ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 272

لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ اللّٰہِ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یُّوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۲﴾
تیرے ذمے انھیں ہدایت دینا نہیں اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے سو تمھارے اپنے ہی لیے ہے اور تم خرچ نہیں کرتے مگر اللہ کا چہرہ طلب کرنے کے لیے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے وہ تمھیں پورا ادا کیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ En
(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،
En
انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 272) ➊ { لَيْسَ عَلَيْكَ هُدٰىهُمْ …:} اس آیت سے پہلے اور بعد میں صدقے کے مسائل و فضائل بیان ہو رہے ہیں، درمیان میں یہ کہنا کہ تیرے ذمے ان کی ہدایت نہیں کیا مناسبت رکھتا ہے؟ اکثر مفسرین نے تو {هُدٰىهُمْ} سے مراد کفار کی ہدایت لی ہے اور اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ رشتے دار یا ضرورت مند اگر کافر ہے تو اس پر بھی صدقہ کرو، کافر ہونے کی وجہ سے صدقے سے ہاتھ نہ روکو، کیونکہ ان (کفار) کی ہدایت تمھارے ذمے نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کو تھوڑی سی چیز دینا بھی ناپسند کرتے تھے، پھر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور یہ آیت اتری: «‏‏‏‏لَيْسَ عَلَيْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ» ‏‏‏‏ [السنن الکبرٰی للنسائی، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏لیس علیک ھداھم» ‏‏‏‏: 37/10، ح: ۱۰۹۸۶]
صلح حدیبیہ کی مدت میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما کی والدہ، جو مشرکہ تھی، ان کے پاس آئی تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میری والدہ آئی ہے، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔ [بخاری، الأدب، باب صلۃ المرأۃ أمھا…: ۵۹۷۹]
اسلام کی رحمت عام کو دیکھیے کہ مشرک پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے، بشرطیکہ وہ حالت جنگ میں نہ ہو، بلکہ کسی جانور پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے، جیسا کہ پیاسے کتے کو پانی پلانے والے شخص کی اس عمل کی وجہ سے بخشش ہو گئی۔ صحابہ نے پوچھا: کیا جانوروں کے بارے میں بھی ہمیں اجر ملتا ہے؟ فرمایا: جو بھی تر جگر والا (جاندار) ہے اس میں اجر ہے۔ [بخاری، الأدب، باب رحمۃ الناس و البہائم: ۶۰۰۹] لیکن یاد رہے کہ کفار پر صرف نفل صدقہ جائز ہے، فرض زکوٰۃ نہیں، اس پر امت کا اجماع ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مسلمانوں کے اغنیاء سے لی جاتی ہے اور انھی کے فقراء پر لوٹائی جاتی ہے۔ [بخاری، الزکوٰۃ، باب وجوب الزکٰوۃ: ۱۳۹۵] صدقہ فطر چونکہ فرض ہے اس لیے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ بعض مفسرین نے { هُدٰىهُمْ } سے مراد وہ مسلمان لیے ہیں جن کی ہدایت میں خامی ہے اور جن کا تذکرہ پچھلی آیات میں آیا ہے، یعنی ریا سے صدقہ کرنے والے، صدقہ کرکے تکلیف دینے والے، یا احسان رکھنے والے، یا نکمّی چیز خرچ کرنے والے۔ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان لوگوں کا رویہ دیکھ کر تنگ دل نہ ہوں، انھیں ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔
➋ {وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ:} یعنی مسلمانوں پر خرچ کرو یا کفار پر، جس مال یا وقت یا اثر و رسوخ یا علم سے کسی کو فائدہ پہنچاؤ اس کا فائدہ تمھی کو ہے، یعنی دنیا میں سعادت و برکت اور آخرت میں ثواب اور دخول جنت۔
➌ { وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ:} عام طور پر اس کا ترجمہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیا جاتا ہے، مگر جو لطف اللہ کا چہرہ طلب کرنے کے لیے میں ہے وہ دوسرے لفظ میں کبھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ{ وَجْهِ } کا اصل معنی چہرہ ہے اور حقیقی معنی مراد لینے میں کوئی خرابی بھی نہیں، کیونکہ مومن کی سب سے بڑی طلب اور تمنا اللہ تعالیٰ کے چہرے کا دیدار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ نعمت عطا فرمائے۔ (آمین) یہاں لفظ اگرچہ نفی کے ہیں مگر مراد نہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے چہرے کی طلب کے سوا خرچ مت کرو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

272۔ 1 تفسیری روایات میں اس کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان اپنے مشرک رشتے داروں کی مدد کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہدایت کے راستے پر لگا دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی تم جو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا پورا اجر ملے گا جس سے یہ معلوم ہوا کہ غیر مسلم رشتے دار کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرنا باعث اجر ہے تاہم زکاۃ صرف مسلمان کا حق ہے کسی غیر مسلم کو نہیں دی جاسکتی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

272۔ لوگوں کو راہ راست پر لانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری [388] نہیں۔ بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے ہی لیے ہے۔ اور جو تم خرچ کرتے ہو وہ اللہ ہی کی رضا کے لیے کرتے ہو۔ اور جو بھی مال و دولت تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی نہیں کی جائے گی
[388] صدقہ غیر مسلموں کو دینا درست ہے:۔
ابتدا مسلمان اپنے غیر مسلم رشتہ داروں اور دوسرے غیر مسلم محتاجوں کی مدد کرنے میں تامل کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صرف مسلمان محتاجوں کی مدد کرنا ہی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں ہدایت اتار دینے کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ آپ نے حق بات پہنچا دی، آگے ان کو راہ راست سمجھا دینا اللہ کا کام ہے۔ رہا دنیوی مال و متاع سے ان کی حاجات پوری کرنا تو اللہ کی رضا کے لیے تم جس حاجت مند کی بھی مدد کرو گے اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مستحق صدقات کون ہیں ٭٭
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، [تفسیر ابن جریر الطبری:6202]‏‏‏‏ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہر سائل کو دو، گو وہ کسی مذہب کا ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6199]‏‏‏‏
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا والی روایت آیت «لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّـهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ» [60-سورة الممتحنة: 8]‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لیے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاءَ فَعَلَيْهَا» [45۔ الجاثیہ: 15]‏‏‏‏ اور «مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ» [41-فصلت: 46]‏‏‏‏ اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایماندار کا ہر خرچ اللہ ہی کیلئے ہوتا ہے گو وہ خود کھائے پئے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1115/3]‏‏‏‏ عطا خراسان اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب تم نے اپنی مرضی سے مولا اور رضائے رب کیلئے دِیا تو لینے والا خواہ کوئی بھی ہو اور کیسے ہی اعمال کا کرنے والا ہو، [تفسیر ابن ابی حاتم:1113/3]‏‏‏‏ یہ مطلب بھی بہت اچھا ہے، حاصل یہ ہے کہ نیک نیتی سے دینے والے کا اجر تو اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا ہے۔ اب خواہ وہ مال کسی نیک کے ہاتھ لگے یا بد کے یا غیر مستحق کے، اسے اپنے قصد اور اپنی نیک نیتی کا ثواب مل گیا۔ جبکہ اس نے دیکھ بھال کر لی پھر غلطی ہوئی تو ثواب ضائع نہیں جاتا اسی لیے آیت کے آخر میں بدلہ ملنے کی بشارت دی گئی۔
اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آیا کہ ایک شخص نے قصد کیا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا، لے کر نکلا اور چپکے سے ایک عورت کو دے کر چلا آیا، صبح لوگوں میں باتیں ہونے لگیں کہ آج رات کو کوئی شخص ایک بدکار عورت کو خیرات دے گیا، اس نے بھی سنا اور اللہ کا شکر ادا کیا، پھر اپنے جی میں کہا آج رات اور صدقہ دوں گا، لے کر چلا اور ایک شخص کی مٹھی میں رکھ کر چلا آیا، صبح سنتا ہے کہ لوگوں میں چرچا ہو رہا ہے کہ آج شب ایک مالدار کو کوئی صدقہ دے گیا، اس نے پھر اللہ کی حمد کی اور ارادہ کیا کہ آج رات کو تیسرا صدقہ دوں گا، دے آیا، دن کو پھر معلوم ہوا کہ وہ چور تھا تو کہنے لگا، اللہ تیری تعریف ہے زانیہ عورت کے دئیے جانے پر بھی، مالدار شخص کو دئیے جانے پر بھی اور چور کو دینے پر بھی، خواب میں دیکھتا ہے کہ فرشتہ آیا اور کہہ رہا ہے تیرے تینوں صدقے قبول ہو گئے۔ شاید بدکار عورت مال پا کر اپنی حرام کاری سے رُک جائے اور شاید مالدار کو عبرت حاصل ہو اور وہ بھی صدقے کی عادت ڈال لے اور شاید چور مال پا کر چوری سے باز رہے۔ [صحیح بخاری:1421]‏‏‏‏
پھر فرمایا صدقہ ان مہاجرین کا حق ہے جو دنیوی تعلقات کاٹ کر ہجرتیں کر کے وطن چھوڑ کر کنبے قبیلے سے منہ موڑ کر اللہ کی رضا مندی کیلئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے ہیں، جن کے معاش کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جو انہیں کافی ہو اور وہ سفر کر سکتے ہیں کہ چل پھر کر اپنی روزی حاصل کریں «ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ» کے معنی مسافرت کے ہیں جیسے «وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ» [4-النسأ: 101]‏‏‏‏ اور «يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ» [73۔ المزمل: 20]‏‏‏‏ میں ان کے حال سے جو لوگ ناواقف ہیں وہ ان کے لباس اور ظاہری حال اور گفتگو سے انہیں مالدار سمجھتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے مسکین وہی نہیں جو دربدر جاتے ہیں کہیں سے دو ایک کھجوریں مل گئیں کہیں سے دو ایک لقمے مل گئے، کہیں سے دو ایک وقت کا کھانا مل گیا بلکہ وہ بھی مسکین ہے جس کے پاس اتنا نہیں جس سے وہ بےپرواہ ہو جائے اور اس نے اپنی حالت بھی ایسی نہیں بنائی جس سے ہر شخص اس کی ضرورت کا احساس کرے اور کچھ احسان کرے اور نہ وہ سوال کے عادی ہیں۔ [صحیح بخاری:1479]‏‏‏‏ تو انہیں ان کی اس حالت سے جان لے گا جو صاحب بصیرت پر مخفی نہیں رہتیں۔
جیسے اور جگہ ہے «سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ» [48۔ الفتح: 29]‏‏‏‏ ان کی نشانیاں ان کے چہروں پر ہیں اور فرمایا «وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ» [47۔ محمد: 30]‏‏‏‏ ان کے لب و لہجہ سے تم انہیں پہچان لو گے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مومن کی دانائی سے بچو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، [سنن ترمذي:3127، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ سنو قرآن کا فرمان ہے «اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ» [45۔ الحجر: 75]‏‏‏‏ بالیقین اس میں اہل بصیرت کیلئے نشانیاں ہیں، یہ لوگ کسی پر بوجھل نہیں ہیں، کسی سے ڈھٹائی کے ساتھ سوال نہیں کرتے نہ اپنے پاس ہوتے ہوئے کسی سے کچھ طلب کرتے ہیں، جس کے پاس ضرورت کے مطابق ہو اور پھر بھی وہ سوال کرے وہ چپک کر مانگنے والا کہلاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لے کر چلے جانے والے ہی مسکین نہیں بلکہ حقیقتاً مسکین وہ ہیں جو باوجود حاجت کے خودداری برتیں اور سوال سے بچیں۔
دیکھو قرآن کہتا ہے «لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا» [2۔ البقرہ: 273]‏‏‏‏ یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مروی ہے، قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کو ان کی والدہ فرماتی ہیں تم بھی جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ لاؤ جس طرح اور لوگ جا کر لے آتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں جب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ فرما رہے تھے کہ جو شخص سوال سے بچے گا اللہ بھی اسے سوال سے بچا لے گا، جو شخص بےپرواہی برتے گا اللہ اسے فی الواقع بے نیاز کر دے گا، جو شخص پانچ اوقیہ کے برابر مال رکھتے ہوئے بھی سوال کرے وہ چمٹنے والا سوالی ہے، میں نے اپنے دِل میں سوچا کہ ہمارے پاس تو ایک اونٹنی ہے جو پانچ اوقیہ سے بہت بہتر ہے۔ ایک اونٹنی غلام کے پاس ہے وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمت کی ہے پس میں تو یونہی سوال کئے بغیر ہی چلا آیا۔ [مسند احمد:138/4:صحیح]‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما کا ہے۔
اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جو لوگوں سے کنارہ کرے گا اللہ اسے آپ کفایت کرے گا اور جو ایک اوقیہ رکھتے ہوئے سوال کرے گا وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے، ان کی اونٹنی کا نام یاقوتہ تھا، [مسند احمد:9/3-44:حسن]‏‏‏‏ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ جس کے پاس بےپرواہی کے لائق ہو پھر بھی وہ سوال کرے، قیامت کے دن اس کے چہرہ پر اس کا سوال زخم بنا ہو گا اس کا منہ نچا ہوا ہو گا، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کتنا پاس ہو تو؟ فرمایا پچاس درہم یا اس کی قیمت کا سونا، [سنن ابوداود:1626، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث ضعیف ہے، شام میں ایک قریشی تھے جنہیں معلوم ہوا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ضرورت مند ہیں تو تین سو گنیاں انہیں بھجوائیں، آپ رضی اللہ عنہما خفا ہو کر فرمانے لگے اس اللہ کے بندے کو کوئی مسکین ہی نہیں ملا؟ جو میرے پاس یہ بھیجیں، میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ چالیس درہم جس کے پاس ہوں اور پھر وہ سوال کرے وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما کے گھرانے والوں کے پاس تو چالیس درہم بھی ہیں، چالیس بکریاں بھی ہیں اور دو غلام بھی ہیں۔ [طبرانی کبیر:150/2]‏‏‏‏ ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ چالیس درہم ہوتے ہوئے سوال کرنے والا الحاف کرنے والا اور مثل ریت کے ہے۔ [سنن نسائی:2595، قال الشيخ الألباني:حسن بالشواھد]‏‏‏‏
پھر فرمایا تمہارے تمام صدقات کا اللہ کو علم ہے اور جبکہ تم پورے محتاج ہو گئے، اللہ پاک اس وقت تمہیں اس کا بدلہ دے گا، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ پھر ان لوگوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں جو ہر وقت اللہ کے فرمان کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں، انہیں اجر ملے گا اور ہر خوف سے امن پائیں گے، بال بچوں کے کھلانے پر بھی انہیں ثواب ملے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے سال جبکہ آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کی عیادت کو گئے تو فرمایا ایک روایت میں ہے کہ حجۃ الوداع والے سال فرمایا تو جو کچھ اللہ کی خوشی کیلئے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تیرے درجات بڑھائے گا، یہاں تک کہ تو جو اپنی بیوی کو کھلائے پلائے اس کے بدلے بھی، [صحیح بخاری:6733:صحیح]‏‏‏‏
مسند میں ہے کہ مسلمان طلب ثواب کی نیت سے اپنے بال بچوں پر بھی جو خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، [مسند احمد:120/4:صحیح]‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول مسلمان مجاہدین کا وہ خرچ ہے جو وہ اپنے گھوڑوں پر کرتے ہیں ۔ [طبرانی کبیر:188/17:ضعیف جداً]‏‏‏‏]‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے، جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے پاس چار درہم تھے جن میں سے ایک راہ اللہ رات کو دِیا، ایک دن کو ایک پوشیدہ ایک ظاہر تو یہ آیت اتری، [میزان الاعتدال:682/2:ضعیف جداً]‏‏‏‏ یہ روایت ضعیف ہے۔ دوسری سند سے یہی مروی ہے، [طبرانی:11164:ضعیف جداً]‏‏‏‏ اطاعت الٰہی میں جو مال ان لوگوں نے خرچ کیا اس کا بدلہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے لیں گے، یہ لوگ نڈر اور بے غم ہیں۔