ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 87

لَا یَمۡلِکُوۡنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۘ۸۷﴾
وہ سفارش کے مالک نہ ہوں گے مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔ En
(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو
En
کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے ان کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی قول قرار لے لیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 87){لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ …:} یعنی شفاعت کا حق دار وہ ہو گا جسے رحمان کے ہاں عہد نجات حاصل ہو۔ اس عہد سے مراد کلمۂ شہادت کا اقرار ہے۔ یہ تفسیر ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر مع حاشیہ حکمت بن بشیر) ایک حدیث میں پنجگانہ نماز کی پابندی کو بھی عہد قرار دیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْعَهْدُ الَّذِيْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ] [مسند أحمد: 346/5، ح: ۲۳۰۰۱۔ ترمذي: ۲۶۲۱۔ ابن ماجہ: ۱۰۷۹، عن بریدۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الألباني] وہ عہد جو ہمارے اور ان (مشرکین) کے درمیان ہے نماز ہے، جس نے اسے ترک کر دیا تو وہ بلاشبہ کافر ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ایمان والوں کی تو شفاعت ہو گی مگر کافر کی کوئی شفاعت نہیں کر سکے گا۔ پس { لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ } کے معنی یہ ہیں کہ شفاعت کے مستحق صرف وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے رحمان کے ہاں عہد حاصل کر رکھا ہے، کفار نہیں۔ اس معنی کی شاہد کئی آیات ہیں۔ دیکھیے سورۂ مدثر (۴۸)، شعراء (۱۰۰، ۱۰۱)، مومن (۱۸)، انبیاء (۲۸) اور دوسری آیات۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب مجرمین کے حق میں کوئی شفاعت نہیں کر سکے گا تو وہ خود دوسروں کے حق میں شفاعت کا اختیار بالاولیٰ نہیں رکھیں گے۔ دوسرا مطلب آیت کا یہ ہے کہ شفاعت کا اختیار صرف اسی کو ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دے گا، کوئی نبی یا فرشتہ اپنی مرضی سے کسی کی شفاعت نہیں کر سکے گا، فرمایا: «{مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ [البقرۃ: ۲۵۵] کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ اس آیت میں تمام مشرکین کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ مشرک بت پرست ہوں یا قبر پرست، زندہ پرست ہوں یا مردہ پرست، ہر قسم کی شفاعت سے محروم رہیں گے۔ گویا یہ { لِيَكُوَنُوْا لَهُمْ عِزًّا } کا جواب ہے۔ (کبیر، شوکانی، شنقیطی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

87۔ 1 قول وقرار (عہد) کا مطلب ایمان و تقوٰی ہے۔ یعنی اہل ایمان و تقوٰی میں سے جن کو اللہ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، وہی شفاعت کریں گے، ان کے سوا کسی کو شفاعت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

87۔ اس دن کوئی بھی کسی کی سفارش نہ کر سکے گا، مگر جس نے اللہ تعالیٰ سے عہد [78] لیا ہو۔
[78] سفارش کی کڑی شرائط:۔
اس ذو معنی جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو سفارش صرف اس شخص کے حق میں کی جا سکے گی جس نے اپنے آپ کو مستحق شفاعت بنائے رکھا ہو۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا عہد ہے کہ ان کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی اور یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی شرک نہ کیا ہو گا۔ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے مگر کبھی کبھی ان سے گناہ بھی سرزد ہو گئے ہوں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سفارش صرف وہ لوگ کر سکیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دیں گے اور یہی اللہ کا عہد ہے۔ ان لوگوں کو سفارش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی جن سے مشرکوں نے اپنی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔