وَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لِّیَکُوۡنُوۡا لَہُمۡ عِزًّا ﴿ۙ۸۱﴾
اور انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے، تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت ہوں۔
En
اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں
En
انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں کہ وه ان کے لئے باعﺚ عزت ہوں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 81){وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً …:} حشر و نشر کے بیان کے بعد اب ان کے بنائے ہوئے معبودوں کی نفی ہے، خواہ انسان ہوں یا فرشتے یا جن یا بت یا آستانے یا قبریں۔ یعنی اللہ کے سوا انھوں نے اس لیے معبود بنا رکھے ہیں کہ ضرورت اور حاجت کے وقت اللہ تعالیٰ سے سفارش کرکے کام کروا سکیں، مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے کہہ کر اسے ٹال دیں، یا وہ موت اور قیامت کے وقت ان کو عذاب سے بچا لیں اور اس طرح وہ ان کے لیے قوت و عزت کا باعث بن جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس (۱۸) اور سورۂ زمر (۳) میں مشرکین کا یہی عقیدہ بیان فرمایا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر ہی نہیں سکتا اور نہ کر سکے گا، آیت الکرسی میں ہے: «{ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ }» [البقرۃ: ۲۵۵] ”کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ نیز ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے مددگار [74] بنیں۔
[74] عز کا لغوی مفہوم:۔
لفظ عز کا معنی یہ ہے کہ ان کے معبود ان کے لئے سبب عزت بن جائیں گے اور عزت سے مراد عربی زبان میں کسی شخص کا ایسا طاقتور اور بالا دست ہونا ہے جس پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔ (ضد ذلت) اور ان کے معبودوں کا ان کے لئے سبب عزت ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ان کی حمایت پر ہوں گے جس کی وجہ سے ان کا کوئی مخالف ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔
جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5،6] ’ ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں ‘۔
«كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔
کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36] ’ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں ‘۔
’ تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے ‘۔
«وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے ‘۔
جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5،6] ’ ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں ‘۔
«كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔
کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36] ’ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں ‘۔
’ تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے ‘۔
«وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے ‘۔