(آیت 107){ لَاتَرٰىفِيْهَاعِوَجًاوَّلَاۤاَمْتًا: ”عِوَجًا“} کجی، مراد نیچی جگہ ہے۔ {”اَمْتًا“} معمولی ابھری ہوئی جگہ، یعنی ہر بلندی اور پستی، حتیٰ کہ سمندروں کی گہرائی اور پہاڑوں کی بلندی ختم ہو کر پوری زمین بالکل ہموار ہو جائے گی، جس میں ذرہ برابر نیچی یا اونچی جگہ دکھائی نہ دے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
107۔ کہ آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہ دیکھیں [75] گے۔
[75] نفخۂ صور اول کے اثرات:۔
یعنی پہاڑوں کو پیوند خاک بنا دیا جائے، سمندروں کو پاٹ دیا جائے گا۔ زمین کے سب نشیب فراز ختم کر دیئے جائیں گے اور وہ ایک بالکل ہموار اور وسیع میدان کی طرح بن جائے گا۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿يَوْمَتُبَدَّلُالْاَرْضُغَيْرَالْاَرْضِ﴾[14: 48] ”یعنی اس دن یہ زمین ایسی نہ رہے گی جیسی تم آج دیکھ رہے ہو، بلکہ اس میں تبدیل پیدا کر دی جائے گی۔“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔