ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 51

وَ اِذۡ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰۤی اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۵۱﴾
اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کی میعاد مقرر کی، پھر اس کے بعد تم نے بچھڑا بنا لیا اور تم ظالم تھے۔ En
اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کر لیا اور تم ظلم کر رہے تھے
En
اور ہم نے (حضرت) موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے چالیس راتوں کا وعده کیا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑا پوجنا شروع کردیا اور ﻇالم بن گئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل صحرائے سینا میں پہنچے تو ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی، اس وقت تک وہ موسیٰ علیہ السلام کی اس وحی پر عمل کرتے آ رہے تھے جو تورات سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔ گویا حدیث پر عمل تھا، اب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن رات کے لیے طور پر بلایا، تاکہ انھیں تورات عطا فرمائی جائے، لیکن ان کے جانے کے بعد بنی اسرائیل نے ایک بچھڑا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی، اسی بنا پر یہاں ان کو ظالم قرار دیا گیا ہے کہ وہ صریح طور پر شرک کے مرتکب ہوئے تھے اور شرک سے بڑھ کر اور کون سا ظلم ہو سکتا ہے۔ بچھڑے کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ(۸۷تا۹۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 یہ گؤ سالہ پرستی کا واقعہ اس وقت ہوا جب فرعونیوں سے نجات پانے کے بعد بنو اسرائیل جزیرہ نماء سینا پہنچے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تورات دینے کے لئے چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا، حضرت موسیٰ ؑ کے جانے کے بعد بنی اسرائیل نے سامری کے پیچھے لگ کر بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ انسان کتنا ظاہر پرست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کے باوجود اور نبیوں (حضرت ہارون و موسیٰ علیہ السلام) کی موجودگی کے باوجود بچھڑے کو اپنا معبود سمجھ لیا۔ آج کا مسلمان بھی شرکیہ عقائد واعمال میں بری طرح مبتلا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ مسلمان مشرک کس طرح ہوسکتا ہے؟ ان مشرک مسلمانوں نے شرک کو پتھر کی مورتیوں کے بچاریوں کے لئے خاص کردیا ہے کہ صرف وہی مشرک ہیں۔ جب کہ یہ نام نہاد مسلمان بھی قبروں پر قبوں کے ساتھ وہی کچھ کرتے جو پتھر کے پچاری اپنی مورتیوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اعاذنا اللہ منہ

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ اور (وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب ہم نے موسیٰؑ کو چالیس راتوں کے وعدہ پر (میقات پر) بلایا تو ان کی غیر موجودگی میں تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم فی الواقع ظالم تھے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

چالیس دن کا وعدہ ٭٭
یہاں بھی اللہ برترو اعلیٰ اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے جب کہ تمہارے نبی موسیٰ علیہ السلام چالیس دن کے وعدے پر تمہارے پاس سے گئے اور اس کے بعد تم نے گوسالہ پرستی شروع کر دی پھر ان کے آنے پر جب تم نے اس شرک سے توبہ کی تو ہم نے تمہارے اتنے بڑے کفر کو بخش دیا اور قرآن میں ہے «وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً» ‏‏‏‏ [7-الأعراف:142]‏‏‏‏ یعنی ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس بڑھا کر پوری چالیس راتوں کا کیا، کہا جاتا ہے کہ یہ وعدے کا زمانہ ذوالقعدہ کا پورا مہینہ اور دس دن ذوالحجہ کے تھے یہ واقعہ فرعونیوں سے نجات پا کر دریا سے بچ کر نکل جانے کے بعد پیش آیا تھا۔ کتاب سے مراد توراۃ ہے اور فرقان ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو حق و باطل ہدایت و ضلالت میں فرق کرے یہ کتاب بھی اس واقعہ کے بعد ملی جیسے کہ سورۃ الاعراف اس کے اس واقعہ کے طرز بیان سے ظاہر ہوتا ہے دوسری جگہ آیت «مِنْ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى» [28۔ القصص: 43]‏‏‏‏ بھی آیا ہے یعنی ہم نے اگلے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو وہ کتاب دی جو سب لوگوں کے لیے بصیرت افزا اور ہدایت و رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ واؤ زائد ہے اور خود کتاب کو فرقان کہا گیا ہے لیکن یہ غریب ہے بعض نے کہا ہے کتاب پر فرقان کا عطف ہے یعنی کتاب بھی دی اور معجزہ بھی دیا۔ دراصل معنی کے اعتبار سے دونوں کا مفاد ایک ہی ہے اور ایسی ایک چیز دو ناموں سے بطور عطف کے کلام عرب میں آیا کرتی ہے شعراء عرب کے بہت سے اشعار اس کے شاہد ہیں۔