(آیت 56){ وَلَقَدْاَرَيْنٰهُاٰيٰتِنَاكُلَّهَا …:} یہ آیت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی باہمی گفتگو ذکر کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کے قصے کو دوبارہ آگے بیان کرنے سے پہلے جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہے، یعنی فرعون کفر میں اتنا پکا تھا کہ ہماری تمام نشانیاں دیکھنے اور موسیٰ علیہ السلام کو دل سے سچا سمجھنے کے باوجود ایمان نہیں لایا، حتیٰ کہ اس نے آخری نشانی اپنی آنکھوں سے دیکھ لی کہ سمندر پھٹ گیا اور اس کے پانی کا ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل ان راستوں سے بخیریت گزر گئے (شعراء: ۶۳ تا ۶۶)، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لایا، بلکہ اپنے رب ہونے کے جھوٹے دعوے کو سچا ثابت کرنے کے لیے پوری فوج کو لے کر سمندر میں داخل ہو کر غرق ہوا، مگر غرق ہونے سے پہلے تک وہ جھٹلاتا اور انکار ہی کرتا رہا۔ دیکھیے سورۂ قمر (۴۱، ۴۲) اور یونس (۹۰ تا ۹۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
56۔ (غرض) ہم نے فرعون کو اپنی نشانیاں [38] دکھلائیں مگر وہ انھیں جھٹلاتا رہا اور کوئی بات تسلیم نہ کی۔
[38] فرعون سے موسیٰؑ کی پہلی ملاقات کے بعد یہاں درمیان کے کئی مراحل کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اسی دوران موسیٰؑ نے فرعون کو اپنی رسالت کی دلیل میں کئی نشانیاں بھی دکھائیں۔ جن کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے جب ملک پر کوئی آفت نازل ہوتی تو وہ سیدنا موسیٰؑ سے کہتا کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ اگر یہ آفت دور ہو گئی تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے۔ پھر جب سیدنا موسیٰؑ کی دعا سے وہ آفت دور ہو جاتی۔ تو وہ وعدہ خلافی کرتا اور پھر سے اکڑ جاتا تھا اور ایسا معاملہ کئی بار پیش آتا رہا۔ اور حقیقت یہ تھی کہ فرعون کو سیدنا موسیٰؑ کی رسالت کا یقین تو ہو چکا تھا مگر وہ اپنے اقتدار سے کسی قیمت پر الگ ہونے کو تیار نہ تھا۔ لہٰذا ہر بار انکار کر دیتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔