(آیت 8){ اَللّٰهُلَاۤاِلٰهَاِلَّاهُوَ …:} یعنی جس ہستی کی یہ صفات بیان ہوئی ہیں وہ اللہ ہے جس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ {”لَهُالْاَسْمَآءُالْحُسْنٰى“} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 یعنی معبود وہی ہے جو مذکورہ صفات سے متصف ہے اور بہترین نام بھی اسی کے ہیں جن سے اس کو پکارا جاتا ہے۔ نہ معبود اس کے سوا کوئی اور ہے اور نہ اس کے اسمائے حسنٰی ہی کسی کے ہیں۔ پس اسی کی صحیح معرفت حاصل کر کے اسی سے ڈرایا جائے، اسی سے محبت رکھی جائے، اسی پر ایمان لایا جائے اور اسی کی اطاعت کی جائے۔ تاکہ انسان جب اس کی بارگاہ میں واپس جائے تو وہاں شرمسار نہ ہو بلکہ اس کی رحمت و مغفرت سے شاد کام اور اس کی رضا سے سعادت مند ہو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس کے سارے ہی نام [7] اچھے ہیں
[7] اسماء الحسنیٰ:۔
اسماء سے مراد نام بھی ہیں۔ اور احادیث صحیحہ میں ننانوے نام مذکور ہیں۔ جبکہ کتاب و سنت کا استقصاء کرنے پر کئی نام بھی ملتے ہیں۔ اور اسماء سے مراد صفات بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے یہ سب نام اللہ تعالیٰ کی صفات ہی کا اظہار کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ سب صفاتی نام ہیں۔ مگر ان میں سے دو نام ایسے ہیں جو صرف اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں، کسی دوسری مخلوق کے یہ نام نہیں ہو سکتے۔ ایک اللہ اور دوسرا رحمٰن۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔