وَ اَنَّکَ لَا تَظۡمَؤُا فِیۡہَا وَ لَا تَضۡحٰی ﴿۱۱۹﴾
اور یہ کہ تو اس میں نہ پیاسا ہو گا اور نہ دھوپ کھائے گا۔
En
اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ
En
اور نہ تو یہاں پیاسا ہوتا ہے نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 118 میں تا آیت 120 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
119۔ نہ پیاس لگتی ہے اور نہ دھوپ [85]۔
[85] جنت میں بلا مشقت ہر طرح کا آرام تھا:۔
جنت میں انسان کی ضروریات کا سامان بھی موجود تھا اور ان کے علاوہ عیش و عشرت کے لئے وافر نعمتیں بھی موجود تھیں اور سیدنا آدمؑ کو بتلایا یہ گیا تھا کہ اگر تم شیطان کے فریب میں آگئے تو نہ صرف یہ کہ تم سے جنت کی نعمتیں چھین لی جائیں گی بلکہ تمہیں اپنی ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لئے جد و جہد بھی کرنا پڑے گی اور ان کے لئے مشقت بھی اٹھانا ہو گی۔ مثلاً دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لئے مکان بنانا ہو گا اور کھانے پینے کے لئے کوئی ذریعہ معاش اختیار کرنا ہو گا اور پہننے کے لئے لباس کی ضرورت بھی پیش آئے گی اور تمہاری زندگی کا بیشتر حصہ انھیں باتوں کے حصول میں صرف ہو جائے گا۔ جنت کی دوسری نعمتیں تو کم ہی کسی کو میسر آئیں گی۔ لہٰذا اللہ کے حکم کو دھیان کے ساتھ یاد رکھنا اور شیطان کے فریب میں نہ آجانا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ }
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔
صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6614]
اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6614]
اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔