(آیت 22){ وَاضْمُمْيَدَكَاِلٰىجَنَاحِكَ …:} دوسری جگہ اس کی تفصیل آئی ہے کہ حکم ہوا کہ اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے پہلو کے ساتھ لگاؤ گے تو وہ چمکتا ہوا سفید نکلے گا، مگر وہ سفیدی برص وغیرہ جیسا عیب نہیں ہو گی، بلکہ ایک معجزہ ہوگی۔ ”کسی عیب کے بغیر“ کی تصریح اس لیے فرمائی کہ برص کو بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22۔ 1 بغیر عیب اور روگ کے، کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھ کا اس طرح سفید اور چمک دار ہو کر نکلنا، کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہے جیسا کہ برص کے مریض کی چمڑی سفید ہوجاتی ہے۔ بلکہ یہ دوسرا معجزہ ہے، جو ہم تجھے عطا کر رہے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر ان دونوں معجزوں کا ذکر فرمایا (فَذٰنِكَبُرْهَانٰنِمِنْرَّبِّكَاِلٰىفِرْعَوْنَوَمَلَا۟ىِٕه) 28۔ القصص:32) ' پس یہ دو دلیلیں ہیں تیرے پروردگار کی طرف سے، فرعون اور اس کے سرداروں کے لئے '
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دباؤ۔ یہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا [17] ہوا نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے۔
[17] دوسرا معجزہ یہ دیا گیا کہ آپ اپنی بغل میں اپنا دایاں ہاتھ رکھتے پھر نکالتے تو وہ اس قدر چمکتا ہوا نکلتا تھا کہ اس سے نگاہیں خیرہ ہو جاتی تھیں۔ اس سے نہ تو سیدنا موسیٰؑ کو کچھ تکلیف ہوتی تھی اور نہ ہی یہ کسی بیماری کی علامت تھی اور یہ اس وقت تک چمکتا رہتا تھا جب تک آپ دوبارہ اس اپنی بغل میں نہ لے جاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔