فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۳۷﴾
پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے، تو اس نے اس کی توبہ قبول کر لی، یقینا وہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
En
(حضرت) آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بےشک وہی توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 37) ➊ کلمات یہ تھے: «{ رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ }» [الأعراف: ۲۳] مستدرک حاکم (۲؍۶۷۲، ح: ۴۲۲۸) میں ہے کہ آدم علیہ السلام نے عرش پر ” لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ لکھا ہوا دیکھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگی تو ان کی توبہ قبول ہوئی، مگر ذہبی نے اسے موضوع یعنی من گھڑت کہا ہے۔ اس روایت کے راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے متعلق خود امام حاکم نے {” المدخل إلي الصحيح “} میں فرمایا کہ وہ اپنے باپ سے موضوع روایات بیان کرتا ہے، جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی گھڑی ہوئی ہیں، یہ روایت بھی اس نے اپنے باپ سے بیان کی ہے۔ قرآن و حدیث میں بہت سی دعائیں آئی ہیں، سب میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے مانگنا سکھایا گیا ہے، کسی نبی یا ولی کا واسطہ و وسیلہ نہیں بتایا گیا۔ مزید دیکھیے سورۂ مائدہ(۳۵) اور بنی اسرائیل (۵۷)۔
➋ {فَتَابَ عَلَيْهِ:} خالص توبہ کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں، اپنے گناہ کے نقصان کا احساس، اس پر ندامت اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم۔ {”فَتَابَ عَلَيْهِ“} سے معلوم ہوا کہ گناہ کے اثرات لازمی اور طبعی نہیں کہ لا محالہ ان کے نتیجے میں سزا ہی مل کر رہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، چاہے تو گناہ کی سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے، انسان توبہ کر لے تو گناہ کا اثر ختم کر دیا جاتا ہے۔
➌ {التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ:} اس سے بڑھ کر کیا مہربانی ہو گی کہ خود دعا سکھائی اور پھر قبول بھی فرمائی۔
➋ {فَتَابَ عَلَيْهِ:} خالص توبہ کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں، اپنے گناہ کے نقصان کا احساس، اس پر ندامت اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم۔ {”فَتَابَ عَلَيْهِ“} سے معلوم ہوا کہ گناہ کے اثرات لازمی اور طبعی نہیں کہ لا محالہ ان کے نتیجے میں سزا ہی مل کر رہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، چاہے تو گناہ کی سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے، انسان توبہ کر لے تو گناہ کا اثر ختم کر دیا جاتا ہے۔
➌ {التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ:} اس سے بڑھ کر کیا مہربانی ہو گی کہ خود دعا سکھائی اور پھر قبول بھی فرمائی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 حضرت آدم ؑ جب پشیمانی میں ڈوبے دنیا میں تشریف لائے تو توبہ و استغفار میں مصروف ہوگئے۔ اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی و دست گیری فرمائی اور وہ کلمات معافی سکھا دیئے جو الاعراف میں بیان کئے گئے ہیں (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 7:23 بعض حضرات یہاں ایک موضوع روایت کا سہارا لیئے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم نے عرش الہی پر لَا اِلٰہ اِلَا اللّٰہ مَحَمَد رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھا ہوا دیکھا اور محمد رسول اللہ کے وسیلے سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔ یہ روایت بےسند ہے اور قرآن کے بھی معارض ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقے کے بھی خلاف ہے۔ تمام انبیاء علیھم السلام نے ہمیشہ براہ راست اللہ سے دعائیں کی ہیں کسی نبی، ولی، بزرگ کا واسطہ اور وسیلہ نہیں پکڑا اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام انبیاء کا طریقہ دعا یہی رہا ہے کہ بغیر کسی واسطے اور وسیلے کے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی جائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ پھر آدمؑ نے اپنے رب سے چند کلمات [56] سیکھ کر توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ بلا شبہ وہ بندوں کی توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے
[56] وہ کلمات یہ تھے آیت ﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرحمٰنا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ﴾ [23: 7] آدم و حوا دونوں کہنے لگے: ”اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہیں اور اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں فرمائے گا تو ہم تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔“ ان کلمات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود ہی سورۃ اعراف کی آیت نمبر 23 میں کر دیا ہے۔ اس کے باوجود بعض واعظ حضرات اس آیت کی تشریح میں ایک موضوع حدیث بیان کیا کرتے ہیں یہ حدیث مرفوع بنا کر پیش کی جاتی ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: جب سیدنا آدمؑ جنت سے نکال کر دنیا میں بھیجے گئے تو ہر وقت روتے اور استغفار کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ آسمان کی طرف دیکھا اور عرض کی: ”اے باری تعالیٰ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے مغفرت چاہتا ہوں۔ وحی نازل ہوئی کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیسے جانتے ہو؟ عرض کیا۔ جب آپ نے مجھے پیدا کیا تھا تو میں نے عرش پر لکھا ہوا دیکھا تھا «لا اله الا اللّٰه محمد رسول اللّٰه» تو میں سمجھ گیا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اونچی کوئی ہستی نہیں ہے۔ جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھ رکھا ہے۔“ وحی نازل ہوئی کہ وہ خاتم النبیین ہیں۔ تمہاری اولاد میں سے ہیں۔ وہ نہ ہوتے تو تم بھی پیدا نہ کیے جاتے۔“ [رياض السالكين 302]
اب دیکھئے اس میں مندرجہ بالا باتیں قابل غور ہیں:
سیدنا آدمؑ کا وسیلہ پکڑنا:۔
1۔ اس حدیث میں یہ ذکر کہیں نہیں آیا کہ پھر سیدنا آدمؑ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے توبہ قبول ہوئی بھی یا نہیں؟ الٹا اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر سیدنا آدمؑ کو اور بھی مایوس کر دیا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو تم بھی نہ ہوتے، کسی سائل کو اگر ایسا جواب دیا جائے تو بتائیے اس کے دل پر کیا بیتتی ہے؟
موضوع حدیث کی عجمی ترکیب:۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے اس جواب کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے نام پر ایک موضوع حدیث گھڑی گئی یعنی یہ حدیث قدسی ہے اور اس کا متن یوں ہے: عن ابن عباس یقول اللّٰہ وبعزتی و جلالی لو لاک ماخلقت الدنیا ترجمہ: ’ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم نہ ہوتے تو میں اس دنیا کو پیدا ہی نہ کرتا‘ [رياض السالكين ص 244] اس قدسی موضوع حدیث کا مفہوم ایک دوسری روایت میں ان الفاظ میں ہے۔ «لَولاَكَ لَمَا خَلَقْتُ الاَفْلاَ كَ» ترجمہ: ’اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات کی کوئی بھی چیز پیدا نہ کرتا۔ ‘ [رياض السالكين ص 101] ان حدیثوں کو ابن الجوزی نے موضوع قرار دیا ہے۔ [ديكهئے موضوعات ابن الجوزي جلد 1ص 289] نیز ان احادیث کے موضوع ہونے پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لولاک کی ترکیب عربی نہیں بلکہ عجمی ہے۔ عربی قواعد کے مطابق لو لا انت آنا چاہئے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین غزوہ خندق کے دوران خندق کی مٹی ڈھوتے وقت یہ شعر گنگنا رہے تھے: «اللهُمَّ لَوْ لاَ اَنْتَ مَا اهْتَدَيْتَنَا» [بخاري، كتاب المغازي، باب غزوه خندق] گویا لولاک کی ترکیب ہی غلط ہے، جو اس کے موضوع ہونے پر دلیل ہے۔
ان موضوعات کا مقصد صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی عظمت یا قدامت بیان کرنا نہیں بلکہ کچھ اور بھی مقاصد ہیں جو ان حضرات کے نزدیک بہت اہم ہیں مثلاً:
1۔ اللہ سے خواہ کتنے ہی برس رو رو کر مغفرت طلب کی جائے وہ اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کسی کا وسیلہ نہ پکڑا جائے۔ (2) یہ وسیلہ اپنے نیک اعمال کا نہیں کسی بزرگ ہستی کا ہی ہو سکتا ہے۔ خواہ وہ ابھی تک وجود میں نہ آئی ہو یا خواہ اس دنیا میں موجود ہو یا اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہو۔ کاش سیدنا آدمؑ کو اتنی مدت رونے سے پہلے ہی یہ باتیں معلوم ہو جاتیں۔ شیعہ حضرات نے جب موضوعات کا وسیع میدان دیکھا تو وہ ان حضرات سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گئے۔ ان کی قدسی حدیث کا متن یوں ہے «لو لا على ماخلقتك» یعنی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: ”’اگر علی نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔“
ان موضوعات کا مقصد صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی عظمت یا قدامت بیان کرنا نہیں بلکہ کچھ اور بھی مقاصد ہیں جو ان حضرات کے نزدیک بہت اہم ہیں مثلاً:
1۔ اللہ سے خواہ کتنے ہی برس رو رو کر مغفرت طلب کی جائے وہ اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کسی کا وسیلہ نہ پکڑا جائے۔ (2) یہ وسیلہ اپنے نیک اعمال کا نہیں کسی بزرگ ہستی کا ہی ہو سکتا ہے۔ خواہ وہ ابھی تک وجود میں نہ آئی ہو یا خواہ اس دنیا میں موجود ہو یا اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہو۔ کاش سیدنا آدمؑ کو اتنی مدت رونے سے پہلے ہی یہ باتیں معلوم ہو جاتیں۔ شیعہ حضرات نے جب موضوعات کا وسیع میدان دیکھا تو وہ ان حضرات سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گئے۔ ان کی قدسی حدیث کا متن یوں ہے «لو لا على ماخلقتك» یعنی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: ”’اگر علی نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالٰی کے عطا کردہ معافی نامہ کا متن ٭٭
جو کلمات آدم علیہ السلام نے سیکھے تھے ان کا بیان خود قرآن میں موجود ہے۔ آیت «قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [7-الأعراف:23] یعنی ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو یقیناً ہم نقصان والے ہو جائیں گے۔ اکثر بزرگوں کا یہی قول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:543/1] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے احکام حج سیکھنا بھی مروی ہے۔ عبید بن عمیر کہتے ہیں وہ کلمات یہ تھے کہ انہوں نے کہا الٰہی جو خطا میں نے کی کیا اسے میرے پیدا کرنے سے پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا گیا تھا؟ یا میں نے خود اس کی ایجاد کی؟ جواب ملا کہ ایجاد نہیں بلکہ پہلے ہی لکھ دیا گیا اسے سن کر آپ علیہ السلام نے کہا پھر اے اللہ مجھے بخشش اور معافی مل جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ آدم علیہ السلام نے کہا الٰہی کیا تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا؟ اور مجھ میں اپنی روح نہیں پھونکی؟ میرے چھینکنے پر «یرحمک اللہ» نہیں کہا؟ کیا تیری رحمت غضب پر سبقت نہیں کر گئی؟ کیا میری پیدائش سے پہلے یہ خطا میری تقدیر میں نہیں لکھی تھی؟ جواب ملا کہ ہاں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:543/1] یہ سب میں نے کیا ہے تو کہا پھر یا اللہ میری توبہ قبول کر کے مجھے پھر جنت مل سکتی ہے یا نہیں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ یہ کلمات یعنی چند باتیں تھیں جو آپ علیہ السلام نے اللہ سے سیکھ لیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ آدم علیہ السلام نے کہا الٰہی کیا تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا؟ اور مجھ میں اپنی روح نہیں پھونکی؟ میرے چھینکنے پر «یرحمک اللہ» نہیں کہا؟ کیا تیری رحمت غضب پر سبقت نہیں کر گئی؟ کیا میری پیدائش سے پہلے یہ خطا میری تقدیر میں نہیں لکھی تھی؟ جواب ملا کہ ہاں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:543/1] یہ سب میں نے کیا ہے تو کہا پھر یا اللہ میری توبہ قبول کر کے مجھے پھر جنت مل سکتی ہے یا نہیں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ یہ کلمات یعنی چند باتیں تھیں جو آپ علیہ السلام نے اللہ سے سیکھ لیں۔
ابن ابی حاتم ایک ایک مرفوع روایت میں ہے کہ آدم علیہ السلام نے کہا الٰہی اگر میں توبہ کروں اور رجوع کروں تو کیا جنت میں پھر بھی جا سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ اللہ سے کلمات کی تلقین حاصل کرنے کے یہی معنی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:410:منقطع و ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہونے کے علاوہ منقطع بھی ہے۔ بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ کلمات کی تفسیر ربنا ظلمنا اور ان سب باتوں پر مشتمل ہے مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ کلمات یہ ہیں دعا «اللھم لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی انک خیر الغافرین اللھم لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فارحمنی انک خیرالراحمین اللھم لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم» قرآن کریم میں اور جگہ ہے کیا لوگ نہیں جانتے کہا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے؟ اور جگہ ہے جو شخص کوئی برا کام کر گزرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر توبہ استغفار کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا اور اسے اپنے رحم و کرم میں لے لے گا۔ [4-النساء:110] اور جگہ ہے آیت «وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا» [25۔ الفرقان: 71] ان سب آیتوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اسی طرح یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ وہ اللہ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنے والا اور بہت بڑے رحم و کرم والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس عام لطف و کرم، اس کے اس فضل و رحم کو دیکھو کہ وہ اپنے گنہگار بندوں کو بھی اپنے در سے محروم نہیں کرتا۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، نہ اس سے زیادہ کوئی مہر و کرم والا نہ اس سے زیادہ کوئی خطا بخشنے والا اور رحم و بخشش عطا فرمانے والا۔