ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 64

ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ۚ فَلَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۴﴾
پھر تم اس کے بعد پھر گئے تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔ En
تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے
En
لیکن تم اس کے بعد بھی پھر گئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان والے ہوجاتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64) ➊ اس سارے عہد و پیمان کے بعد انھوں نے بہت سی باتوں میں تورات سے کنارہ کشی اختیار کی، چنانچہ انھوں نے تورات میں تحریف کی، اس کی آیات کو چھپایا، انبیاء علیھم السلام کے احکام کی نافرمانی کی، بعض کو جھٹلایا، بعض کو قتل کیا، میدان تیہ میں عجیب و غریب نعمتوں کے مشاہدے کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر بار بار اعتراض کیے، ان کی حکم عدولی کی، انھیں سخت ایذا پہنچائی۔ ارض مقدس میں داخلے کا حکم ہوا تو صاف انکار کر دیا، حتیٰ کہ موسیٰ علیہ السلام نے خود کو ان نافرمانوں سے الگ کر دینے کی دعا کی۔ یہ تو پہلوں کا حال تھا، بعد والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کے باوجود آپ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔
➋ {لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ:} یعنی ان تمام نافرمانیوں کے باوجود فوراً عذاب کے ساتھ ہلاک کرنے کے بجائے تمھیں توبہ و استغفار کی مہلت دی گئی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ مگر بعد ازاں تم اس عہد سے بھی پھر گئے۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم خسارہ اٹھانے [82] والوں سے ہو جاتے
[82] اتنے پختہ اقرار کرنے کے باوجود اے یہود! تم نے پھر عہد شکنی کی۔ اس کے باوجود اللہ نے تم پر رحم کیا جو تمہیں زندہ رہنے دیا، ورنہ تمہارے جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے جو تمہاری تباہی کی مقتضی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عہد شکن یہود ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کے عہد و پیمان یاد دلا رہا ہے کہ میری عبادت اور میرے نبی کی اطاعت کا وعدہ میں تم سے لے چکا ہوں اور اس وعدے کو پورا کرانے اور منوانے کے لیے میں نے طور پہاڑ کو تمہارے سروں پر لا کر کھڑا کر دیا تھا جیسے اور جگہ ہے «وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّـةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌ بِهِمْ» [7-الأعراف:171]‏‏‏‏ جب ہم نے ان کے سروں پر سائبان کی طرح پہاڑ لا کر کھڑا کیا اور وہ یقین کر چکے کہ اب پہاڑ ان پر گر کر انہیں کچل ڈالے گا اس وقت ہم نے کہا ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوط تھامو اور اس میں جو کچھ ہے اسے یاد کرو تو بچ جاؤ گے طور سے مراد پہاڑ ہے جیسے سورۃ الاعراف کی آیت میں ہے اور جیسے صحابہ اور تابعین نے اس کی تفسیر کی ہے[تفسیر ابن ابی حاتم:203/1]‏‏‏‏ .ثابت یہی ہے کہ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر سبزہ اگتا ہو۔ [ایضاً]‏‏‏‏
حدیث فتون میں بروایت ابن عباس مروی ہے کہ جب انہوں نے اطاعت سے انکار کرنے کے باعث ان کے سر پر پہاڑ آ گیا لیکن اسی وقت یہ سب سجدے میں گر پڑے اور مارے ڈر کے کنکھیوں سے اوپر کی طرف دیکھتے رہے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور پہاڑ ہٹا لیا اسی وجہ سے وہ اسی سجدے کو پسند کرتے ہیں کہ آدھا دھڑ سجدے میں ہو اور دوسری طرف سے اونچے دیکھ رہے ہوں۔ جو ہم نے دیا اس سے مراد توراۃ ہے قوت سے مراد طاعت ہے یعنی توراۃ پر مضبوطی سے جم کر عمل کرنے کا وعدہ کرو ورنہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا اور اس میں جو ہے اسے یاد کرو اور اس پر عمل کرو یعنی توراۃ پڑھتے پڑھاتے رہو۔
لیکن ان لوگوں نے اتنے پختہ میثاق اتنے اعلیٰ عہد اور اس قدر زبردست وعدے کے بعد بھی کچھ پرواہ نہ کی۔ اور عہد شکنی کی اب اگر اللہ تعالیٰ کی کرم فرمائی اور رحمت نہ ہوتی اگر وہ توبہ قبول نہ فرماتا اور نبیوں کے سلسلہ کو برابر جاری نہ رکھتا تو یقیناً تمہیں زبردست نقصان پہنچتا اس وعدے کو توڑنے کی بنا پر دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو جاتے۔