ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 74

اِنَّہٗ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ ؕ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَ لَا یَحۡیٰی ﴿۷۴﴾
بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا تو یقینا اسی کے لیے جہنم ہے، نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا۔ En
جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے۔ جس میں نہ مرے گا نہ جیئے گا
En
بات یہی ہے کہ جو بھی گنہگار بن کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوگا اس کے لئے دوزخ ہے، جہاں نہ موت ہوگی اور نہ زندگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 74){لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِيْنَ هُمْ أَهْلُهَا، فَإِنَّهُمْ لاَ يَمُوْتُوْنَ فِيْهَا وَلاَ يَحْيَوْنَ، وَلٰكِنْ نَاسٌ مِنْكُمْ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوْبِهِمْ فَأَمَاتَهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰی إِمَاتَةً، حَتّٰی إِذَا كَانُوْا فَحْمًا أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ، فَجِيْئَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ، فَبُثُّوْا عَلَی أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ قِيْلَ! يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! أَفِيْضُوْا عَلَيْهِمْ، فَيَنْبُتُوْنَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُوْنُ فِيْ حَمِيْلِ السَّيْلِ] [مسلم، الإیمان، باب إثبات الشفاعۃ و إخراج الموحدین من النار: ۱۸۵، عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ]آگ والے، جو اسی میں رہنے والے ہیں، وہ تو اس میں نہ مریں گے اور نہ جییں گے اور لیکن کچھ لوگ، جنھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ لگ جائے گی تو اللہ تعالیٰ انھیں ایک طرح کی موت دے دے گا، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو شفاعت کا اذن ہو جائے گا۔ سو انھیں ڈھیروں کی صورت میں لایا جائے گا اور وہ جنت کی نہروں (کے کناروں) پر بکھیر دیے جائیں گے، پھر کہا جائے گا کہ اے جنتیو! ان پر پانی انڈیلو، تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کی لائی مٹی میں جڑی بوٹیوں کے بیج (فوراً) اگ آتے ہیں۔ نہ مرے گا اور نہ جیے گا کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ فاطر (۳۶)، ابراہیم (۱۵ تا ۱۷)، نساء (۵۶)، اعلیٰ (۱۱ تا ۱۳) اور زخرف (۷۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74۔ 1 یعنی عذاب سے تنگ آ کر موت کی آرزو کریں گے، تو موت نہیں آئے گی اور رات دن عذاب میں مبتلا رہنا، کھانے پینے کو زقوم جیسا تلخ درخت اور جہنمیوں کے جسموں سے نچڑا ہوا خون

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ بات یہ ہے [52] کہ جو شخص مجرم بن کر اپنے پروردگار کے پاس آئے گا اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا [53] اور نہ جئے گا۔
[52] ایمان لانے والے جادوگروں کا بیان ختم ہو کر اب یہ آیت اور اس سے اگلی دو آیات اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جن میں ساتھ ہی ساتھ تذکیر و نصائح اور اشارات کا سلسلہ بھی حسب دستور چل رہا ہے۔
[53] دنیا کی تکلیفیں خواہ کس قدر زیادہ اور سخت ہوں۔ موت ان سب کا خاتمہ کر دیتی ہے اور دوزخ میں کافروں کو سب سے بڑی جو سزا ملے گی وہ یہ ہو گی کہ انھیں موت نہیں آئے گی۔ وہ موت کو ایسی مصیبت کی زندگی پر ترجیح دے گا اور اس کا مطالبہ یہی کرے گا مگر اسے موت نصیب نہ ہو گی۔ اور زندگی موت سے بھی بد تر ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایمان یافتہ جادوگروں پر فرعون کا عتاب ٭٭
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جادوگروں نے ایمان قبول فرما کر فرعون کو جو نصیحتیں کیں، انہیں میں یہ آیتیں بھی ہیں۔ اسے اللہ کے عذابوں سے ڈرا رہے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا لالچ دلا رہے ہیں کہ گنہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے جہاں موت تو کبھی آنے ہی کی نہیں لیکن زندگی بھی بڑی ہی مشقت والی موت سے بدتر ہو گی۔
جیسے فرمان ہے «لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:36]‏‏‏‏ ’ یعنی نہ تو موت ہی آئے گی نہ عذاب ہلکے ہوں گے، کافروں کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ ‘
اور آیتوں میں ہے «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى * الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ * ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [87-الأعلى:11-13]‏‏‏‏ ’ یعنی اللہ کی نصیحتوں سے بے فیض وہی رہے گا جو ازلی بدبخت ہو جو آخرکار بڑی سخت آگ میں گرے گا جہاں نہ تو موت آئے نہ چین کی زندگی نصیب ہو۔ ‘
اور آیت میں ہے کہ «وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [43-الزخرف:77]‏‏‏‏ ’ جہنم میں جھلستے ہوئے کہیں گے کہ اے داروغہ دوزخ! تم دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں موت ہی دیدے ‘ لیکن وہ جواب دے گا کہ نہ تم مرنے والے ہو نہ نکلنے والے۔