(آیت 104) {نَحْنُاَعْلَمُبِمَايَقُوْلُوْنَ …: ”اَمْثَلُ“} بمعنی {”أَفْضَلُ“} ہے۔ {”اَلْمَثَالَةُ“} یعنی {”اَلْفَضْلُ۔“”طَرِيْقَةً“} سب سے اچھے طریقے والا سے مراد یہاں سب سے اچھی رائے والا ہے۔ اسے زیادہ اچھی رائے والا اور عقل مند اس لیے فرمایا کہ اس نے دنیا کے عارضی اور ختم ہونے کو اور آخرت کے ہمیشہ اور باقی رہنے کو دوسروں سے زیادہ سمجھا، اس لیے اس نے کہا کہ دس راتیں کہاں، تم تو ایک دن سے زیادہ دنیا میں نہیں ٹھہرے۔ طبری نے فرمایا کہ قیامت کی ہولناکی انھیں دنیا کا عیش و عشرت ایسا بھلائے گی کہ وہ دنیا میں رہنے کی صحیح مدت بھی نہیں بتا سکیں گے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۱۲ تا ۱۱۴) اور روم (۵۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 یعنی سب سے زیادہ عاقل اور سمجھدار۔ یعنی دنیا کی زندگی انھیں چند دن بلکہ گھڑی دو گھڑی کی محسوس ہوگی۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَيَوْمَتَــقُوْمُالسَّاعَةُيُـقْسِمُالْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَالَبِثُوْاغَيْرَسَاعَةٍ ۭ كَذٰلِكَكَانُوْايُؤْفَكُوْنَ) 30۔ الروم۔ 55) جس دن قیامت برپا ہوگی کافر قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ (دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے یہی مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلا سورة فاطر، 37 سورة المؤمنون۔، 112۔ 114 سورة النازعات وغیرہ مطلب یہی ہے فانی زندگی کو پاقی رہنے والی زندگی پر ترجیح نہ دی جائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
104۔ ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے۔ جبکہ ان میں سے بہتر رائے والا [73] یہ کہے گا کہ تم تو بس دنیا میں ایک ہی دن ٹھہرے تھے۔
[73] یہاں ٹھہرنے سے مراد دنیا کی زندگی بھی ہو سکتی ہے اور برزخ کی زندگی بھی۔ انسان کی عادت ہے کہ اسے خوشی کے لمحات قلیل بھی نظر آتے ہیں اور قریب بھی۔ بیسیوں برس پہلے کے واقعات اسے یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے کل کی بات ہے اور قیامت کے دہشت ناک احوال دیکھ کر یہ تصور اور بھی بڑھ جائے گا کوئی اس زندگی کو ہفتہ عشرہ قرار دے گا اور جو سب سے زیادہ سمجھدار ہو گا وہ پہلے کی تردید کرتے ہوئے اس زندگی کو صرف ایک دن کی زندگی بتلائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔