(آیت 6){لَهٗمَافِيالسَّمٰوٰتِ …: ”الثَّرٰى“} گیلی مٹی کے نیچے سے مراد زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے، یعنی وہ عرش پر مستوی ہو کر آسمانوں سے لے کر زمین کی آخری گہرائی تک ہر چیز کی تدبیر ہی نہیں کر رہا بلکہ ان سب کا مالک بھی وہ اکیلا ہی ہے۔ ملک بھی اسی کا ہے، ملکیت بھی اسی کی۔ حاکم بھی وہی ہے، مالک بھی وہی۔ ہر چیز کا وجود، حرکت، سکون، تغیر یا ثبات سب کچھ اسی کے امر سے ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 ثَرَیٰ کے معنی ہیں السافلین یعنی زمین کا سب سے نچلا حصہ
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے، اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان [4] ہے اور جو کچھ زمین کی انتہائی گہرائی [5] میں ہے ان سب چیزوں کا وہی مالک ہے
[4] زمین اور آسمان کے درمیان کیا کچھ ہے:۔
زمین و آسمان کے درمیان بھی اللہ کی بے شمار مخلوق موجود ہے۔ مثلاً ہوا، بادل، اڑنے والے پرندے اور ہوائی جہاز، ایتھر، آسمان سے زمین کی طرف اترنے والے فرشتے اور زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرنے والے فرشتے، بد روحیں، فضا میں بروقت گردش کرنے والے سیارے، ٹوٹنے والے ستارے یہ چیزیں تو وہ ہیں جن کا ہمیں کسی نہ کسی طرح علم ہے۔ اور جو انسان کے علم میں نہیں آئیں ان کی تعداد اور ان کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
[5] اللہ کی مخلوق کہاں کہاں ہے؟
﴿ثريٰ﴾ کے لغوی معنی صرف گیلی مٹی ہے جو زمین کی تہوں میں ہے۔ اور یہ لفظ عموماً﴿ثريا﴾(کہکشاں) کے مقابلہ میں آتا ہے۔ ﴿ثريا﴾ سے مراد انتہائی بلندی اور ﴿ثريٰ﴾ سے مراد انتہائی پستی یا گہرائی لی جاتی ہے۔ گویا چار چیزیں یہاں مذکور ہوئی۔ ایک آسمان اور ان میں رہنے والی مخلوق، دوسرے زمین اور اس پر رہنے والی مخلوق تیسرے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی مخلوق اور چوتھے زمین کا اندرونی حصہ اور وہاں کی موجود مخلوق۔ ہر طرح کی مخلوق کا خالق و مالک اللہ ہی ہے اور وہ سب اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔