ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 11

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت ڈالو تو کہتے ہیں ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ En
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
En
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12،11) ➊ یہاں منافقین کے دو اوصاف بیان ہوئے ہیں، فساد یعنی زمین میں بگاڑ پیدا کرنا۔ اس میں اللہ کی ہر نافرمانی شامل ہے، کیونکہ اس سے زمین میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، فرمایا: «{ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ [الروم: ۴۱] خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا۔ دوسرا وصف بگاڑ پیدا کرنے کو عین اصلاح قرار دینا۔ یہ لوگ دل میں کفر رکھنے کی وجہ سے کفار سے دوستی رکھتے تھے، مسلمانوں کے راز انھیں بتاتے اور اسلام کے عقائد و احکام پر اعتراض کرتے تھے اور منع کرنے پر اپنے اس عملِ بد کو اصلاح کا نام دیتے تھے۔
اب بھی مسلمانوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کو اولیاء کا ادب، بدعات کو قربِ الٰہی کا ذریعہ، کفار سے دوستی اور ان کے غلبے کے لیے کوشش کو حالات کا تقاضا قرار دیتے ہیں، مسلمانوں کی نسل کشی کو خاندانی منصوبہ بندی کہتے ہیں، بدکاری و بے حیائی پھیلاتے ہیں اور اسے عورتوں کے حقوق کا تحفظ قرار دیتے ہیں۔ ہر برے سے برا کام نام بدل کر خوش نما بنا لیتے ہیں، کچھ اور لوگوں نے زنا کو متعہ اور حلالہ کا، باجوں گاجوں اور موسیقی کو قوالی اور روح کی غذا کا اور نشہ آور مشروبات کو نبیذ وغیرہ کا نام دے کر حلال کر رکھا ہے۔ یہ سب نفاق کے مختلف مظاہر ہیں۔
➋ {لَا يَشْعُرُوْنَ:} دل بیمار ہو تو اچھے برے کا شعور بھی ختم ہو جاتا ہے، پھر آدمی اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے، فرمایا: «{ اَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا [فاطر: ۸] تو کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کر دیا گیا تو اس نے اس کو اچھا سمجھا (اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہیں)؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد [16] بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں کہ ”ہم ہی تو اصلاح [17] کرنے والے ہیں۔“
[16] ان کا فساد یہ تھا کہ ان کی دلی ہمدردیاں تو کافروں سے تھیں اور مسلمانوں میں شامل رہ کر ان کے حالات سے انہیں باخبر رکھتے اور ان کے لیے جاسوسی کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ نئے اور ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کو حیلوں بہانوں سے برگشتہ کرتے تھے اور جنگ کی صورت میں مسلمانوں کو نقصان پہچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔
[17] یعنی ہم ہر ایک سے صلح رکھنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ پہلے کی طرح سب شیر و شکر ہو کر رہیں اور نئے دین (اسلام) کی وجہ سے جو مخالفت بڑھ رہی ہے وہ ختم ہو جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سینہ زور چور ٭٭
سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ یہ بیان بھی منافقوں سے ہی متعلق ہے ان کا فساد، کفر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تھی ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:288/1]‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ زمین میں اللہ کی نافرمانی کرنا یا نافرمانی کا حکم دینا زمین میں فساد کرنا ہے اور زمین و آسمان میں اصلاح سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ۲؎۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:50/1]‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روکا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت و اصلاح پر ہیں۔
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس خصلت کے لوگ اب تک نہیں آئے۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ بدخصلت لوگ تھے تو سہی لیکن اب جو آئیں گے وہ ان سے بھی بدتر ہوں گے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اس وصف کا کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا ہی نہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان منافقوں کا فساد برپا کرنا یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتے تھے جس کام سے اللہ تعالیٰ منع فرماتا تھا، اسے کرتے تھے۔ فرائض ربانی ضائع کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے سچے دین میں شک و شبہ کرتے تھے۔ اس کی حقیقت اور صداقت پر یقین کامل نہیں رکھتے تھے۔ مومنوں کے پاس آ کر اپنی ایمانداری کی ڈینگیں مارتے تھے حالانکہ دل میں طرح طرح کے وسوسے ہوتے تھے موقع پا کر اللہ کے دشمنوں کی امداد و اعانت کرتے تھے اور اللہ کے نیک بندوں کے مقابلہ میں ان کی پاسداری کرتے تھے اور باوجود اس مکاری اور مفسدانہ چلن کے اپنے آپ کو مصلح اور صلح کل کے حامی جانتے تھے ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20/1]‏‏‏‏
قرآن کریم نے کفار سے موالات اور دوستی رکھنے کو بھی زمین میں فساد ہونے سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: «وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ» ۱؎ [8-الأنفال:73]‏‏‏‏ یعنی ’کفار آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اگر تم ایسا نہ کرو گے یعنی آپس میں دوستی نہ کرو گے تو اس زمین میں بھاری فتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا‘، اس آیت نے مسلمان اور کفار کے دوستانہ تعلقات منقطع کر دئیے اور جگہ فرمایا: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لِلَّـهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُبِينًا» ۲؎ [4-النساء:144]‏‏‏‏ یعنی ’اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی تم پر کھلی حجت ہو جائے‘ یعنی تمہاری دلیل نجات کٹ جائے، پھر فرمایا: «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا» ۳؎ [4-النساء:145]‏‏‏‏ یعنی ’منافق لوگ تو جہنم کے نچلے طبقے میں ہوں گے اور ہرگز تم ان کے لیے کوئی مددگار نہ پاؤ گے‘۔
چونکہ منافقوں کا ظاہر اچھا ہوتا ہے، اس لیے مسلمانوں سے حقیقت پوشیدہ رہ جاتی ہے وہ ایمانداروں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے دھوکہ دے دیتے ہیں اور ان کے بےحقیقت کلمات اور کفار سے پوشیدہ دوستیوں سے مسلمانوں کو خطرناک مصائب جھیلنے پڑتے ہیں پس بانی فساد یہ منافقین ہوئے۔ اگر یہ اپنے کفر پر ہی رہتے تو ان کی خوفناک سازشوں اور گہری چالوں سے مسلمانوں کو اتنا نقصان ہرگز نہ پہنچتا اور اگر پورے مسلمان ہو جاتے اور ظاہر باطن یکساں کر لیتے تب تو دنیا کے امن و امان کے ساتھ آخرت کی نجات و فلاح بھی پا لیتے باوجود اس خطرناک پالیسی کے جب انہیں یکسوئی کی نصیحت کی جاتی تو جھٹ کہ اٹھتے کہ ہم تو صلح کن ہیں، ہم کسی سے بگاڑنا نہیں چاہتے، ہم فریقین کے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ کہتے تھے ہم ان دونوں جماعتوں یعنی مومنوں اور اہل کتاب کے درمیان صلح کرانے والے ہیں ۴؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:52/1]‏‏‏‏ لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ان کی نری جہالت ہے جسے یہ صلح سمجھتے ہیں وہ عین فساد ہے لیکن انہیں شعور ہی نہیں۔