(آیت 7){ وَاِنْتَجْهَرْبِالْقَوْلِ …:} یعنی اگر تم اونچی آواز سے بات کرو تو وہ اسے بالاولیٰ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو سر (پوشیدہ بات) کو جانتا ہے اور اخفی (اس سے زیادہ پوشیدہ) کو بھی۔ سر سے مراد وہ بات ہے جو تنہائی میں چپکے سے کہی جائے اور اخفیٰ (اس سے زیادہ چھپی بات) وہ ہے جو ابھی دل میں ہو اور زبان پر نہ آئی ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 یعنی اللہ کا ذکر یا اس سے دعا اونچی آواز میں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر بات کو بھی جانتا ہے یا اَخْفَیٰ کے معنی ہیں کہ اللہ تو ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو اس نے تقدیر میں لکھ دیا اور ابھی تک لوگوں سے مخفی رکھا ہے۔ یعنی قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا اسے علم ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اگر آپ بلند آواز سے بات کریں [6] ہیں تو وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی خفی تر بات کو جانتا ہے۔
[6] خفی اور سر کا لغوی فرق:۔
اخفیٰ کا لفظ یسر سے زیادہ ابلغ ہے۔ یسر کا معنی پوشیدہ یا راز کی بات ہے۔ جو آپ کسی دوسرے سے کہہ دیں اور اسے تاکید کر دیں کہ وہ اور کسی کو نہ بتلائے۔ اور اخفیٰ سے مراد وہ بات خیال ہے جو کسی کے دل میں آئے لیکن وہ کسی سے بھی اس کا ذکر تک نہ کرے۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ کی وسعت قدرت و تصرف اور اختیار بیان کی گئی تھی۔ اس آیت میں لا محدود وسعت علم کا بیان ہوا ہے۔ یعنی قریش کو بتلایا جا رہا ہے کہ اللہ تمہاری سب سازشوں، شرارتوں اور کارستانیوں سے پوری طرح واقف ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔