ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 18

قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَ لِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰی ﴿۱۸﴾
کہا یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوںاور میرے لیے اس میں کئی اور ضرورتیں ہیں۔ En
انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی کئی فائدے ہیں
En
جواب دیا کہ یہ میری ﻻٹھی ہے، جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ { قَالَ هِيَ عَصَايَ …:} جواب میں اگرچہ اتنا ہی کہہ دینا کافی تھا کہ یہ میری لاٹھی ہے مگر موسیٰ علیہ السلام نے یہ بتانے کے بعد اس کے کئی فوائد بھی بیان کر دیے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے خیال کیا کہ یہ بات ظاہر ہے کہ میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے اور ظاہر بات کے متعلق سوال نہیں ہوتا، اس لیے انھوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اس لیے پوچھا ہے کہ میں بتاؤں کہ میں نے لاٹھی کیوں پکڑ رکھی ہے؟ اس لیے جواب میں یہ لاٹھی ہے کہہ کر اس کے چند فوائد بیان کیے، مگر آخر میں بات مختصر کر دی کہ اگر مزید وضاحت کی ضرورت ہوئی تو پھر پوچھ لیا جائے گا۔ (ابن عاشور) دوسری توجیہ علمائے معانی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کی لذت میں بے اختیار بات لمبی ہوتی گئی، مگر ایک طرف فرط محبت کا تقاضا تھا کہ بات لمبی سے لمبی ہوتی جائے، تو دوسری طرف ادب زیادہ بات کرنے سے مانع تھا، اس لیے ایک اپنی ضرورت ٹیک لگانا اور ایک اپنی بکریوں کی ضرورت پتے جھاڑنا بیان کر کے آخر میں یہ کہہ کر بات مختصر کر دی کہ {وَ لِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى } یہ توجیہ بھی بہترین ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے لاٹھی کے بہت سے دیگر فوائد بھی بیان کیے ہوں جن کا ماحصل اللہ تعالیٰ نے اپنے الفاظ میں بیان فرما دیا ہو۔ اس صورت میں یہ اختصار موسیٰ علیہ السلام کے کلام میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں ہو گا۔ (واللہ اعلم)
➋ { وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيْ …:} حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے {هَشٌّ} کا معنی یہ نقل کیا ہے کہ لاٹھی کے ساتھ ٹہنی کو ہلانا، تاکہ پتے گر پڑیں مگر شاخ نہ ٹوٹے۔ یہ لفظ لاٹھی مار کر پتے جھاڑنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ { وَ لِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى مَأْرَبَةٌ} (را کے فتحہ، کسرہ اور ضمہ کے ساتھ) کی جمع، حاجت یعنی وہ کام جن کی ضرورت پڑتی ہے۔ لاٹھی کے فوائد پر جاحظ نے کتاب العصا لکھی ہے جس میں لاٹھی کے فوائد اور عربوں کے بہت سے واقعات لکھے ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ ابن الاعرابی سے پوچھا گیا کہ { وَ لِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى} سے کیا مراد ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام کی تمام ضروریات تو بیان نہیں کر سکتا، البتہ لاٹھی کی ضرورت کی چند چیزیں تمھیں بتاتا ہوں، وہ یہ کہ لاٹھی سانپ، بچھو، بھیڑیے، بپھرے ہوئے سانڈ اور کھیت اجاڑنے والے جانوروں کے لیے ساتھ رکھی جاتی ہے۔ بڑی عمر کے بوڑھے، کمزور و بیمار لوگ، کٹی ہوئی ٹانگ والے اور لنگڑے اس کا سہارا لیتے ہیں، یہ انھیں دوسری ٹانگ کا کام دیتی ہے۔ اندھے کو قائد کا کام دیتی ہے۔ دھوبی، رنگ ریز اور تنور اور چولھے کی راکھ ہلانے والوں کے کام آتی ہے۔ چونا کوٹنے، تل وغیرہ چھڑنے کے کام آتی ہے۔ ڈاک لے جانے والوں اور کرائے کے جانوروں کے ساتھ جانے والوں کے کام آتی ہے کہ فاصلہ لمبا ہو تو وہ لاٹھی کے سہارے چھلانگ لگاتے جاتے ہیں۔ فالج زدہ کے جھکاؤ کو سیدھا کرتی ہے اور رعشہ کے مریض کے لرزہ کو کنٹرول کرتی ہے۔ چرواہے اسے بکریوں کے لیے اور تمام سوار اپنی سواری کے لیے ساتھ رکھتے ہیں۔ کوئی بھاری بوجھ ہو تو اس میں داخل کرکے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات دو آدمی اس کا ایک ایک کنارہ پکڑ لیتے ہیں۔ چاہو تو دیوار میں ٹھونک کر میخ بنا لو یا کھلی جگہ میں گاڑ کر سترہ بنا لو یا چھتری بنا لو۔ اگر نوک لگا دو تو برچھی بن جائے گی، کچھ اور بڑھا دو تو نیزہ بن جائے گی۔ لاٹھی کوڑے کا کام بھی دیتی ہے اور اسلحہ بھی ہے۔ کندھے پر رکھ کر اس کے ساتھ کمان، ترکش اور پانی یا دودھ وغیرہ کا برتن بھی لٹکا سکتے ہو۔ کنویں سے پانی نکالنے کے لیے رسی چھوٹی ہو تو لاٹھی ساتھ ملا کر پانی نکال سکتے ہو۔ چادر اس کے اوپر ڈال کر سایہ حاصل کر سکتے ہو اور درندوں کا مقابلہ کر سکتے ہو وغیرہ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ موسیٰ نے جواب دیا: ”یہ میری لاٹھی [14] ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں (علاوہ ازیں) میرے لیے اس میں اور بھی کئی فوائد [15] ہیں
[14] وحی الٰہی کی لذت:۔
اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب اتنا ہی کافی اور مکمل تھا کہ ”یہ میری لاٹھی ہے“ مگر اس آواز میں کچھ ایسی لذت تھی کہ ان لذت کے لمحات کو موسیٰؑ طول دینا چاہتے تھے۔ لہٰذا ساتھ ہی اور بھی کئی متعلقہ باتیں بتلا دیں تاکہ انھیں کچھ دیر مزید ہم کلامی کا شرف حاصل رہے۔
[15] مثلاً اپنی بھیڑوں کو ہانکتا ہوں، ریوڑ کی حفاظت کرتا ہوں، درندوں کے حملہ سے بچاتا اور ان کا تعاقب کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔
اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔
ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔
لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟