(آیت 123،122) بنی اسرائیل سے خطاب کی ابتدا اللہ کی نعمتیں یاد دلانے اور قیامت اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرانے سے ہوئی۔مسلسل چوراسی (84) آیات میں ان پر اللہ کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ ان کی نافرمانیوں کا ذکر بھی فرمایا گیا۔ آخر میں دوبارہ انھیں اللہ کی نعمتیں یاد دلائی گئیں اور آخرت کے دن سے ڈرایا گیا اور متنبہ کیا گیا کہ اوپر بیان کی ہوئی بدکرداریوں کی وجہ سے تم ظالم ٹھہرے، سو اب امامت و قیادت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل ہو رہی ہے، جن میں ایک پیغمبر مبعوث کرنے کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھی۔ ان آیات اور پچھلی تمام آیات کا مقصود اہل کتاب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی کرنے پر ابھارنا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
122۔ اے بنی اسرائیل! [148] میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تمہیں عطا کی اور تمام اقوام عالم پر تمہیں فضیلت بخشی تھی
[148] یہود کے تفصیلی ذکر کے بعد آخر میں پھر تنبیہ:۔
بنی اسرائیل کا ذکر پانچویں رکوع سے شروع ہو کر چودھویں رکوع تک پورے دس رکوعات میں پوری تفصیل سے کیا گیا اور بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دے کر تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کا فریضہ انہیں سونپا تھا۔ مگر ان میں بے شمار ایسی اخلاقی بیماریاں پیدا ہو چکی تھیں۔ جن کی وجہ سے یہ امامت کے قابل ہی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام اخلاقی بیماریوں کا ذکر تفصیل سے بیان کر دیا ہے اور آخر میں انہیں وہی ہدایت کی جا رہی ہے جو ابتداء میں بھی کی گئی تھی کہ اس دن سے ڈر کر اب بھی اپنی خباثتوں سے باز آ جاؤ۔ جس دن کوئی شخص دوسرے کے کام نہ آ سکے گا، نہ بدلہ قبول کیا جائے گا نہ کسی کی سفارش فائدہ دے سکے گی اور نہ ہی مدد کا کوئی اور ذریعہ کام آ سکے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انتباہ ٭٭
پہلے بھی اس جیسی آیت شروع سورت میں گزر چکی ہے اور اس کی مفصل تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے یہاں صرف تاکید کے طور پر ذکر کیا گیا اور انہیں نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کی رغبت دلائی گئی جن کی صفتیں وہ اپنی کتابوں میں پاتے تھے جن کا نام اور کام بھی اس میں لکھا ہوا تھا بلکہ ان کی امت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے پس انہیں اس کے چھپانے اور اللہ کی دوسری نعمتوں کو پوشیدہ کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے اور دینی اور دنیوی نعمتوں کو ذکر کرنے کا کہا جا رہا ہے اور عرب میں جو نسلی طور پر بھی ان کے چچا زاد بھائی ہیں اللہ کی جو نعمت آئی ان میں جس خاتم الانبیاء کو اللہ نے مبعوث فرمایا ان سے حسد کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور تکذیب پر آمادہ نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔