ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 88

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا ﴿ؕ۸۸﴾
اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا لی ہے۔ En
اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے
En
ان کا قول تو یہ ہے کہ اللہ رحمٰن نے بھی اوﻻد اختیار کی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 88تا95) ➊ پہلی آیات سے مناسبت یہ ہے کہ جب شفاعت کی نفی فرمائی اور سب سے بڑھ کر شفاعت کی حق دار اولاد ہوتی ہے، اس لیے ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی نفی فرمائی، تاکہ خاص و عام ہر سفارشی کی نفی ہو جائے اور ہر اس عزت کی نفی ہو جائے جس کے حصول کا باعث وہ اپنے معبودوں کو سمجھتے تھے۔ (بقاعی)
➋ { وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا:} اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کے باطل ہونے کی دلیل بھی ذکر فرما دی کہ وہ کہتے ہیں کہ اس رحمان نے اولاد بنا رکھی ہے جس کی بے پناہ رحمت سے ساری کائنات وجود میں آئی ہے اور ہر چیز اپنی بقا کے لیے اسی کی محتاج ہے، جبکہ وہ کسی کا محتاج نہیں، سب اس کے محتاج ہیں، فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ» [فاطر: ۱۵] اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔ بیٹا باپ کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ باپ اپنی کمزوری کی وجہ سے اولاد کا محتاج ہوتا ہے اور جس عقیدے، یعنی مسیح کو کفارہ بنانے کے لیے اسے اللہ کا بیٹا قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کو رحمان ماننے کے بعد اس کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
➌ یہود عزیر علیہ السلام کو اور نصاریٰ مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے تھے اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، جبکہ امت مسلمہ کے کئی نادان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کا جزو قرار دیتے ہیں۔
➍ { لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْـًٔا اِدًّا …:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد قرار دینے والوں کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شدت غضب میں ان ظالموں کو مخاطب فرما کر بات کی اور تاکید کے دو لفظوں {لام} اور {قَدْ} کے ساتھ، جن کے جمع ہونے سے قسم کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے، فرمایا قسم ہے کہ تم ایک بہت ہی بھاری بات تک آ پہنچے ہو، جو اس قدر خوفناک اور بھاری ہے کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے تصور اور اس بات کے بوجھ سے {سَبْعٌ شِدَادٌ} یعنی ساتوں نہایت مضبوط آسمان پھٹ پڑیں، یہ وسیع اور محکم زمین شق ہو جائے اور انتہائی ٹھوس اور سخت پہاڑ مٹی کی بوسیدہ دیوار کی طرح ڈھے کر گر پڑیں کہ ان لوگوں نے (یہاں پھر نفرت سے مشرکوں کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا ہے) رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کر دیا، حالانکہ رحمان کے لائق ہی نہیں کہ وہ (کسی کو بھی، خواہ پیغمبر ہو یا فرشتہ) اولاد بنائے۔ قوسین کے الفاظ مفعول اول ہیں جو محذوف ہیں، {وَلَدًا} مفعول ثانی ہے، یعنی اس کی اولاد ہونا ناممکن اور محال ہے، اس لیے کہ اولاد ہم جنس ہوتی ہے اور اللہ کا کوئی ہم جنس نہیں۔ پھر اولاد کمزوری میں سہارے کے لیے ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر کمزوری سے پاک اور اپنی ذات و صفات میں ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ وہ ہمیشہ سے عزیز و غالب ہے اور ہمیشہ عزیز و غالب رہے گا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تفسیر۔ اس کے علاوہ اولاد بیوی سے ہوتی ہے اور خاوند بیوی کا محتاج ہوتا ہے، جب اللہ کی بیوی ہی نہیں اور وہ کسی کا محتاج ہی نہیں تو اولاد کیسی؟ فرمایا: «{ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ [الأنعام: ۱۰۱] اس کی اولاد کیسے ہو گی، جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔
➎ { اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا:} آسمان و زمین میں جو بھی ہے اس کا غلام بن کر حاضر ہونے والا ہے۔ اگر کوئی اولاد ہوتی تو غلام کیسے ہوتی؟
➏ { لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّا:} اللہ تعالیٰ نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے، ایک ایک اس کے شمار میں ہے اور سب اکیلے اکیلے اس کے پاس آنے والے ہیں، اگر زمین و آسمان میں کوئی بھی اس کی اولاد ہوتا تو یقینا اسے معلوم ہوتا۔ کیا تم اللہ سے بھی زیادہ باخبر ہو، فرمایا: «{ قُلْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ [یونس: ۱۸] کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں؟ نیز دیکھیے سورۂ یونس (۶۸)، بنی اسرائیل (۴۰) اور نجم (۱۹ تا ۲۲) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلٰی أَذًی سَمِعَهٗ مِنَ اللّٰهِ إِنَّهُمْ لَيَدْعُوْنَ لَهٗ وَلَدًا وَ إِنَّهٗ لَيُعَافِيْهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ] [بخاری، الأدب، باب الصبر في الأذی: ۶۰۹۹] اللہ تعالیٰ سے زیادہ تکلیف دہ بات پر صبر کرنے والا، جسے وہ سن رہا ہو اور کوئی نہیں۔ لوگ اس کے لیے اولاد بتاتے ہیں اور وہ (اس کے باوجود) انھیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

88۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ رحمن کی اولاد ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔
«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔
تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { { اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: { اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:]‏‏‏‏
اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏‏‏‏
مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099]‏‏‏‏
پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔
وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔