ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 104

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم ’’رَاعِنَا‘‘ (ہماری رعایت کر) مت کہو اور ’’اُنْظُرْنَا‘‘ (ہماری طرف دیکھ) کہو اور سنو۔ اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ En
اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے
En
اے ایمان والو! تم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو) “راعنا” نہ کہا کرو، بلکہ “انظرنا” کہو یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 104) {رَاعِنَا:} { رَاعِ } یہ باب مفاعلہ(مراعاۃ) سے فعل امر ہے، یعنی ہماری رعایت کیجیے۔ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو متوجہ کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے، یہودی بھی اس لفظ کے ساتھ آپ کو مخاطب کرتے، مگر زبان کو پیچ دے کر لفظ بدل دیتے، جیسا کہ سورۂ نساء (۴۶) میں ہے، جس سے وہ لفظ گالی بن جاتا۔ مفسرین نے اس کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں، ایک تو یہ کہ وہ { رَاعِنَا } کی بجائے { رَاعِيْنَا } کہتے، جس کا معنی ہمارا چرواہا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ اسے رعونت سے اسم فاعل قرار دے کر { رَاعِنًا } کہتے جس کا معنی احمق ہے اور منادیٰ غیر معین کو خطاب کی وجہ سے منصوب ہے، پھر آپس میں جا کر خوش ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آپ کے لیے یہ لفظ استعمال کرنے ہی سے منع فرما دیا اور { انْظُرْنَا } کہنے کا حکم دیا، ساتھ ہی فرمایا کہ غور سے سنو، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو متوجہ کروانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس سے یہودیوں کی دشمنی، ان کی طبیعت کی خست اور شرارت صاف واضح ہے۔ مسلمانوں کو ان کے اعمال کے علاوہ ان کے الفاظ و اقوال کی مشابہت سے بھی منع فرمایا گیا، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ] جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انھی میں سے ہے۔ [أبوداوٗد، اللباس، باب فی لبس الشھرۃ: ۴۰۳۱ و حسنہ الألبانی]
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں بے ادبی یا گستاخی کا شبہ بھی پیدا ہوتا ہو وہ استعمال کرنا درست نہیں۔ یہودیوں کی اسی طرح کی ایک اور کمینگی کا ذکر حدیث میں آیا ہے کہ وہ السلام علیکم کے بجائے {اَلسَّامُ عَلَيْكُمْ } کہتے، جس کا معنی ہے تم پر موت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جواب میں صرف {عَلَيْكَ } کہنے کا حکم دیا کہ وہ تمھیں پر ہو۔ [مسلم، السلام، باب النہی عن ابتداء …: ۲۱۶۴]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض وعناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہوجاتی، مثلا وہ کہتے رَعِینَا (اَحمْق) وغیرہ جیسے وہ السلام علیکم کی بجائے السام علیکم (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم ـ ' انْظُرْنَا ' کہا کرو۔ اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص و اہانت کا شائبہ ہو، ادب و احترام کے پیش نظر کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ کفار کے ساتھ افعال اوراقوال میں مشابہت کرنے سے بچا جائے تاکہ مسلمان (حدیث من تشبہ بقوم فھو منھم، ابوداؤد (جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا) کی وعید میں داخل نہ ہوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

104۔ اے ایمان والو! رَاعِنَا نہ کہا کرو بلکہ (اس کے بجائے) اُنْظُرْنَا کہہ لیا کرو۔ اور (بات کو پہلے ہی) توجہ سے سنا کرو۔ [123] اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے
[123] یہود کی شرارتیں «راعِيْنَا» کہنا:۔
یہود جب کبھی آپ کی مجلس میں بیٹھتے اور آپ کے ارشادات سنتے اور کسی بات کو دوبارہ سننے یا سمجھنے کی ضرورت پیش آتی تو از راہ عناد «رَاعِنَا» کہنے کی بجائے زبان کو مروڑ دے کر «راعِيْنَا» کہا کرتے۔ «رَاعِنَا» کا مطلب ہے ہماری طرف توجہ کیجئے۔ یعنی بات ذرا دہرا دیجئے اور راعِیْنَا کا معنی ہے ”ہمارے چروا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہود کی شرارت پر مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ تم «رَاعِنَا» کہنا چھوڑ دو بلکہ اس کے بجائے «اُنْظُرْنَا» ‏‏‏‏ کہہ لیا کرو (اس کا معنی بھی وہی ہے جو راعنا کا ہے) اگر بات کو پہلے ہی توجہ سے سن لیا کرو کہ انظرنا بھی کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے تو یہ زیادہ مناسب ہے اور یہ شرارتی یہود تو ہیں ہی کافر۔ جو یقیناً دردناک عذاب کے مستحق ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مسلمانوں کافروں کی صورت لباس اور زبان میں مشابہت سے بچو! ٭٭
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انہیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنیے تو کہتے تھے راعنا اور مراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسے اور جگہ بیان ہے آیت «مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَـٰكِن لَّعَنَهُمُ اللَّـهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء: 46]‏‏‏‏ یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو باتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں اپنی زبانوں کو موڑ توڑ کر اس دین میں طعنہ زنی کے لیے «راعنا» کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنیے اور ہماری طرف توجہ کیجئے تو یہ ان کے لیے بہتر اور مناسب ہوتا لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہے اس میں ایمان بہت ہی کم ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب یہ لوگ سلام کرتے ہیں تو السام علیکم کہتے ہیں اور سام کے معنی موت کے ہیں تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہا کرو۔ [صحیح بخاری:6257]‏‏‏‏ ہماری دعا ان کے حق میں قبول ہو گی اور ان کی بد دعا ہمارے حق میں مقبول نہیں ہو گی۔ [صحیح مسلم:2166]‏‏‏‏ الغرض قول و فعل میں ان سے مشابہت کرنا منع ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے میں قیامت کے قریب تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میری روزی حق تعالیٰ نے میرے نیزے تلے لکھی ہے اس کے لیے ذلت اور پستی ہے مگر جو میرے احکام کے خلاف چلے کرے اور جو شخص کسی [غیر مسلم]‏‏‏‏ قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔ [مسند احمد:50/2:حسن بالشواھد]‏‏‏‏ ابوداؤد میں بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سنن ابوداود:4031، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏ اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار کے اقوال وافعال لباس عید اور عبادت میں ان کی مشابہت کرنا جو ہمارے لیے مشروع اور مقرر نہیں سخت منع ہے ایسا کرنے والوں کو شریعت میں عذاب کی دھمکی سخت ڈراوا اور حرمت کی اطلاع دی گئی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم قرآن کریم میں آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا» سنو تو کان لگا دو اور دل سے متوجہ ہو جایا کرو کیونکہ یا تو کسی بھلائی کا حکم ہو گا یا کسی برائی سے ممانعت ہو گی خیثمہ فرماتے ہیں توراۃ میں بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے «يَا أَيّهَا الْمَسَاكِين» فرمایا ہے لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا» کے معزز خطاب سے یاد فرمایا ہے «راعنا» کے معنی ہماری طرف کان لگانے کے ہیں بروزن «عاطنا» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:461/2]‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اس کے معنی خلاف کے بھی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:318/1]‏‏‏‏ یعنی خلاف نہ کہا کرو اس سے یہ بھی مروی ہے کہ مطلب یہ کہ آپ ہماری سنئے اور ہم آپ کی سنیں۔
انصار نے بھی یہی لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہنا شروع کر دیا تھا جس سے قرآن پاک نے انہیں روک دیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:318/1]‏‏‏‏
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں «راعن» کہتے ہیں [راعن مذاق کی بات کو کہتے ہیں]‏‏‏‏ یعنی تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں اور اسلام سے مذاق نہ کیا کرو۔ ابو صخررحمہ اللہ کہتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگتے تو جنہیں کوئی بات کہنی ہوتی وہ کہتے اپنا کان ادھر کیجئے اللہ تعالیٰ نے اس بےادبی کے کلمہ سے روک دیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے کی تعلیم فرمائی۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں رفاعہ بن زید یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے ہوئے یہ لفظ کہا کرتا تھا مسلمانوں نے بھی یہ خیال کر کے یہ لفظ ادب کے ہیں یہی لفظ استعمال کرنے شروع کر دیئے جس پر انہیں روک دیا گیا جیسے سورۃ نساء میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کلمہ کو اللہ نے برا جانا اور اس کے استعمال سے مسلمانوں کو روک دیا جیسے حدیث میں آیا ہے کہ انگور کو کرم اور غلام کو عبد نہ کہو وغیرہ۔ [صحیح مسلم:2248]‏‏‏‏
اب اللہ تعالیٰ ان بد باطن لوگوں کے حسد و بغض کو بیان فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تمہیں جو اس کامل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کامل شریعت ملی ہے اس سے یہ تو جل بھن رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمائے وہ بڑے ہی فضل و کرم والا ہے۔