فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ عَنۡہَا فَاَخۡرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیۡہِ ۪ وَ قُلۡنَا اہۡبِطُوۡا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۳۶﴾
تو شیطان نے دونوں کو اس سے پھسلا دیا، پس انھیں اس سے نکال دیا جس میں وہ دونوں تھے اور ہم نے کہا اتر جاؤ، تمھارا بعض بعض کا دشمن ہے اور تمھارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے۔
En
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
En
لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائده اٹھانا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 36) ➊ شیطان کے اس پھسلانے کی تفصیل سورۂ اعراف (۲۰) میں ہے۔
➋ { بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ:} یعنی آدم علیہ السلام اور ابلیس اور ان کی اولاد ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ [الکہف: ۵۰۔ یٰسٓ: ۶۰] یہ مطلب بھی درست ہے کہ اولاد آدم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں، جیسا کہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ ہے۔ [المائدۃ: ۲۷] فرشتوں نے بھی { «وَ يَسْفِكُ الدِّمَآءَ» } میں اسی عداوت کا ذکر کیا تھا۔
➌ { وَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ: } یہ الفاظ دلیل ہیں کہ آدم علیہ السلام جس جنت میں رکھے گئے تھے وہ آسمان پر تھی، زمین پر جنت سے نکلنے کے بعد آئے۔ { ”اهْبِطُوْا“ } سے بھی یہی بات نکلتی ہے۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی میں جنت میں داخل کیے گئے اور اسی میں اس سے نکالے گئے۔“ [مسلم، الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ: ۸۵۴، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
➍ {اِلٰى حِيْنٍ:} یعنی موت تک کے لیے، کیونکہ انسان کے لیے مرنے کے بعد زمین سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔ ”ایک وقت تک“ سے معلوم ہوا کہ زمین پر رہائش عارضی ہے، دائمی نہیں۔
➋ { بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ:} یعنی آدم علیہ السلام اور ابلیس اور ان کی اولاد ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ [الکہف: ۵۰۔ یٰسٓ: ۶۰] یہ مطلب بھی درست ہے کہ اولاد آدم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں، جیسا کہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ ہے۔ [المائدۃ: ۲۷] فرشتوں نے بھی { «وَ يَسْفِكُ الدِّمَآءَ» } میں اسی عداوت کا ذکر کیا تھا۔
➌ { وَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ: } یہ الفاظ دلیل ہیں کہ آدم علیہ السلام جس جنت میں رکھے گئے تھے وہ آسمان پر تھی، زمین پر جنت سے نکلنے کے بعد آئے۔ { ”اهْبِطُوْا“ } سے بھی یہی بات نکلتی ہے۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی میں جنت میں داخل کیے گئے اور اسی میں اس سے نکالے گئے۔“ [مسلم، الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ: ۸۵۴، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
➍ {اِلٰى حِيْنٍ:} یعنی موت تک کے لیے، کیونکہ انسان کے لیے مرنے کے بعد زمین سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔ ”ایک وقت تک“ سے معلوم ہوا کہ زمین پر رہائش عارضی ہے، دائمی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 شیطان نے جنت میں داخل ہو کر روبرو انہیں بہکایا یا وسوسہ اندازی کے ذریعے سے اس کی بابت کوئی وضاحت نہیں۔ تاہم یہ واضح ہے جس طرح سجدے کے حکم کے وقت اس نے حکم الٰہی کے مقابلے میں قیاس سے کام لے کر سجدے سے انکار کیا اسی طرح اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم (وَلَا تَقْرَبَا) کی تاویل کر کے حضرت آدم ؑ کو پھسلانے میں کامیاب ہوگیا جس کی تفصیل سورة اعراف میں آئے گی۔ گویا حکم الٰہی کے مقابلے میں قیاس اور نص کا ارتکاب بھی سب سے پہلے شیطان نے کیا۔ 36۔ 2 مراد آدم ؑ اور شیطان ہیں جو ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ آخر کار شیطان [53] نے اسی درخت کی ترغیب دے کر آدم و حوا دونوں کو ورغلا دیا۔ اور جس حالت میں وہ تھے انہیں وہاں سے نکلوا کر [54] ہی دم لیا۔ تب ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اتر (نکل) جاؤ۔ کیونکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو[55]۔ اور اب تمہیں ایک معین وقت (موت یا قیامت) تک زمین میں رہنا اور گزر بسر کرنا ہے۔
[53] شیطان کی حقیقت:۔
یہ شیطان در اصل ابلیس ہی تھا جو جنوں کی جنس سے تھا اور آگ سے پیدا ہوا تھا۔ شیطان کی حقیقت یوں سمجھئے کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور جن آگ سے یا نار سے۔ اور نور اور نار دونوں کا مادہ ایک ہی ہے، یعنی نور اور روشنی نور میں بھی ہوتی ہے اور نار میں بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اگر حدت اور تمازت (گرمی کی شدت) کم ہو یا ندارد ہو اور روشنی کا عنصر ہی غالب ہو تو یہ نور ہے اور روشنی کا عنصر کم اور حدت و تمازت کا عنصر غالب ہو تو یہ نار ہے۔ اب جنوں کی ایک قدر مشترک تو فرشتوں سے ملتی ہے یعنی وہ اپنی شکلیں بدل سکتے ہیں اور اسی بنا پر ابلیس فرشتوں میں شامل ہو جاتا تھا، اور ایک قدر مشترک انسانوں سے ملتی ہے یعنی جن اور انسان دونوں مکلف مخلوق ہیں [51: 56] اور صاحب اختیار و ارادہ ہیں۔ اسی بنا پر ابلیس نے تو سجدہ سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن فرشتوں میں سے کوئی ایسا کر ہی نہیں سکتا تھا۔ اب جنوں یا انسانوں میں سے جو کوئی اس قوت اختیار و ارادہ کا غلط استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سرکشی پر اتر آئے وہ شیطان ہے۔ گویا شیطان جن بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی۔ پھر شیطان کا لفظ ہر بد روح، خبیث اور موذی چیز پر بھی استعمال ہونے لگا۔ سانپ کو اسی وجہ سے جان [10: 27] بھی کہا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جو شیطان جنوں سے ہو گا۔ وہ دوسروں کو بد راہ اور گمراہ کرنے کے لحاظ سے انسانی شیطان سے زیادہ وسائل رکھتا ہے۔ جن شیطان اپنی شکلیں بدل کر اندر داخل ہو کر اور وسوسہ ڈال کر بھی دوسروں کو گمراہ کر سکتا ہے۔ جب کہ انسانی شیطان ان باتوں پر قادر نہیں ہوتا۔
فرشتوں کی مختلف اقسام اور ان کی ذمہ داریاں:۔
فرشتوں اور جنوں کی بہت سی اقسام اور صفات قرآن اور احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں۔ فرشتوں کی پہلی قسم مقربین فرشتے ہیں۔ جن میں سے کچھ فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ چار ہیں۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ لوگوں کا حساب لینے کے لیے نزول اجلال فرمائیں گے تو اس وقت وہ فرشتے آٹھ ہوں گے۔ پھر کچھ فرشتے ایسے ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے عرش کے گرد گھیرا ڈالے رہتے ہیں۔ انہیں مقربین میں سے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو بہت سے فرشتوں کے سردار ہیں۔ مثلاً فرشتوں کی ایک قسم رسولوں یا پیغامبروں کی ہے۔ ان کے سردار جبریل ہیں۔ جن کی بہت سی صفات قرآن میں مذکور ہیں۔ وہ بڑے زور آور اور امین ہیں۔ ان کا نام روح، روح الامین اور روح القدس بھی ہے انبیاء علیہم السلام کے دلوں پر یہی جبریل اللہ کا کلام لے کر نازل ہوتے رہے ہیں۔ دوسرے سردار میکائیل یا میکال ہیں جو بادلوں، بارشوں اور برق و رعد وغیرہ پر مامور ہیں۔ تیسرے سردار عزرائیل ہیں جن کا دوسرا نام عزازیل بھی ہے، اور قرآن میں انہیں ملک الموت بھی کہا گیا ہے۔ یہ بھی جان نکالنے والے فرشتوں کی پوری جمعیت کے سردار ہیں کیونکہ کسی شخص کی جان نکالنے کے لیے ایک نہیں بلکہ کئی فرشتے آتے ہیں۔ ان میں ایک سردار اسرافیل ہیں جو قیامت کو ہونے والے واقعات اور نفخہ صور اول اور نفخہ صور ثانی اور بعض کے نزدیک نفخہ صور ثالث پر مامور ہیں۔ ان سب فرشتوں کو ملاء اعلیٰ بھی کہتے ہیں۔
پھر ان کے بعد سات آسمانوں کے اندر لاتعداد فرشتوں کی جمعیت موجود ہے جو آسمانوں یا کائنات یا اجرام فلکی کے انتظام و انصرام پر مامور ہیں۔ جب اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا ہے تو ان میں ایک کھلبلی سی مچ جاتی ہے اور گھبراہٹ اور ہیبت طاری ہو جاتی ہے اور وہ گھبراہٹ اس وقت دور ہوتی ہے۔ جب اللہ کا حکم متعلقہ آسمان تک پہنچ جاتا ہے اور نیچے والے فرشتے اوپر والوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے کون سا حکم نازل ہوا تھا؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ حکم جو بھی ہے ٹھوس حقائق پر مبنی ہے اور پھر وہ اس کی بجا آوری پر مستعد ہو جاتے ہیں۔ پھر کچھ ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل اور تقدیس میں مصروف رہتے ہیں۔
ان کے بعد وہ فرشتے ہیں جو آسمان دنیا کے نیچے اور ہماری زمین کے قریب رہتے ہیں۔ ان میں وہ فرشتے بھی شامل ہیں جو ہر انسان کی حفاظت کے لیے اللہ نے مامور کئے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو انسانوں کے اعمال نامے لکھنے والے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو اللہ کے بندوں کی بروقت مدد کو پہنچتے ہیں، وہ بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں چلنے والوں مثلاً جہاد یا طلب علم کی خاطر سفر کرنے کے راستہ میں اپنے پر بچھاتے ہیں۔ ایسے فرشتوں کو ملائک ارضیہ بھی کہا جاتا ہے پھر کچھ فرشتے جنت کو سجانے اور اس کے انتظام و انصرام میں مصروف ہیں اور کچھ جہنم پر مامور ہیں۔ ان کی تعداد انیس ہے یعنی جہنم میں انیس قسم کے عذاب ہوں گے۔ جن کا انتظام ایک ایک فرشتہ کے سپرد ہے۔ ان انیس فرشتوں کے سردار کا نام مالک ہے اور اس جہنم کے عذاب پر پورے عملے یا محکمے کا نام زبانیہ ہے۔
پھر ان کے بعد سات آسمانوں کے اندر لاتعداد فرشتوں کی جمعیت موجود ہے جو آسمانوں یا کائنات یا اجرام فلکی کے انتظام و انصرام پر مامور ہیں۔ جب اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا ہے تو ان میں ایک کھلبلی سی مچ جاتی ہے اور گھبراہٹ اور ہیبت طاری ہو جاتی ہے اور وہ گھبراہٹ اس وقت دور ہوتی ہے۔ جب اللہ کا حکم متعلقہ آسمان تک پہنچ جاتا ہے اور نیچے والے فرشتے اوپر والوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے کون سا حکم نازل ہوا تھا؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ حکم جو بھی ہے ٹھوس حقائق پر مبنی ہے اور پھر وہ اس کی بجا آوری پر مستعد ہو جاتے ہیں۔ پھر کچھ ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل اور تقدیس میں مصروف رہتے ہیں۔
ان کے بعد وہ فرشتے ہیں جو آسمان دنیا کے نیچے اور ہماری زمین کے قریب رہتے ہیں۔ ان میں وہ فرشتے بھی شامل ہیں جو ہر انسان کی حفاظت کے لیے اللہ نے مامور کئے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو انسانوں کے اعمال نامے لکھنے والے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو اللہ کے بندوں کی بروقت مدد کو پہنچتے ہیں، وہ بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں چلنے والوں مثلاً جہاد یا طلب علم کی خاطر سفر کرنے کے راستہ میں اپنے پر بچھاتے ہیں۔ ایسے فرشتوں کو ملائک ارضیہ بھی کہا جاتا ہے پھر کچھ فرشتے جنت کو سجانے اور اس کے انتظام و انصرام میں مصروف ہیں اور کچھ جہنم پر مامور ہیں۔ ان کی تعداد انیس ہے یعنی جہنم میں انیس قسم کے عذاب ہوں گے۔ جن کا انتظام ایک ایک فرشتہ کے سپرد ہے۔ ان انیس فرشتوں کے سردار کا نام مالک ہے اور اس جہنم کے عذاب پر پورے عملے یا محکمے کا نام زبانیہ ہے۔
صفات کے لحاظ سے فرشتوں کی اقسام:۔
صفات کے لحاظ سے بھی فرشتوں کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ فرشتے دو پروں والے ہیں کچھ تین والے، کچھ چار والے۔ حتیٰ کہ جبریل امین کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی شکل میں دیکھا تو ان کے چھ سو پر تھے، اور یہ تو ہم بتا چکے ہیں کہ فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوئی ہے جو نہایت لطیف چیز ہے۔ سب سے لطیف تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ پھر حاملین عرش اور گھیرا ڈالنے والے اور مقربین فرشتے ہیں۔ پھر ان کے بعد آسمانوں کے فرشتے، پھر ان کے بعد ملکوت ارضیہ کی باری آتی ہے۔ گویا نور اور اس کی لطافت کے بھی کئی درجے ہیں۔ ملکوت ارضیہ نسبتاً کم لطیف ہوتے ہیں۔ تاہم ان سب فرشتوں میں چند صفات مشترک پائی جاتی ہیں۔ مثلاً سب فرشتوں کی تخلیق نور سے ہوئی ہے۔ سب فرشتے اللہ کے فرمانبردار اور عبادت گزار ہیں اور ان کی یہ عبادت اضطراری ہے اختیاری نہیں۔ یعنی وہ اللہ کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتے کیونکہ ان میں شر کا مادہ موجود ہی نہیں ہے۔ نیز یہ سب فرشتے غیر مرئی ہیں انسانوں کو نظر نہیں آ سکتے اور یہ سب فرشتے اپنی شکلیں بدل سکتے اور ہر مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔
جنوں کی اقسام اور صفات:۔
جنوں کا قصہ یہ ہے کہ ان کی پیدائش نور کے بجائے نار یا آگ سے ہوئی ہے۔ جو نور سے بہرحال کم تر لطیف چیز ہے۔ پھر لطافت اور صفات کے لحاظ سے ان کی بھی کئی اقسام ہیں۔ کچھ ایسے جن ہیں جو آدمیوں کی بستیوں میں رہتے ہیں۔ انہیں عامر کہتے ہیں۔ انہیں میں سے ایک قسم ہے جو ہر انسان کے ساتھ لگی رہتی اور اسے برے کاموں پر اکساتی اور وسوسے ڈالتی رہتی ہے۔ اسے ہماری زبان میں ہمزاد کہتے ہیں۔ اس قسم کو شیطان کہتے ہیں۔ جس کے متعلق نبی نے فرمایا ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ پھر کچھ ایسے جن ہیں جو لڑکوں بالوں کو ستاتے ہیں۔ ان کو اہل عرب ارواح کہتے ہیں اور ہم بھوت پریت یا آسیب کہتے ہیں اور جو جنگل میں آواز دیتے اور چیختے چلاتے ہیں ان کو ہاتف کہتے ہیں اور جو مسافروں کو بھولی ہوئی راہ بتا دیتے ہیں ان کو رجال الغیب کہتے ہیں اور کبھی جنگل میں مشعل سی دکھائی دیتی ہے ان کو شہابہ کہتے ہیں۔
جن بھی انسان کی طرح مکلف مخلوق ہے یعنی ان کی فطرت میں خیر و شر دونوں چیزیں موجود ہیں۔ ان میں کچھ جن صالح اور ایماندار ہیں اور اکثر شریر اور بد کردار ہیں۔ ان کو شیطان کہتے ہیں اور جو بہت زیادہ سرکش ہوں ان کو مارد کہتے ہیں اور جسامت کے لحاظ سے جو بہت عظیم الجثہ اور طاقتور ہوں انہیں عفریت کہتے ہیں۔ جنوں میں لطیف تر وہ جن ہیں جن کی رسائی آسمانی دنیا تک بھی ہو سکتی ہے اور کثیف وہ ہیں جو زمین پر ہی رہتے ہیں۔ بعض لوگوں کے خیال کے مطابق ابلیس ایک صالح اور عبادت گزار جن تھا جو ملائکہ ارضیہ کے ساتھ گھلا ملا رہتا تھا۔ جب فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو آدمؑ سے رقابت کی بنا پر اس کے شر کی رگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس کی انا نے گوارا نہ کیا۔ کہ ایک ارضی مخلوق کی برتری تسلیم کرے، اور یہی انا اور تکبر اسے لے ڈوبا، اور چونکہ جنوں میں بھی توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہے۔ لہٰذا ابلیس کی اور پھر اس کی اولاد کی پہلے دن سے آدمؑ اور اس کی اولاد سے ٹھن گئی، اور چونکہ اس سجدہ آدم کے مقابلہ میں ابلیس نے ایک صالح جن کا کردار ادا نہیں کیا تھا بلکہ شیطان جن کا کیا تھا۔ لہٰذا قرآن میں ابلیس کو ہی کئی مقامات پر شیطان کہا گیا ہے۔
جن بھی انسان کی طرح مکلف مخلوق ہے یعنی ان کی فطرت میں خیر و شر دونوں چیزیں موجود ہیں۔ ان میں کچھ جن صالح اور ایماندار ہیں اور اکثر شریر اور بد کردار ہیں۔ ان کو شیطان کہتے ہیں اور جو بہت زیادہ سرکش ہوں ان کو مارد کہتے ہیں اور جسامت کے لحاظ سے جو بہت عظیم الجثہ اور طاقتور ہوں انہیں عفریت کہتے ہیں۔ جنوں میں لطیف تر وہ جن ہیں جن کی رسائی آسمانی دنیا تک بھی ہو سکتی ہے اور کثیف وہ ہیں جو زمین پر ہی رہتے ہیں۔ بعض لوگوں کے خیال کے مطابق ابلیس ایک صالح اور عبادت گزار جن تھا جو ملائکہ ارضیہ کے ساتھ گھلا ملا رہتا تھا۔ جب فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو آدمؑ سے رقابت کی بنا پر اس کے شر کی رگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس کی انا نے گوارا نہ کیا۔ کہ ایک ارضی مخلوق کی برتری تسلیم کرے، اور یہی انا اور تکبر اسے لے ڈوبا، اور چونکہ جنوں میں بھی توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہے۔ لہٰذا ابلیس کی اور پھر اس کی اولاد کی پہلے دن سے آدمؑ اور اس کی اولاد سے ٹھن گئی، اور چونکہ اس سجدہ آدم کے مقابلہ میں ابلیس نے ایک صالح جن کا کردار ادا نہیں کیا تھا بلکہ شیطان جن کا کیا تھا۔ لہٰذا قرآن میں ابلیس کو ہی کئی مقامات پر شیطان کہا گیا ہے۔
فرشتوں کے وجود کے منکرین اور ان کی تاویلات:۔
فرشتوں اور ابلیس کے متعلق ہمیں یہ لمبی چوڑی تفصیل اس لیے دینا پڑی کہ یہ قصہ آدم و ابلیس کے اہم کردار ہیں۔ نیز اس لیے بھی فرشتوں کے وجود پر ایمان لانا ازروئے قرآن نہایت ضروری اور ایمان بالغیب کا ایک حصہ ہے۔ لیکن ان تمام تر قرآنی تصریحات کے علی الرغم مسلمانوں میں سے ہی کچھ لوگ فرشتوں کے خارجی وجود اور ذاتی تشخص کے قائل نہیں۔ ہمارے ملک میں اس طبقہ کے سرخیل سر سید احمد خان ہیں۔ جن کا کچھ ذکر سورۃ فاتحہ کے آخر حاشیہ میں گزر چکا ہے۔
سر سید کی مغربی افکار سے مرعوبیت:۔
وہ مغربی افکار و نظریات سے سخت مرعوب تھے۔ انہوں نے معجزات اور خرق عادت امور کا ہی انکار نہیں کیا بلکہ فرشتوں اور جنوں کے بارے میں بھی کئی قسم کی تاویلات کر کے ان کا انکار کر دیا اور جب علماء کی طرف سے شدید گرفت ہوئی تو اپنی ایک تقریر میں فرمایا کہ ”صاحبو! میرا عقیدہ بھی وہی ہے جو سلف کا ہے۔ مگر اس وقت اسلام پر علوم جدیدہ سے وہ مصیبت برپا ہے جو بنی عباس کے دور میں یونانی فلسفہ سے برپا تھی۔ جس طرح اس وقت کے علماء نے ان کے جواب دینے کے لیے علم کلام بنایا۔ میں نے ان اعتراضات کے رفع کرنے کے لیے کلام جدید کی بنیاد ڈالی اور موجودہ دور کی مصیبت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ پہلے تو علماء حجروں میں بیٹھ کر خیالی دلائل بنا کر ہی رفع کر دیتے تھے اور اب تو مخالفین دور بینوں وغیرہ آلات کے ذریعہ سے مشاہدہ کرا دیتے ہیں۔“ آپ کے اس اقتباس سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ مغربی افکار سے کس قدر مرعوب تھے نیز یہ کہ آپ نے اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی جو ٹھان رکھی تھی اس کے اصل محرکات کیا تھے؟ پھر آپ کی دلیل پر بھی غور فرمائیے دوربینوں سے صرف محسوسات اور مادی اشیاء کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جبکہ فرشتے اور جن دونوں محسوسات کے دائرہ سے خارج ہیں۔ بلکہ بلا خوف و تردید ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام نے کوئی بھی ایسا نظریہ پیش نہیں کیا جس کا سائنسی آلات یا علوم جدیدہ سے ابطال کیا جا سکے۔“ بہرحال آپ نے فرشتوں اور جنوں سے متعلق جو انہونی تاویلات پیش فرمائیں ان کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں اور میں یہ تاویلات تفصیل کے ساتھ اپنی تصنیف آئینہ پرویزیت میں پیش کر چکا ہوں۔ البتہ فرشتوں سے متعلق ان تاویلات کا جائزہ لینا چاہتا ہوں جو ان کے ہونہار جانشین پرویز صاحب نے اپنی تصنیف قصہ آدم و ابلیس میں پیش کی ہیں پرویز صاحب مختلف مقامات پر فرشتوں سے مختلف تاویلات یا مرادیں پیش فرما دیتے ہیں جو کچھ اس طرح ہیں:
ملائکہ سے مراد خارجی قوائے فطرت:
1۔ ملائکہ سے مراد و مفہوم وہ قوتیں ہیں جو کائنات کی عظیم القدر مشینری کو چلانے کے لیے مامور ہیں یعنی قوائے فطرت اس لیے قانون خداوندی کی زنجیر کے ساتھ جکڑی ہوئی ہیں کہ ان سے انسان کام لے سکے۔ اسی لیے قصہ آدم میں کہا گیا ہے کہ ملائکہ نے آدمؑ کو سجدہ کر دیا۔ مطلب یہ کہ فطرت کی قوتیں انسان کے تابع فرمان بنا دی گئی ہیں۔ [ابليس و آدم 144]
اب سوال یہ ہے کہ اگر ملائکہ سے مراد فطرت کی قوتیں لیا جائے تو یہ فطرت کی قوتیں ہرگز انسان کے تابع فرمان نہیں ہیں۔ طوفان باد و باراں سے سینکڑوں انسان مر جاتے ہیں۔ مکانات منہدم ہو جاتے ہیں۔ چھتیں اڑ جاتی ہیں۔ آفات ارضی و سماوی سے تیار شدہ فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کیا انسان کا ان فطرت کی قوتوں پر اس وقت کوئی بس چلتا ہے؟ پھر انسان ایسے ”ملائکہ“ کا مسجود کیسے ہوا؟
اور دوسرا سوال یہ ہے کہ ان کائنات کی قوتوں کا تو کوئی دہریہ بھی منکر نہیں ہوتا۔ پھر ایسے ”ملائکہ“ پر ایمان بالغیب لانے کا کیا مطلب ہوا؟
قرآن پاک میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے [69: 17] اب اس کی تشریح پرویز صاحب کی زبان سے سنئے:
اب سوال یہ ہے کہ اگر ملائکہ سے مراد فطرت کی قوتیں لیا جائے تو یہ فطرت کی قوتیں ہرگز انسان کے تابع فرمان نہیں ہیں۔ طوفان باد و باراں سے سینکڑوں انسان مر جاتے ہیں۔ مکانات منہدم ہو جاتے ہیں۔ چھتیں اڑ جاتی ہیں۔ آفات ارضی و سماوی سے تیار شدہ فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کیا انسان کا ان فطرت کی قوتوں پر اس وقت کوئی بس چلتا ہے؟ پھر انسان ایسے ”ملائکہ“ کا مسجود کیسے ہوا؟
اور دوسرا سوال یہ ہے کہ ان کائنات کی قوتوں کا تو کوئی دہریہ بھی منکر نہیں ہوتا۔ پھر ایسے ”ملائکہ“ پر ایمان بالغیب لانے کا کیا مطلب ہوا؟
قرآن پاک میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے [69: 17] اب اس کی تشریح پرویز صاحب کی زبان سے سنئے:
حاملین عرش ملائکۃ کی وضاحت:۔
”عرش وہ مرکز حکومت خداوندی ہے۔ جہاں کائنات کی تدبیر امور ہوتی ہے اور چونکہ یہ تدبیر امور ملائکہ کی وساطت سے سر انجام پاتی ہے۔ اس لیے ملائکہ، عرش الٰہی کے اٹھانے والے اور کمر بستہ اس کے گرد گھومنے والے ہیں۔“ [ايضاً ص 147] اب دیکھئے اس تشریح میں پرویز صاحب نے قرآن کریم کے دو مختلف مقامات کی آیات کو گڈ مڈ کر کے پیش کر دیا ہے۔ آٹھ فرشتوں کے عرش الٰہی کو اٹھانے کا ذکر سورۃ الحاقہ (69) کی ساتویں آیت میں ہے اور گھومنے والے فرشتوں کا ذکر سورۃ زمر (39) کی آخری آیت نمبر 75 میں ہے اور یہ گھومنے والے حافین کا ترجمہ کیا گیا ہے، جو ویسے بھی غلط ہے اس کا صحیح ترجمہ گھیرا ڈالے ہوئے ہے نہ کہ گھومنے والے۔ علاوہ ازیں گھیرا ڈالنا یا گھومنا الگ عمل ہے اور عرش کو اٹھانا الگ عمل ہے، جو عرش کو اٹھائے ہوں وہ گھوم نہیں سکتے اور جو گھوم رہے ہوں گے وہ اٹھانے والے نہیں ہوں گے، جو کچھ بھی ہو ان دونوں آیات سے فرشتوں کا خارجی وجود اور ذاتی تشخص دونوں باتیں ثابت ہو رہی ہیں جو آپ کے پہلے نظریہ ’قوائے فطرت‘ کے برعکس ہیں۔
3۔ ”لہٰذا یہ ملائکہ ہماری اپنی داخلی قوتیں ہیں۔ یعنی ہمارے اعمال کے اثرات جو ہماری ذات پر مرتب ہوتے رہتے ہیں اور جب انسانی اعمال کے نتائج محسوس شکل میں سامنے آتے ہیں قرآن اسے قیامت سے تعبیر کرتا ہے۔“ [ايضاً ص 162]
3۔ ”لہٰذا یہ ملائکہ ہماری اپنی داخلی قوتیں ہیں۔ یعنی ہمارے اعمال کے اثرات جو ہماری ذات پر مرتب ہوتے رہتے ہیں اور جب انسانی اعمال کے نتائج محسوس شکل میں سامنے آتے ہیں قرآن اسے قیامت سے تعبیر کرتا ہے۔“ [ايضاً ص 162]
ملائکہ سے مراد داخلی قوتیں:۔
اب دیکھئے اس مختصر سے اقتباس میں پرویز صاحب نے بہت سے پیچیدہ مسائل کو حل فرما دیا۔ مثلاً:
1۔ ہماری داخلی قوتیں، قوت باصرہ، لامسہ، ذائقہ، سامعہ، دافعہ، حافظہ وغیرہ یا کچھ بھی ہیں۔ اگر یہی قوتیں ملائکہ ہیں تو پھر ان پر ایمان بالغیب لانے کا قرآنی مطالبہ ہی غلط قرار پاتا ہے۔ اس لئے کہ ان داخلی قوتوں کو تو کافر اور دہریئے بھی تسلیم کرتے ہیں۔
2۔ آپ کی پہلی تعریف کے مطابق ملائکہ سے مراد خارجی قوتیں تھا۔ اب اس تعریف کے لحاظ سے ملائکہ سے مراد انسان کی داخلی قوتیں بن گیا۔
3۔ اب ان داخلی قوتوں سے بھی مراد یہ ہے کہ ”ہمارے اعمال کے اثرات جو ہماری ذات پر مرتب ہوتے رہتے ہیں۔“ گویا ملائکہ کی تیسری تعریف ’ہماری ذات پر مرتب ہونے والے اثرات‘ ہیں۔
4۔ قیامت کا مفہوم آپ نے یہ بتایا کہ جب انسانی اعمال کے نتائج محسوس شکل میں سامنے آ جائیں تو قرآن اسے قیامت سے تعبیر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کسان اگر بیج بوتا ہے تو جب اس سے کونپل نکل آئے یا زیادہ سے زیادہ فصل پک کر تیار ہو جائے اور اس کے عمل کا نتیجہ محسوس شکل میں سامنے آ گیا تو گویا قرآن کی رو سے اس کی قیامت آ گئی۔ اس تصریح سے آپ کے قیامت پر ایمان لانے کے تصور پر بھی روشنی پڑتی ہے۔
”ان مقامات سے ظاہر ہے کہ جو طبعی تغیرات انسان کے جسم میں رونما ہوتے ہیں اور جن کا آخری نتیجہ انسان کی طبعی موت ہوتی ہے۔ انہیں بھی ملائکہ کی قوتوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔“ [ايضاً ص 159]
1۔ ہماری داخلی قوتیں، قوت باصرہ، لامسہ، ذائقہ، سامعہ، دافعہ، حافظہ وغیرہ یا کچھ بھی ہیں۔ اگر یہی قوتیں ملائکہ ہیں تو پھر ان پر ایمان بالغیب لانے کا قرآنی مطالبہ ہی غلط قرار پاتا ہے۔ اس لئے کہ ان داخلی قوتوں کو تو کافر اور دہریئے بھی تسلیم کرتے ہیں۔
2۔ آپ کی پہلی تعریف کے مطابق ملائکہ سے مراد خارجی قوتیں تھا۔ اب اس تعریف کے لحاظ سے ملائکہ سے مراد انسان کی داخلی قوتیں بن گیا۔
3۔ اب ان داخلی قوتوں سے بھی مراد یہ ہے کہ ”ہمارے اعمال کے اثرات جو ہماری ذات پر مرتب ہوتے رہتے ہیں۔“ گویا ملائکہ کی تیسری تعریف ’ہماری ذات پر مرتب ہونے والے اثرات‘ ہیں۔
4۔ قیامت کا مفہوم آپ نے یہ بتایا کہ جب انسانی اعمال کے نتائج محسوس شکل میں سامنے آ جائیں تو قرآن اسے قیامت سے تعبیر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کسان اگر بیج بوتا ہے تو جب اس سے کونپل نکل آئے یا زیادہ سے زیادہ فصل پک کر تیار ہو جائے اور اس کے عمل کا نتیجہ محسوس شکل میں سامنے آ گیا تو گویا قرآن کی رو سے اس کی قیامت آ گئی۔ اس تصریح سے آپ کے قیامت پر ایمان لانے کے تصور پر بھی روشنی پڑتی ہے۔
”ان مقامات سے ظاہر ہے کہ جو طبعی تغیرات انسان کے جسم میں رونما ہوتے ہیں اور جن کا آخری نتیجہ انسان کی طبعی موت ہوتی ہے۔ انہیں بھی ملائکہ کی قوتوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔“ [ايضاً ص 159]
ملائکہ سے مراد طبعی تغیرات:۔
اب دیکھئے یہ طبعی تغیرات دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو کسی عمل کے نتیجہ کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ مثلاً پانی پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے۔ کھانا کھانے سے بھوک مٹ جاتی ہے۔ سیر اور ورزش سے جسم مضبوط اور صحت بحال رہتی ہے۔ دوسرے طبعی تغیرات وہ جن میں انسان کے عمل کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ جیسے اس کا بچہ سے جوان ہونا، پھر بوڑھا ہونا، پھر مر جانا۔ یہ سب امور ایسے ہیں جن کا ایمان بالغیب سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ طبعی ہیں، اور واقع ہو کر رہیں گے پھر ان طبعی تغیرات کو ملائکہ سے تعبیر کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ ان طبعی تغیرات کو تو دہریے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ پھر ایسے ملائکہ پر ایمان بالغیب لانے کا کیا مطلب؟
4۔ ان مقامات (یعنی بدر کے موقعہ پر تین ہزار ملائکہ کا نزول یا ایسی ہی دوسری آیات) پر غور کیجئے۔ ’ملائکہ کی مدد‘ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس سے جماعت مومنین کے دلوں کو تسکین ملی تھی اور ان کے عزائم پختہ ہو گئے تھے۔ دوسری طرف دشمنوں کے دل خوف زدہ ہو گئے تھے اور ان کے حوصلے چھوٹ گئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان مقامات میں ملائکہ سے مراد وہ نفسیاتی محرکات ہیں جو انسانی قلوب میں اثرات مرتب کرتے ہیں۔ [ايضاً ص 155]
4۔ ان مقامات (یعنی بدر کے موقعہ پر تین ہزار ملائکہ کا نزول یا ایسی ہی دوسری آیات) پر غور کیجئے۔ ’ملائکہ کی مدد‘ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس سے جماعت مومنین کے دلوں کو تسکین ملی تھی اور ان کے عزائم پختہ ہو گئے تھے۔ دوسری طرف دشمنوں کے دل خوف زدہ ہو گئے تھے اور ان کے حوصلے چھوٹ گئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان مقامات میں ملائکہ سے مراد وہ نفسیاتی محرکات ہیں جو انسانی قلوب میں اثرات مرتب کرتے ہیں۔ [ايضاً ص 155]
ملائکہ سے مراد نفسیاتی محرکات:۔
اب دیکھئے اس اقتباس میں بھی پرویز صاحب نفسیاتی محرکات کو داخلی قسم کی کوئی شے قرار دے کر فریب دینے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ جب معاملہ داخلی قسم کا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے اسی انداز میں پیش فرماتے ہیں۔ جیسے مومنوں کے لیے فرمایا آیت ﴿فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهُ عَلَيْهِ﴾ [40: 9] اور کافروں کے لیے فرمایا: ﴿وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبهِمُ الرُّعْبَ﴾ [2: 59] لیکن یہ میدان بدر کا معاملہ داخلی قسم کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ خارجی امداد یا محرکات تھے۔ جیسے اگر ایک انسان دوسرے کو گالی دے تو وہ سیخ پا ہو جاتا ہے یا کوئی دوسرے کا خوف رفع کر دے تو وہ مطمئن بھی ہو جاتا ہے اور اس مصیبت کو رفع کرنے کا مشکور بھی ہوتا ہے۔ یہی صورت حال بدر میں پیش آئی تھی۔ اب اگر اس سے وہی مطلب لیا جائے جو پرویز صاحب فرما رہے ہیں۔ تو تین سو تیرہ مجاہدین کے لیے پانچ ہزار ملائکہ کی مدد کی کیا صورت بن سکتی ہے؟
”اگر ایک طرف ملائکہ ایمان و استقامت کی بنا پر اللہ کی رحمتوں کی نور افشانی کرتے ہیں تو دوسری طرف کفر و سرکشی کے لیے عذاب خداوندی کے حامل بھی ہوتے ہیں ’عذاب خداوندی‘ سے مفہوم یہ ہے۔ غلط قوموں کی پرورش کے تباہ کن نتائج۔ لہٰذا اس باب میں ملائکہ سے مراد وہ قوتیں ہیں جو قانون خداوندی کے مطابق انسانی اعمال کے نتائج مرتب کرنے کے لیے سرگرم عمل رہتی ہیں۔“ [ايضاً 158]
رحمت اور عذاب کے فرشتے: اب دیکھئے لوطؑ کے پاس فرشتے آئے اور لوطؑ کو بستی سے نکل جانے کو کہا۔ جب وہ نکل گئے تو ان فرشتوں نے قوم لوط کی بستی کو لواطت کے جرم میں الٹ مارا۔ اب اگر محض قوانین خداوندی اور علت و معلول کا سہارا لیا جائے تو ہر لوطی قوم کا یہی انجام ہونا ضروری ہے کیونکہ قوانین خداوندی میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انگلستان میں یہی عمل قوم لوط موجود ہے اور اسے قانونی جواز کی سند بھی حاصل ہے۔ اب قوانین خداوندی کے مطابق ان قوتوں (ملائکہ) کو یقیناً ان کے اعمال کا نتیجہ وہی مرتب کرنا چاہیے تھا جیسا کہ قوم لوط کے اعمال کا مرتب ہوا۔ مگر ایسا نہیں ہو رہا۔ جس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ اعمال کو مرتب کرنے والی ہستی کوئی با شعور ہستی ہے جو اپنی مشیئت کے مطابق ہی نتائج مرتب کرتی ہے جو اپنے ہی بنائے قوانین کی پابند نہیں ہے اور نہ ہی ملائکہ بے جان و بے شعور قوتیں ہیں جو لگے بندھے نتائج مرتب کریں۔ وہ فرشتے جاندار اور با شعور ہستیاں ہیں اور قانون خداوندی کی نہیں بلکہ خداوند کے حکم کی اطاعت کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہی فرشتے جب سیدنا ابراہیمؑ اور سیدنا لوطؑ کے پاس آتے ہیں تو رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور وہی فرشتے قوم لوط کے لیے عذاب کے فرشتے بن جاتے ہیں۔
”دو، تین چار پروں سے اپنی قوت کے اعتبار سے ملائکہ کے مختلف مدارج و طبقات کا ذکر مقصود ہے۔“ [ايضاً 167]
”اگر ایک طرف ملائکہ ایمان و استقامت کی بنا پر اللہ کی رحمتوں کی نور افشانی کرتے ہیں تو دوسری طرف کفر و سرکشی کے لیے عذاب خداوندی کے حامل بھی ہوتے ہیں ’عذاب خداوندی‘ سے مفہوم یہ ہے۔ غلط قوموں کی پرورش کے تباہ کن نتائج۔ لہٰذا اس باب میں ملائکہ سے مراد وہ قوتیں ہیں جو قانون خداوندی کے مطابق انسانی اعمال کے نتائج مرتب کرنے کے لیے سرگرم عمل رہتی ہیں۔“ [ايضاً 158]
رحمت اور عذاب کے فرشتے: اب دیکھئے لوطؑ کے پاس فرشتے آئے اور لوطؑ کو بستی سے نکل جانے کو کہا۔ جب وہ نکل گئے تو ان فرشتوں نے قوم لوط کی بستی کو لواطت کے جرم میں الٹ مارا۔ اب اگر محض قوانین خداوندی اور علت و معلول کا سہارا لیا جائے تو ہر لوطی قوم کا یہی انجام ہونا ضروری ہے کیونکہ قوانین خداوندی میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انگلستان میں یہی عمل قوم لوط موجود ہے اور اسے قانونی جواز کی سند بھی حاصل ہے۔ اب قوانین خداوندی کے مطابق ان قوتوں (ملائکہ) کو یقیناً ان کے اعمال کا نتیجہ وہی مرتب کرنا چاہیے تھا جیسا کہ قوم لوط کے اعمال کا مرتب ہوا۔ مگر ایسا نہیں ہو رہا۔ جس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ اعمال کو مرتب کرنے والی ہستی کوئی با شعور ہستی ہے جو اپنی مشیئت کے مطابق ہی نتائج مرتب کرتی ہے جو اپنے ہی بنائے قوانین کی پابند نہیں ہے اور نہ ہی ملائکہ بے جان و بے شعور قوتیں ہیں جو لگے بندھے نتائج مرتب کریں۔ وہ فرشتے جاندار اور با شعور ہستیاں ہیں اور قانون خداوندی کی نہیں بلکہ خداوند کے حکم کی اطاعت کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہی فرشتے جب سیدنا ابراہیمؑ اور سیدنا لوطؑ کے پاس آتے ہیں تو رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور وہی فرشتے قوم لوط کے لیے عذاب کے فرشتے بن جاتے ہیں۔
”دو، تین چار پروں سے اپنی قوت کے اعتبار سے ملائکہ کے مختلف مدارج و طبقات کا ذکر مقصود ہے۔“ [ايضاً 167]
دو دو، تین تین، چار چار پروں والے فرشتے اور ان کی قوت اور مدارج:۔
گویا پرویز صاحب کے نزدیک جیسے کوئی بجلی کی موٹر 2 ہارس پاور کی ہوتی ہے۔ کوئی تین ہارس پاور کی اور کوئی چار کی۔ یہی صورت حال فرشتوں کی بھی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ قوت اور مدارج یہ دونوں عربی زبان کے لفظ ہیں اور قرآن میں انہی معروف معانی میں استعمال بھی ہوتے ہیں۔ پھر آخر فرشتوں کے لیے قوت اور درجہ کی بجائے اجنحہ (بازو، پر) کے لفظ استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
علاوہ ازیں چڑیا کے بھی دو پر ہوتے ہیں اور چیل کے بھی۔ لیکن ان دونوں کے دو دو پر ہونے کے باوجود قوت میں بڑا فرق ہے۔ اور مختلف مدارج کا معاملہ تو پرویز صاحب ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں کہ ہر انسان کے دو دو ہی بازو ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے ہر ایک کی قوت میں فرق ہوتا ہے اور مدارج میں بھی۔ مدارج کا انحصار بازوؤں پر نہیں بلکہ تقویٰ پر ہوتا ہے۔
سو یہ ہے فرشتوں پر ایمان بالغیب، اصل مسئلہ یہ تھا کہ آیا فرشتے کوئی الگ مخلوق ہیں یا نہیں اور ان کا کوئی خارجی تشخص ہے یا نہیں؟ چونکہ یہ مسئلہ مافوق العادت (Super Natural) ہے اس لیے آپ کو ہر مقام پر تاویلات کرنا پڑیں، پرویز نے جتنی بھی ملائکہ کی تعبیریں پیش کی ہیں۔ یہ سب انسانوں حتیٰ کہ کافروں اور دہریوں میں بھی مسلم ہیں۔ لہٰذا ان کا نہ ایمان بالغیب سے کوئی تعلق ہے اور نہ قرآن کے واضح ارشادات ہیں۔
[54] شیطان کی آدم کو فریب دہی:۔ مندرجہ بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شیطان (ابلیس) نے جو آدمؑ کا پہلے دن سے ہی رقیب اور دشمن بن گیا تھا۔ آدم کو گمراہ کرنے اور اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کرنے کے لیے کیا کچھ نہ کیا ہو گا شیطان وسوسے ڈالتا رہا اور سیدنا آدمؑ بچتے ہی رہے۔ آخر ایک مدت گزرنے کے بعد شیطان نے آدمؑ کو کئی طرح کے سبز باغ دکھا کر اسے اپنے دامن تزویر میں پھانس ہی لیا۔ اس لیے آدمؑ سے کہا: ”اللہ کی قسم! میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور جس درخت سے تم بچ رہے ہو اسے کھاؤ گے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہو گے اور اللہ کے مقرب بن جاؤ گے۔“ سیدنا آدمؑ اس کے فریب میں آ گئے، درخت کے پھل کو کھایا تو فوراً جنتی لباس چھن گیا اور جنت کے پتوں سے اپنے بدن کو ڈھانپنے لگے اور فوراً انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔
ضمناً یہ بحث بھی نکلی کہ انبیاء سے خطا سرزد ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:﴿ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ﴾[115: 20] آدمؑ (مدت مدید گزرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عہد کو) بھول گئے تھے اور ہم نے اس میں (نافرمانی کا) ارادہ نہیں پایا۔ گویا معلوم ہوا کہ انبیاء سے بھول چوک لغزش یا نافرمانی ہو سکتی ہے۔ عمداً نہیں اور عصمت انبیاء کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر انبیاء سے کوئی غلطی یا خطا سرزد ہو تو وہ معاف کر دی جاتی ہے اور اگر کوئی قابل تلافی معاملہ ہو تو بذریعہ وحی اس کی تلافی بھی کر دی جاتی ہے۔
[55] یعنی شیطان کے روز اول سے انسان کا دشمن ہونے کی وجہ تو واضح طور پر بیان ہو چکی ہے لہٰذا انسان اگر شیطان کو فی الواقع دشمن سمجھے گا تو تب ہی اس کی نجات کی توقع ہو سکتی ہے اور بغض و عداوت کا مقام دنیا تو ہو سکتا ہے۔ جنت نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا سب کو جنت سے نکالا اور دنیا میں چلے جانے کا حکم دے دیا گیا۔
علاوہ ازیں چڑیا کے بھی دو پر ہوتے ہیں اور چیل کے بھی۔ لیکن ان دونوں کے دو دو پر ہونے کے باوجود قوت میں بڑا فرق ہے۔ اور مختلف مدارج کا معاملہ تو پرویز صاحب ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں کہ ہر انسان کے دو دو ہی بازو ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے ہر ایک کی قوت میں فرق ہوتا ہے اور مدارج میں بھی۔ مدارج کا انحصار بازوؤں پر نہیں بلکہ تقویٰ پر ہوتا ہے۔
سو یہ ہے فرشتوں پر ایمان بالغیب، اصل مسئلہ یہ تھا کہ آیا فرشتے کوئی الگ مخلوق ہیں یا نہیں اور ان کا کوئی خارجی تشخص ہے یا نہیں؟ چونکہ یہ مسئلہ مافوق العادت (Super Natural) ہے اس لیے آپ کو ہر مقام پر تاویلات کرنا پڑیں، پرویز نے جتنی بھی ملائکہ کی تعبیریں پیش کی ہیں۔ یہ سب انسانوں حتیٰ کہ کافروں اور دہریوں میں بھی مسلم ہیں۔ لہٰذا ان کا نہ ایمان بالغیب سے کوئی تعلق ہے اور نہ قرآن کے واضح ارشادات ہیں۔
[54] شیطان کی آدم کو فریب دہی:۔ مندرجہ بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شیطان (ابلیس) نے جو آدمؑ کا پہلے دن سے ہی رقیب اور دشمن بن گیا تھا۔ آدم کو گمراہ کرنے اور اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کرنے کے لیے کیا کچھ نہ کیا ہو گا شیطان وسوسے ڈالتا رہا اور سیدنا آدمؑ بچتے ہی رہے۔ آخر ایک مدت گزرنے کے بعد شیطان نے آدمؑ کو کئی طرح کے سبز باغ دکھا کر اسے اپنے دامن تزویر میں پھانس ہی لیا۔ اس لیے آدمؑ سے کہا: ”اللہ کی قسم! میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور جس درخت سے تم بچ رہے ہو اسے کھاؤ گے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہو گے اور اللہ کے مقرب بن جاؤ گے۔“ سیدنا آدمؑ اس کے فریب میں آ گئے، درخت کے پھل کو کھایا تو فوراً جنتی لباس چھن گیا اور جنت کے پتوں سے اپنے بدن کو ڈھانپنے لگے اور فوراً انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔
ضمناً یہ بحث بھی نکلی کہ انبیاء سے خطا سرزد ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:﴿ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ﴾[115: 20] آدمؑ (مدت مدید گزرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عہد کو) بھول گئے تھے اور ہم نے اس میں (نافرمانی کا) ارادہ نہیں پایا۔ گویا معلوم ہوا کہ انبیاء سے بھول چوک لغزش یا نافرمانی ہو سکتی ہے۔ عمداً نہیں اور عصمت انبیاء کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر انبیاء سے کوئی غلطی یا خطا سرزد ہو تو وہ معاف کر دی جاتی ہے اور اگر کوئی قابل تلافی معاملہ ہو تو بذریعہ وحی اس کی تلافی بھی کر دی جاتی ہے۔
[55] یعنی شیطان کے روز اول سے انسان کا دشمن ہونے کی وجہ تو واضح طور پر بیان ہو چکی ہے لہٰذا انسان اگر شیطان کو فی الواقع دشمن سمجھے گا تو تب ہی اس کی نجات کی توقع ہو سکتی ہے اور بغض و عداوت کا مقام دنیا تو ہو سکتا ہے۔ جنت نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا سب کو جنت سے نکالا اور دنیا میں چلے جانے کا حکم دے دیا گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اعزاز آدم علیہ السلام ٭٭
آدم علیہ السلام کی یہ اور بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کرانے کے بعد انہیں جنت میں رکھا اور ہر چیز کی رخصت دے دی ابن مردویہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! نبی بھی، رسول بھی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے آمنے سامنے بات چیت کی اور انہیں فرمایا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ [ابن حبان:361:صحیح] عام مفسرین کا بیان ہے کہ آسمانی جنت میں انہیں بسایا گیا تھا لیکن معتزلہ اور قدریہ کہتے ہیں کہ یہ جنت زمین پر تھی۔ سورۃ الاعراف میں اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اس عبارت قرآنی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں رہنے سے پہلے حواء پیدا کی گئی تھیں۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب وغیرہ کے علماء سے بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ ابلیس کے مردود قرار دینے کے بعد آدم علیہ السلام کے علم کو ظاہر کر کے پھر ان پر اونگھ کی فوقیت طاری کر دی گئی اور ان کی بائیں پسلی سے حواء کو پیدا کیا۔ جب آنکھ کھول کر آدم علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو اپنے خون اور گوشت کی وجہ سے ان میں انس و محبت ان کے دل میں پیدا ہوئی۔ پھر پروردگار نے انہیں ان کے نکاح میں دیا اور جنت میں رہائش کا حکم عطا فرمایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:514/1] بعض کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد حواء پیدا کی گئیں۔
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ابلیس کو جنت سے نکالنے کے بعد آدم علیہ السلام کو جنت میں جگہ دی گئی۔ لیکن تن تنہا تھے اس وجہ سے ان کی نیند میں حواء کو ان کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ جاگے، انہیں دیکھا تو پوچھا تم کون ہو اور کیوں پیدا کی گئی ہو؟ حواء علیہا السلام نے فرمایا میں ایک عورت ہوں اور آپ علیہ السلام کے ساتھ رہنے اور تسکین کا سبب بننے کے لیے پیدا کی گئی ہوں تو فوراً فرشتوں نے پوچھا فرمائیے ان کا نام کیا ہے؟ آدم علیہ السلام نے کہا «حوا» انہوں نے کہا اس نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ فرمایا اس لیے کہ یہ ایک زندہ سے پیدا کی گئی ہیں۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی آواز آئی، اے آدم اب تم اور تمہاری بیوی جنت میں با آرام و اطمینان رہو اور جو چاہو کھاؤ۔
لیکن ایک خاص درخت سے روکنا دراصل امتحان تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ انگور کی بیل تھی۔ کوئی کہتا ہے۔ گیہوں کا درخت تھا۔ کسی نے سنبلہ کہا ہے۔ کسی نے کھجور، کسی نے انجیر کہا ہے۔ کسی نے کہا ہے اس درخت کے کھانے سے انسانی حاجت ہوتی تھی جو جنت کے لائق نہیں۔ کسی نے کہا ہے، اس درخت کا پھل کھا کر فرشتے ہمیشہ کی زندگی پا گئے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کوئی ایک درخت تھا جس سے اللہ نے روک دیا۔ نہ قرآن سے اس کا تعین ثابت ہوتا ہے نہ کسی صحیح حدیث سے۔ مفسرین میں اختلاف ہے اور اس کے معلوم ہونے سے کوئی اہم فائدہ اور نہ معلوم ہونے سے کوئی نقصان نہیں۔ لہٰذا اس کی جستجو کی کیا ضرورت؟ اللہ ہی کو اس کا بہتر علم ہے۔
امام رازی رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے اور ٹھیک بات بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔ «عنھا» کی ضمیر کا مرجع بعض نے جنت کہا ہے اور بعض نے شجرہ۔ ایک قرأت «فازالھما» بھی ہے تو معنی یہ ہوئے کہ اس جنت سے ان دونوں کو بے تعلق اور الگ کر دیا اور دوسرے معنی یہ بھی ہوئے کہ اسی درخت کے سبب شیطان نے انہیں بہکا دیا۔
امام رازی رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے اور ٹھیک بات بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔ «عنھا» کی ضمیر کا مرجع بعض نے جنت کہا ہے اور بعض نے شجرہ۔ ایک قرأت «فازالھما» بھی ہے تو معنی یہ ہوئے کہ اس جنت سے ان دونوں کو بے تعلق اور الگ کر دیا اور دوسرے معنی یہ بھی ہوئے کہ اسی درخت کے سبب شیطان نے انہیں بہکا دیا۔
سفر ارضی کا آغاز ٭٭
لفظ «عن» سبب کے معنی میں بھی آیا ہے آیت «يُؤْفَكُ عَنْهُ» میں۔ [51-الذاريات:9] اس نافرمانی کی وجہ سے جنتی لباس اور وہ پاک مکان، نفیس روزی وغیرہ سب چھن گئی اور دنیا میں اتار دئیے گئے اور کہہ دیا گیا کہ اب تو زمین میں ہی تمہارا رزق ہے، قیامت تک یہیں پڑے رہو گے اور اس سے فائدہ حاصل کرتے رہو گے۔ سانپ اور ابلیس کا قصہ، یعنی ابلیس کس طرح جنت میں پہنچا۔ کس طرح وسوسہ ڈالا وغیرہ، اس کے بارے میں لمبے چوڑے قصے مفسرین نے لکھے ہیں لیکن وہ سب بنی اسرائیل کے ہاں کا خزانہ ہے، تاہم ہم انہیں سورۃ الاعراف میں بیان کریں گے کیونکہ اس واقعہ کا بیان وہاں کسی قدر تفصیل کے ساتھ ہے۔
ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ درخت کا پھل چکھتے ہی جنتی لباس اتر گیا۔ اپنے تئیں ننگا دیکھ کر ادھر ادھر دوڑنے لگے لیکن چونکہ قد طویل تھا اور سر کے بال لمبے تھے، وہ ایک درخت میں اٹک گئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم کیا مجھ سے بھاگتے ہو؟ عرض کیا نہیں الٰہی میں تو شرمندگی سے منہ چھپائے پھرتا ہوں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:139/1] ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم! میرے پاس سے چلے جاؤ، مجھے میری عزت کی قسم میرے پاس میرے نافرمان نہیں رہ سکتے، اگر اتنی مخلوق تم میں پیدا کروں کہ زمین بھر جائے اور پھر وہ میری نافرمانی کرے تو یقیناً میں اسے بھی نافرمانوں کے گھر میں پہنچا دوں۔ یہ روایت غریب ہے اور ساتھ ہی اس میں انقطاع بلکہ اعضال بھی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آدم علیہ السلام نماز عصر کے بعد سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک کی ایک ساعت ہی جنت میں رہے۔ [مستدرک حاکم: 542/2: حسن] حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ایک ساعت ایک سو تیس سال کی تھی۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں نویں یا دسویں ساعت میں آدم کا اخراج ہوا۔ ان کے ساتھ جنت کی ایک شاخ تھی اور جنت کے درخت کا ایک تاج سر پر تھا۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آدم ہند میں اترے، آپ علیہ السلام کے ساتھ حجر اسود تھا اور جنتی درخت کے پتے جو ہند میں پھیلا دئیے اور اس سے خوشبودار درخت پیدا ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہند کے شہر ”دھنا“ میں اترے تھے۔ [مستدرک حاکم: 542/2: ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ مکہ اور طائف کے درمیان اترے تھے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:131/1] حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں آدم علیہ السلام ہند میں اور مائی حوا جدہ میں اتریں اور ابلیس بصرہ سے چند میل کے فاصلہ پر دست میساں میں پھینکا گیا اور سانپ اصفہان میں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:132/1]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ آدم علیہ السلام صفا پر اور حواء مروہ پر اترے۔ اترتے وقت دونوں ہاتھ گھٹنوں پر تھے اور سر جھکا ہوا تھا اور ابلیس انگلیوں میں انگلیاں ڈالے آسمان کی طرف نظریں جمائے اترا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام صفتیں سکھا دیں اور پھلوں کا توشہ دیا۔ [مستدرک حاکم543/2:موقوف] ایک حدیث میں ہے کہ تمام دنوں میں بہتر دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی میں جنت میں داخل کئے گئے۔ اور اسی دن نکالے گئے ملاحظہ ہو صحیح مسلم اور نسائی۔ [صحیح مسلم:854:صحیح]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ آدم علیہ السلام صفا پر اور حواء مروہ پر اترے۔ اترتے وقت دونوں ہاتھ گھٹنوں پر تھے اور سر جھکا ہوا تھا اور ابلیس انگلیوں میں انگلیاں ڈالے آسمان کی طرف نظریں جمائے اترا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام صفتیں سکھا دیں اور پھلوں کا توشہ دیا۔ [مستدرک حاکم543/2:موقوف] ایک حدیث میں ہے کہ تمام دنوں میں بہتر دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی میں جنت میں داخل کئے گئے۔ اور اسی دن نکالے گئے ملاحظہ ہو صحیح مسلم اور نسائی۔ [صحیح مسلم:854:صحیح]
امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی وجوہات مضمر ہیں۔ اول تو یہ سوچنا چاہیئے کہ ذرا سی لغزش پر آدم علیہ السلام کو کس قدر سزا ہوئی۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ تم گناہوں پر گناہ کئے جاتے ہو اور جنت کے طالب ہو کیا تم بھول گئے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو محض ایک ہلکے سے گناہ پر جنت سے نکال دیا گیا۔ ہم تو یہاں دشمن کی قید میں ہیں، دیکھئیے! کب صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے وطن پہنچیں۔ فتح موصلی کہتے ہیں ہم جنتی تھے، ابلیس کے بہکانے میں آ کر دنیا کی قید میں آ پھنسے، اب سوائے غم و رنج کے یہاں کیا رکھا ہے؟ یہ قید و بند اسی وقت ٹوٹے گی جب ہم وہیں پہنچ جائیں جہاں سے نکالے گئے ہیں۔
اگر کوئی معترض اعتراض کرے کہ جب آدم علیہ السلام آسمانی جنت میں تھے اور ابلیس راندہء درگاہ ہو چکا تھا تو پھر وہ وہاں کیسے پہنچا؟ تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ وہ جنت زمین میں تھی لیکن اس کے علاوہ اور بھی بہت سے جواب ہیں کہ بطور اکرام کے اس کا داخل ہونامنع تھا نہ کہ بطور اہانت اور چوری کے۔ چنانچہ توراۃ میں ہے کہ سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں گیا اور یہ بھی جواب ہے کہ وہ جنت میں نہیں گیا تھا بلکہ باہر ہی سے اس نے وسوسہ ان کے دل میں ڈالا تھا۔ اور بعض نے کہا ہے کہ زمین سے ہی وسوسہ ان کے دل میں ڈالا۔ قرطبی رحمہ اللہ نے یہاں پر سانپوں کے بارے میں اور ان کے مار ڈالنے کے حکم سے متعلق حدیثیں بھی تحریر کی ہیں جو بہت مفید اور باموقع ہیں۔