ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 191

وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ وَ اَخۡرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ اَخۡرَجُوۡکُمۡ وَ الۡفِتۡنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوۡہُمۡ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوۡکُمۡ فِیۡہِ ۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡکُمۡ فَاقۡتُلُوۡہُمۡ ؕ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹۱﴾
اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پائو اور انھیں وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تمھیں نکالا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو، یہاں تک کہ وہ اس میں تم سے لڑیں، پھر اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو، ایسے ہی کافروں کی جزا ہے۔ En
اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے
En
انہیں مارو جہاں بھی پاؤ اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکاﻻ ہے اور (سنو) فتنہ قتل سے زیاده سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے لڑائی نہ کرو جب تک کہ یہ خود تم سے نہ لڑیں، اگر یہ تم سے لڑیں تو تم بھی انہیں مارو کافروں کا بدلہ یہی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 192،191) ➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ فتح کیا اور ۹ہجری میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور انھیں سورۂ توبہ میں مذکور اعلان کرنے کا حکم دیا جس کے مطابق مشرکین کو چار ماہ تک مکہ میں اور سرزمین عرب میں چلنے پھرنے کی اجازت دی گئی، اس کے بعد مسلمان نہ ہونے کی صورت میں وہ جہاں ملیں انھیں قتل کرنے کا حکم دے کر جزیرۂ عرب سے نکال دیا گیا۔ دیکھیے سورۂ توبہ کی پہلی پانچ آیات۔ پھر یہود کو بھی پہلے مدینہ سے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وصیت کے مطابق عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سر زمین عرب سے نکال دیا گیا۔ یہ سب اسی { وَ اَخْرِجُوْهُمْ } کے حکم کی تعمیل تھی۔
➋ {الْفِتْنَةُ:} اس کا اصل معنی آزمائش میں ڈالنا ہے، مفسرین سلف نے اس کا معنی شرک کیا ہے اور «وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ» کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ بے شک مشرکین کو قتل کرنے کا حکم بڑی سخت بات ہے، مگر وہ جس طرح شرک پر اڑے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کر کے انھیں دوبارہ مشرک بنانے کے لیے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان کا یہ شرک کرنا اور مسلمانوں کو اس پر مجبور کرنا اس سے بھی سخت جرم ہے۔ لہٰذا اس جرم کی پاداش میں کسی اندیشے اور سوچ بچار کے بغیر انھیں بے دریغ قتل کرو، یہاں تک کہ اللہ کا دین اتنا غالب ہو جائے کہ کسی کو مسلمان ہونے والے شخص پر ظلم و ستم کرکے اسے دین سے برگشتہ کرنے کی جرأت باقی نہ رہے۔ دوسرا معنی امام طبری رحمہ اللہ نے یہ کیا ہے کہ کسی مومن کو اسلام قبول کرنے پر آزمائش میں ڈالنا، یہاں تک کہ وہ اسلام سے برگشتہ ہو کر دوبارہ مشرک بن جائے، اس مومن کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ اور نقصان دہ ہے کہ وہ اسلام پر قائم رہتا اور اسی پر قتل ہو جاتا (کیونکہ قتل تو ایک ہی دفعہ ہو جاتا ہے، جب کہ کفار کی طرف سے سزا اور عذاب کا سلسلہ جاری رہتا ہے)۔ (طبری) مجاہد رحمہ اللہ کے الفاظ یہ ہیں کہ مومن کا بت پرستی کی طرف لوٹ جانا اس پر قتل ہونے سے بھی زیادہ سخت ہے۔اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ بے شک ان کفار کو قتل کرنا بڑی سخت بات ہے، مگر جو معاملہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں وہ ان کے لیے قتل ہو جانے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے، تو مسلمانوں کو قتل ہو جانے سے بھی بڑی تکلیف اور آزمائش میں مبتلا کرنے کے مقابلے میں مسلمانوں کا انھیں قتل کرنا کم سخت ہے۔ «وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ» کے الفاظ میں دونوں معنی موجود ہیں اور یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے۔
➌ { وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ:} یعنی سرزمین مکہ حرم ہے، اس میں قتل و قتال منع ہے، مگر کفار اس میں لڑنے کی ابتدا کریں تو تمھارے لیے بھی لڑنا جائز ہے، پھر اگر وہ لڑائی کریں تو پھر تم صرف قتال (لڑائی) ہی نہیں بلکہ انھیں قتل کرو، ایسے کافروں کی یہی جزا ہے۔ {الْكٰفِرِيْن} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ایسے کافروں کیا گیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

191۔ 1 مکہ میں مسلمان چونکہ کمزور اور منتشر تھے اس لئے کفار سے قتال ممنوع تھا ہجرت کے بعد مسلمانوں کی ساری قوت مدینہ میں جمع ہوگئی تو پھر ان کو جہاد کی اجازت دے دی گئی۔ ابتداء میں آپ صرف انہی سے لڑتے جو مسلمانوں سے لڑنے میں پہل کرتے اس کے بعد اس میں مزید توسیع کردی گئی اور مسلمانوں نے حسب ضرورت کفار کے علاقوں میں بھی جا کر جہاد کیا قرآن کریم نے (اَعْندَا) زیادتی کرنے سے منع فرمایا اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کو تاکید فرماتے کہ خیانت، بد عہدی اور مثلہ نہ کرنا نہ بچوں اور عورتوں اور گرجوں میں مصروف عبادت کرنے والوں کو قتل کرنا۔ اسی طرح درختوں کو جلانے اور حیوانات کو بغیر کسی مصلحت کے مارنے سے بھی منع فرمایا (ابن کثیر)۔ جس طرح کفار نے تمہیں مکہ سے نکالا تھا اسی طرح تم بھی ان کو مکہ سے نکال باہر کرو۔ چناچہ فتح مکہ کے بعد جو لوگ مسلمان نہیں ہوئے انہیں مدت معاہدہ ختم ہونے کے بعد وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔ فتنہ سے مراد کفر و شرک ہے یہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے اس لیے اس کو ختم کرنے کے لیے جہاد سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ 191۔ 2 حدود حرم میں قتال منع ہے لیکن اگر کفار اس کی حرمت کو ملحوظ نہ رکھیں اور تم سے لڑیں تو تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

191۔ اور ان سے لڑو، جہاں بھی ان سے مڈ بھیڑ ہو جائے اور انہیں وہاں سے نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے [252] اور فتنہ [253] قتل سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد الحرام کے قریب ان سے جنگ نہ کرو الا یہ کہ وہ یہاں لڑائی شروع کر دیں اور اگر وہ اس جگہ تم سے لڑائی کریں تو پھر ان کو قتل کرو کہ [254] ایسے کافروں کی یہی سزا ہے
[252] فتنہ کا سد باب اور جہاد:۔
اب جہاں بھی موقع پیش آئے تم ان سے لڑائی کرو اور تمہارا مطمح نظر یہ ہونا چاہیے کہ جیسے انہوں نے اسلام لانے کی وجہ سے تمہیں مکہ سے نکالا تھا۔ تم بھی ان کو ان کے مشرک ہونے اور مشرک رہنے کی وجہ سے مکہ سے نکال کے دم لو، اور یہ ادلے کا بدلہ ہے۔
[253] فتنہ کا لفظ عربی زبان میں بڑے وسیع مفہوم اور کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً مشرکین مکہ کا بیت اللہ کا متولی ہونا اور بیت اللہ میں بت رکھنا، مسلمانوں کو بیت اللہ میں نماز ادا کرنے، حتیٰ کہ داخل ہونے سے روکنا یہ سب فتنہ کے کام ہیں گویا یہاں فتنہ سے مراد مشرکین مکہ کی ہر وہ حرکت ہے جو انہوں نے دین اسلام کو روکنے کی خاطر کی تھی۔ مثلاً مسلمانوں پر ظلم و ستم اور جبر و استبداد، انہیں دوبارہ کفر پر مجبور کرنا، اگر وہ ہجرت کر جائیں تو ان کا پیچھا نہ چھوڑنا اور بعد میں ان کے اموال و جائیداد کو غصب کر لینا وغیرہ وغیرہ یہی سب باتیں فتنہ میں شامل ہیں۔ ایسی تمام باتوں کے سد باب کے لیے جہاد کرنا ضروری قرار دیا گیا۔
[254] یعنی مکہ جائے امن ضرور ہے لیکن اگر وہ یہاں تم سے لڑائی کریں تو جوابی کار روائی کے طور پر تم بھی کر سکتے ہو۔ از خود لڑائی کی ابتداء مکہ میں تمہاری طرف سے نہ ہونا چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حکم جہاد اور شرائط ٭٭
حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورۃ برأت نازل ہوئی، [تفسیر ابن جریر الطبری:561/3]‏‏‏‏ بلکہ عبدالرحمٰن بن زید بن سلام رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ» [9۔ التوبہ: 5]‏‏‏‏ ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارے میں اختلاف ہے اس لیے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں آمادہ کرنا ہے کہ اپنے ایسے دشمنوں سے کیوں جہاد نہ کروں جو تمہارے اور تمہارے دین کے کھلے دشمن ہیں، جیسے وہ تم سے لڑتے ہیں تم بھی ان سے لڑو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [9۔ التوبہ: 36]‏‏‏‏ یعنی مل جل کر مشرکوں سے جہاد کرو جس طرح وہ تم سے سب کے سب مل کر لڑائی کرتے ہیں چنانچہ اس آیت میں بھی فرمایا انہیں قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں وہاں سے نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کا قصد تمہارے قتل کا اور تمہیں جلا وطن کرنے کا ہے تمہارا بھی اس کے بدلے میں یہی قصد رہنا چاہیئے۔
پھر فرمایا تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو ناک کان وغیرہ نہ کاٹو، خیانت اور چوری نہ کرو، عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو، ان بوڑھے بڑے لوگوں کو بھی نہ مارو جو نہ لڑنے کے لائق ہیں نہ لڑائی میں دخل دیتے ہیں درویشوں اور تارک دنیا لوگوں کو بھی قتل نہ کرو بلکہ بلا مصلحت جنگ۔ نہ درخت کاٹو نہ حیوانوں کو ضائع کرو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہی فرمایا ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔ [صحیح مسلم:1731]‏‏‏‏
مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم و زیادتی نہ کرو دھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو، [مسند احمد:300/1]‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوے میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہت برا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا، [صحیح بخاری:3014]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ مثالیں دیں ایک تو ظاہر کر دی باقی چھوڑ دیں فرمایا کہ کچھ لوگ کمزور اور مسکین تھے کہ ان پر زور آور مالدار دشمن چڑھ آیا اللہ تعالیٰ نے ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ ان پر قیامت تک کے لیے ناراض ہو گیا۔ [مسند احمد:407/5]‏‏‏‏ یہ حدیث اسناداً صحیح ہے، مطلب یہ ہے کہ جب یہ کمزور قوم غالب آ گئی تو انہوں نے ظلم و زیادتی شروع کر دی فرمان باری تعالیٰ کا کوئی لحاظ نہ کیا اس کے باعث پروردگار عالم ان سے ناراض ہو گیا، اس بارے میں احادیث اور آثار بکثرت ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ ظلم و زیادتی اللہ کو ناپسند ہے اور ایسے لوگوں سے اللہ ناخوش رہتا ہے، چونکہ جہاد کے احکام میں بظاہر قتل و خون ہوتا ہے اس لیے یہ بھی فرما دیا کہ ادھر اگر قتل و خون ہے تو ادھر اللہ کے ساتھ کفر و شرک ہے اور اس مالک کی راہ سے اس کی مخلوق کو روکنا ہے اور یہ فتنہ قتل سے بہت زیادہ سخت ہے، ابو مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہاری یہ خطا کاریاں اور بدکاریاں قتل سے زیادہ زبوں تر ہیں۔
پھر فرمان جاری ہوتا ہے کہ بیت اللہ میں ان سے لڑائی نہ کرو جیسے بخاری و مسلم میں ہے کہ یہ شہر حرمت والا ہے آسمان و زمین کی پیدائش کے زمانے سے لے کر قیامت تک باحرمت ہی ہے صرف تھوڑے سے وقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اسے حلال کر دیا تھا لیکن وہ آج اس وقت بھی حرمت والا ہے اور قیامت تک اس کا یہ احترام اور بزرگی باقی رہے گی اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں اگر کوئی شخص اس میں لڑائی کو جائز کہے اور میری جنگ کو دلیل میں لائے تو تم کہہ دینا اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی تھی لیکن تمہیں کوئی اجازت نہیں۔ [صحیح بخاری:1832]‏‏‏‏
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد فتح مکہ کا دن ہے جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے جہاد کیا تھا اور مکہ کو فتح کیا تھا چند مشرکین بھی مارے گئے تھے۔ گو بعض علماء کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ مکہ صلح سے فتح ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرما دیا تھا کہ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ امن میں ہے جو مسجد میں چلا جائے امن میں ہے جو ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے وہ بھی امن ہے۔ [صحیح مسلم:1780]‏‏‏‏
پھر فرمایا کہ «أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ» [22-الحج: 39]‏‏‏‏ ہاں اگر وہ تم سے یہاں لڑائی شروع کر دیں تو تمہیں اجازت ہے کہ تم بھی یہیں ان سے لڑو تاکہ یہ ظلم دفع ہو سکے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے دن اپنے اصحاب سے لڑائی کی بیعت لی جب قریشیوں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر یورش کی تھی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت تلے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے بیعت لی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو دفع کر دیا چنانچہ اس نعمت کا بیان اس آیت میں ہے کہ وہ آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [48۔ الفتح: 24]‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ کفار حرم میں لڑائی بند کر دیں اور اس سے باز آ جائیں اور اسلام قبول کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے گا گو انہوں نے مسلمانوں کو حرم میں قتل کیا ہو باری تعالیٰ ایسے بڑے گناہ کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے جہاد جاری رکھو تاکہ یہ شرک کا فتنہ مٹ جائے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:415/1]‏‏‏‏
اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب اور بلند ہو جائے اور تمام دین پر ظاہر ہو جائے، جیسے بخاری و مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری جتانے کے لیے لڑتا ہے ایک شخص حمیت و غیرت قومی سے لڑتا ہے، ایک شخص ریاکاری اور دکھاوے کے طور پر لڑتا ہے تو فرمائیے کہ ان میں سے کون شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا وہی ہے جو صرف اس کے لیے لڑے کہ اللہ تعالیٰ کی بات بلند ہو اس کے دین کا بول بالا ہو۔ [صحیح بخاری:2810]‏‏‏‏
بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں کہ مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ «لا الہ الا اللہ» کہیں ان کی جان و مال کا تحفظ میرے ذمہ ہو گا مگر اسلامی احکام اور ان کے باطنی حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ [صحیح بخاری:25]‏‏‏‏
پھر فرمایا کہ اگر یہ کفار شرک و کفر سے اور تمہیں قتل کرنے سے باز آ جائیں تو تم بھی ان سے رک جاؤ اس کے بعد جو قتال کرے گا وہ ظالم ہو گا اور ظالموں کو ظلم کا بدلہ دینا ضروری ہے یہی معنی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کے کہ جو لڑیں ان سے ہی لڑا جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:574/3]‏‏‏‏ یا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے رک جائیں تو وہ ظلم یعنی شرک سے ہٹ گئے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان سے جنگ و جدال ہو، یہاں لفظ «‏‏‏‏عدوان» ‏‏‏‏ جو کہ زیادتی کے معنی میں ہے وہ زیادتی کے مقابلہ میں زیادتی کے بدلے کے لیے ہے حقیقتاً وہ زیادتی نہیں جیسے فرمایا آیت «الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ» [البقرة: ١٩٤]‏‏‏‏ یعنی تم پر جو زیادتی کرے تم بھی اس پر اس جیسی زیادتی کر لو اور جگہ ہے آیت «جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10۔ یونس: 27]‏‏‏‏ یعنی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جگہ فرمان ہے آیت «وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ» [16۔ النحل: 126]‏‏‏‏ یعنی اگر تم سزا اور عذاب کرو تو اسی مثل سزا کرو جو تم کئے گئے ہو، پاس ان تینوں جگہوں میں زیادتی برائی اور سزا بدلے کے طور پر کہا گیا ہے ورنہ فی الواقع وہ زیادتی برائی اور سزا و عذاب نہیں، عکرمہ اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما کا فرمان ہے اصلی ظالم وہی ہے جو «لا الہٰ الا اللہ» کو تسلیم کرنے سے انکار کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:573/3]‏‏‏‏
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس دو شخص آئے جب کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر لوگوں نے چڑھائی کر رکھی تھی اور انہیں گھیر کر کہا کہ لوگ تو مر کٹ رہے ہیں آپ عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں کیوں اس لڑائی میں شامل نہیں ہوتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو اللہ تعالیٰ نے مسلمان بھائی کا خون حرام کر دیا ہے، انہوں نے کہا کیا جناب باری کا یہ فرمان نہیں کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم تو لڑتے رہے یہاں تک کہ فتنہ دب گیا اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین غالب آ گیا لیکن اب تم چاہتے ہو کہ تم لڑو تاکہ فتنہ پیدا ہو اور دوسرے مذاہب ابھر آئیں۔[صحیح بخاری:4513]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے کہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے ابوعبدالرحمٰن آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا کیوں چھوڑ رکھا ہے اور یہ کیا اختیار کر رکھا ہے کہ حج پر حج کر رہے ہو ہر دوسرے سال حج کو جایا کرتے ہو حالانکہ جہاد کے فضائل آپ رضی اللہ عنہ سے مخفی نہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے سنو! اسلام کی بنائیں پانچ ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پانچوں وقتوں کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، اس نے کہا کیا قرآن پاک کا یہ حکم «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» ‏‏‏‏ [49-الحجرات: 9]‏‏‏‏ آپ نے نہیں سنا کہ ایمان والوں کی دو جماعتیں اگر آپس میں جھگڑیں تو تم ان میں صلح کرا دو اگر پھر بھی ایک گروہ دوسرے پر بغاوت کرے تو باغی گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ پھر سے اللہ کا فرمانبردار بن جائے، اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ» ‏‏‏‏ [البقرہ: 193]‏‏‏‏ ان سے لڑو تاوقتیکہ فتنہ مٹ جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی تعمیل کر لی جبکہ اسلام کمزور تھا اور مسلمان تھوڑے تھے جو اسلام قبول کرتا تھا اس پر فتنہ آ پڑتا تھا یا تو قتل کر دیا جاتا یا سخت عذاب میں پھنس جاتا یہاں تک کہ یہ پاک دین پھیل گیا اور اس کے حلقہ بگوش بہ کثرت ہو گئے اور فتنہ برباد ہو گیا اس نے کہا اچھا تو پھر فرمائیے کہ سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ کا کیا خیال ہے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا گو تم اس معافی سے برا مناؤ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور یہ دیکھو ان کا مکان یہ رہا جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔[صحیح بخاری:4514]‏‏‏‏