب) اور اس سورت کی آیت (۱۲): «{ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى }» میں مذکور وادی مقدس دونوں سے مراد وادی طویٰ ہو گی۔ (ابن عاشور)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
80۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کوہ طور پر تمہیں یعنی تمہارے نمائندے بھی ساتھ لے کر آئیں تاکہ تمہارے سامنے ہی ہم موسیٰ ؑ سے ہم کلام ہوں، یا ضمیر جمع اس لئے لائی گئی کہ کوہ طور پر موسیٰ ؑ کو بلانا، بنی اسرائیل ہی کی خاطر اور انہی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
80۔ اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور طور کی دائیں جانب تمہیں (کتاب دینے کا) وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
احسانات کی یاد دہانی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا۔ جیسے فرمان ہے «وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ» [2-البقرة:50]۔ ’ یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ ‘
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا، پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4680]
پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ وغیرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لیے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آ جاتے تھے، یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ، اس میں حد سے نہ گزر جاؤ، حرام چیز یا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا۔
شغی بن مانع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے، میں اس کی توبہ قبول فرماتا ہوں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا، پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4680]
پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ وغیرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لیے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آ جاتے تھے، یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ، اس میں حد سے نہ گزر جاؤ، حرام چیز یا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا۔
شغی بن مانع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے، میں اس کی توبہ قبول فرماتا ہوں۔
دیکھو بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک، گناہ و معصیت پر کوئی ہو، پھر وہ اسے بخوف الٰہی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ ہاں دل میں ایمان ہو اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر، شکی نہ ہو، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کی روش پر ہو۔ اس میں ثواب جانتا ہو، یہاں پر «ثم» کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لیے آیا ہے۔ جیسے فرمان ہے «ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّالِحاتِ» ۔ ۱؎ [90-البلد:17]