(آیت 23){ لِنُرِيَكَمِنْاٰيٰتِنَاالْكُبْرٰى:} یہاں {”مِنْ“} بعض کے معنی میں ہے، یعنی ہم نے عصا اور ید بیضا تمھیں اپنے چند بڑے معجزے دکھانے کے لیے عطا کیے ہیں۔ یہ معنی بھی ہے کہ ہم نے یہ معجزے تمھیں اپنے کچھ مزید بڑے معجزے دکھانے کے لیے دیے ہیں۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۰۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ یہ اس لئے کہ ہم تمہیں اپنی اپنی بڑی بڑی [18] نشانیاں دکھلانے والے ہیں
[18] یہ دو معجزات تو نبوت ملنے کے ساتھ ہی سیدنا موسیٰؑ کو دے دیئے گئے اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ آئندہ بھی عند الضرورت ہم آپ کو اپنے معجزات دکھلاتے رہیں گے۔ اور یہ دونوں معجزے آپ کو نبوت کی صداقت کے طور پر دیئے گئے تھے۔ پہلے معجزے میں جبروت الٰہی کا اظہار مقصود تھا۔ جو فرعون جیسے سرکش بادشاہ کے لئے ضرورت بات تھی اور دوسرے معجزہ میں ہدایت کے روشن راستے کی طرف اشارہ تھا جو مقصود انبیاء علیہم السلام ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
معجزات کی نوعیت ٭٭
’ دوسرا معجزہ ‘ موسیٰ علیہ السلام کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے۔ حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں، اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لیے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کر لیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔