ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 57

قَالَ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا بِسِحۡرِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۵۷﴾
کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں ہماری سر زمین سے اپنے جادو کے ذریعے نکال دے اے موسیٰ! En
کہنے لگا کہ موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو
En
کہنے لگا اے موسیٰ! کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 57) ➊ { قَالَ اَجِئْتَنَا …: } فرعون نے یہ بات تمام نشانیاں دیکھنے کے بعد نہیں کہی، کیونکہ اگر ایسا ہو تو جادوگروں سے ہونے والا یہ مقابلہ طوفان، جراد، قمل وغیرہ حتیٰ کہ سمندر پھٹنے کے واقعہ کے بعد ماننا پڑے گا، کیونکہ { اٰيٰتِنَا كُلَّهَا } میں یہ سب شامل ہیں۔ اس لیے قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی صراحت کے مطابق فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ید بیضا والا معجزہ دیکھ کر یہ بات کہی۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۰۶ تا ۱۲۶) اور شعراء (۳۰ تا ۵۱)۔ (ابن عاشور)
➋ { لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا:} ہر باطل پرست اور جابر و ظالم حکمران جب داعی حق کے سامنے لاجواب ہو جاتا ہے تو اس کی دعوت ٹھکرانے کے لیے یہی ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے، یعنی اسے اقتدار کا بھوکا ہونے کا طعنہ دیتا ہے، گویا اقتدار پر قابض رہنا اس کا تو پیدائشی حق ہے مگر کسی دوسرے کے لیے اس کے قریب پھٹکنا بھی جائز نہیں۔
➌ { بِسِحْرِكَ } میں جادو کی اضافت موسیٰ علیہ السلام کے لیے آنے والی ضمیر (کاف) کی طرف کرنے میں ان معجزوں کی تحقیر مراد ہے کہ تو اپنے اس بے قدر و قیمت جادو کے ذریعے سے ہمیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے۔ تیرے اس جادو کی ہمارے کامل اور ماہر فن جادوگروں کے جادو کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

57۔ 1 جب فرعون کو دلائل واضح کے ساتھ وہ معجزات بھی دکھلائے گئے، جو عصا اور ید بیضا کی صورت میں حضرت موسیٰ ؑ کو عطا کئے گئے تھے، تو فرعون نے اسے جادو کا کرتب سمجھا اور کہنے لگا اچھا تو ہمیں اس جادو کے زور سے ہماری زمین سے نکالنا چاہتا ہے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

57۔ موسیٰ سے کہنے لگا: کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے [39] نکال دے؟
[39] فرعون کے اس قول سے اس کی بدحواسی پورے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ ورنہ اس کے ملک میں سینکڑوں جادوگر موجود تھے۔ جو لوگوں کو اور اسے بھی اپنی شعبدہ بازیاں دکھلاتے اور انعام و اکرام حاصل کر کے چلے جاتے تھے۔ ان میں سے کسی کے متعلق کبھی فرعون کو ایسا خیال نہ آیا تھا کہ یہ قحط بھی لا سکتے ہیں اور فرعون کو ملک بدر بھی کر سکتے ہیں۔ اور جو موسیٰؑ کو جادوگر کہنے کا ڈھونگ رچا رکھا تھا تو اس کی وجہ محض یہ تھی کہ اس کی رعایا ان سے متاثر ہو کر ان پر ایمان نہ لے آئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فرعون کے ساحر اور موسیٰ علیہ السلام ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہو جانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہو۔ جا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہو جائے اور مقابلہ ہو جائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آ جائیں اور تو بھی، ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لیے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آ جائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کر لیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب پر ظاہر ہو جائے گا۔ وقت دن چڑھے کا رکھنا چاہیئے تاکہ جو کچھ میدان میں آئے سب دیکھ سکیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان کی زینت اور عید کا دن عاشورے کا دن تھا۔ یہ یاد رہے کہ انبیاء علیہ السلام ایسے موقعوں پر کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ ایسا کام کرتے ہیں جس سے حق صاف واضح ہو جائے اور ہر ایک پرکھ لے۔ اسی لیے آپ نے ان کی عید کا دن مقرر کیا اور وقت دن چڑھے کا بتایا اور صاف ہموار میدان مقرر کیا کہ جہاں سے ہر ایک دیکھ سکے اور جو باتیں ہوں وہ بھی سن سکے وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے مہلت چاہی۔ موسیٰ علیہ السلام نے انکار کیا، اس پر وحی اتری کہ مدت مقرر کر لو۔ فرعون نے چالیس دن کی مہلت مانگی جو منظور کی گئی۔