ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 35

اِنَّکَ کُنۡتَ بِنَا بَصِیۡرًا ﴿۳۵﴾
بے شک تو ہمیشہ ہمارے حال کو خوب دیکھنے والا رہا ہے۔ En
تو ہم کو (ہر حال میں) دیکھ رہا ہے
En
بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35){ اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيْرًا: كُنْتَ } میں { كَانَ } استمرار کے لیے ہے کہ بے شک تو ہمیشہ ہمارا نگران اور نگہبان رہا ہے۔ یعنی جب ہم بچے تھے اس وقت بھی تو نے ہماری پرورش کی اور ہمیں دشمنوں سے محفوظ رکھا، اب بھی تیری اسی رحمت کے وسیلے سے تیری جناب میں درخواست ہے کہ ہماری یہ دعائیں قبول فرما۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور پہلی نوازشوں کے وسیلے سے دعا کا سبق بھی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

35۔ 1 یعنی تجھے سارے حالات کا علم ہے اور بچپن میں جس طرح تو نے ہم پر احسان کئے، اب بھی اپنے احسانات سے ہمیں محروم نہ رکھ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ بلا شبہ تو ہمیں (ہر آن) دیکھ رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔