وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾
اور انھوں نے کہا ہمارے دل غلاف میں (محفوظ) ہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔
En
اور کہتے ہیں، ہمارے دل پردے میں ہیں۔ (نہیں) بلکہ الله نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں
En
یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف والے ہیں نہیں نہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ نے ملعون کردیا ہے، ان کا ایمان بہت ہی تھوڑا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 88) (1) {غُلْفٌ:} یہ{” أَغْلَفُ “} کی جمع ہے، جیسے {”اَحْمَرُ “} کی جمع {”حُمْرٌ “} ہے، یعنی جو چیز غلاف (پردے) میں ہو، جیسے: {” رَجُلٌ اَغْلَفُ“} ”وہ آدمی جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔“ اور {” سَيْفٌ اَغْلَفُ“} ”وہ تلوار جو غلاف میں ہو۔“ یہود کہا کرتے تھے کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں، ان پر تمھاری باتوں کا کچھ اثر نہیں ہوتا، فرمایا: «{ وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَيْهِ }» [حٰمٓ السجدۃ: ۵] ”اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے۔“ بعض علمائے تفسیر نے { ”غُلْفٌ“ } کے یہ معنی کیے ہیں کہ ہمارے دل علم و حکمت سے پُر ہیں، کسی دوسرے علم کی ان میں گنجائش نہیں ہے۔ اس پر قرآن نے فرمایا کہ حق سے متاثر نہ ہونا فخر کی بات نہیں ہے، یہ تو اللہ کی لعنت کی نشانی ہے۔ (ابن کثیر)
➋ { فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ:} { ”مَا“ } تاکید کے لیے ہے، اس لیے ”بہت کم“ ترجمہ کیا گیا۔ ”بہت کم ایمان لاتے ہیں“ کا ایک معنی یہ ہے کہ ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں، جیسے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ اس صورت میں یہ { ”يُؤْمِنُوْنَ“ } کی ضمیر سے حال ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں، پورا ایمان نہیں لاتے، بعض آیات اور بعض انبیاء پر ایمان لاتے ہیں اور بعض سے کفر کرتے ہیں، اس صورت میں یہ {”اِیْمَانٌ“} محذوف کی صفت ہے۔ { ”قَلِيْلاً“ } بعض اوقات عدم کے لیے بھی آتا ہے کہ وہ ایمان لاتے ہی نہیں۔
➋ { فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ:} { ”مَا“ } تاکید کے لیے ہے، اس لیے ”بہت کم“ ترجمہ کیا گیا۔ ”بہت کم ایمان لاتے ہیں“ کا ایک معنی یہ ہے کہ ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں، جیسے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ اس صورت میں یہ { ”يُؤْمِنُوْنَ“ } کی ضمیر سے حال ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں، پورا ایمان نہیں لاتے، بعض آیات اور بعض انبیاء پر ایمان لاتے ہیں اور بعض سے کفر کرتے ہیں، اس صورت میں یہ {”اِیْمَانٌ“} محذوف کی صفت ہے۔ { ”قَلِيْلاً“ } بعض اوقات عدم کے لیے بھی آتا ہے کہ وہ ایمان لاتے ہی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
88۔ 1 یعنی ہم پر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا جس طرح دوسرے مقام پر ہے۔ آیت (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ) 41:5 ہمارے دل اس دعوت سے پردے میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے۔ 88۔ 2 دلوں پر حق بات کا اثر نہ کرنا، کوئی فخر کی بات نہیں۔ بلکہ یہ تو ملعون ہونے کی علامت ہے، پس ان کا ایمان بھی تھوڑا ہے (جو عنداللہ نامقبول ہے) یا ان میں ایمان لانے والے کم ہی لوگ ہوں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
88۔ اور یہود یہ کہتے ہیں کہ ان کے دل غلافوں میں [103] محفوظ ہیں (جن میں کوئی نیا عقیدہ داخل نہیں ہو سکتا) (بات یوں نہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی ہے۔ لہذا (ان میں سے) تھوڑے [104] ہی ایمان لاتے ہیں
[103] یہود کا قول کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں:۔
انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی بری صفات کو بھی خوبصورت بنا کر دکھانے کی کوشش کرتا ہے اور حقیقت کا اعتراف کر لینا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ الا ماشاء اللہ یہی حالت یہودیوں کی تھی۔ وہ دین اسلام کو برحق سمجھ لینے کے باوجود اسے قبول تو اس لیے نہیں کرتے تھے کہ اس طرح ان کا مذہبی تفوق و اقتدار خطرہ میں پڑ جاتا تھا بلکہ چھن جاتا تھا مگر بظاہر اسے یوں پیش کرتے تھے کہ ہمارے عقائد اتنے مضبوط ہیں کہ وہ کوئی نیا عقیدہ قبول نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دجل و فریب کی قلعی کھولتے ہوئے فرمایا: بات یوں نہیں بلکہ یہ اپنے کفر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملعون بن چکے ہیں اور یہ اس لعنت کا اثر ہے کہ ان کے دل حق بات کو قبول نہیں کرتے۔ [104] جیسے عبد اللہ بن سلامؓ اور ان کے عقیدت مندوں کی جماعت اور بعض علماء ﴿فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ﴾ کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب تورات میں سے بھی بہت تھوڑی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اکثر احکام کا انکار کر دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
غلف کے معنی ٭٭
یہودیوں کا ایک قول یہ بھی تھا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں یعنی یہ علم سے بھرپور ہیں اب ہمیں نئے علم کی کوئی ضرورت نہیں۔ [تفسیر قرطبی:25/2] اس لیے جواب ملا کہ غلاف نہیں بلکہ لعنت الہیہ کی مہر لگ گئی ہے ایمان نصیب ہی نہیں ہوتا خلف کو خلف بھی پڑھا گیا ہے یعنی یہ علم کے برتن ہیں اور جگہ قرآن کریم میں ہے «وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ وَمِن بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُونَ» [41۔ فصلت: 5] یعنی جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس چیز سے ہمارے دل پردے اور آڑ میں اور ہمارے دلوں کے درمیان پردہ ہے آڑ ہے ان پر مہر لگی ہوئی ہے وہ اسے نہیں سمجھتے اسی بنا پر وہ نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں نہ اسے یاد رکھتے ہیں۔ایک حدیث میں بھی ہے کہ بعض دل غلاف والے ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوتا ہے یہ کفار کے دل ہوتے ہیں۔[مسند احمد:17/3-18:ضعیف]
سورۃ نساء میں بھی ایک آیت اسی معنی کی ہے «وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ» [4-النسأ-155] تھوڑا ایمان لانے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ان میں سے بہت کم لوگ ایماندار ہیں اور دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ ان کا ایمان بہت کم ہے یعنی قیامت ثواب عذاب وغیرہ کا قائل۔ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھنے والے توراۃ کو اللہ تعالیٰ کی کتاب مانتے ہیں مگر اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر اپنا ایمان پورا نہیں کرتے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کر کے اس تھوڑے ایمان کو بھی غارت اور برباد کر دیتے ہیں تیسرے معنی یہ ہیں کہ یہ سرے سے بے ایمان ہیں کیونکہ عربی زبان میں ایسے موقعہ پر بھی ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں مثلاً میں نے اس جیسا بہت ہی کم دیکھا مطلب یہ ہے کہ دیکھا ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سورۃ نساء میں بھی ایک آیت اسی معنی کی ہے «وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ» [4-النسأ-155] تھوڑا ایمان لانے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ان میں سے بہت کم لوگ ایماندار ہیں اور دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ ان کا ایمان بہت کم ہے یعنی قیامت ثواب عذاب وغیرہ کا قائل۔ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھنے والے توراۃ کو اللہ تعالیٰ کی کتاب مانتے ہیں مگر اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر اپنا ایمان پورا نہیں کرتے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کر کے اس تھوڑے ایمان کو بھی غارت اور برباد کر دیتے ہیں تیسرے معنی یہ ہیں کہ یہ سرے سے بے ایمان ہیں کیونکہ عربی زبان میں ایسے موقعہ پر بھی ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں مثلاً میں نے اس جیسا بہت ہی کم دیکھا مطلب یہ ہے کہ دیکھا ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔