ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 56

وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِدۡرِیۡسَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿٭ۙ۵۶﴾
اور کتاب میں ادریس کا ذکر کر، بے شک وہ ایسا نہایت سچا تھا، جو نبی تھا۔ En
اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو۔ وہ بھی نہایت سچے نبی تھے
En
اور اس کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا بھی ذکر کر، وه بھی نیک کردار پیغمبر تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 56){وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ …:} یہ چھٹا قصہ ادریس علیہ السلام کا ہے، بعض مفسرین نے ادریس علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے انبیاء میں شمار کیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ معراج کے موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو {مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ} (صالح نبی اور صالح بھائی کو مرحبا) کہہ کر خطاب کیا اور آدم اور ابراہیم علیھما السلام کی طرح {مَرْحَبًا بِالْوَلَدِ الصَّالِحِ} (صالح بیٹے کو مرحبا) نہیں کہا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے، کیونکہ {بَابُ ذِكْرِ إِدْرِيْسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ } میں وہ حدیث معراج لائے ہیں۔ دیکھیے فتح الباری { بَابُ ذِكْرِ اِدْرِيْسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ} اس سے پہلے باب میں امام بخاری نے فرمایا: ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنھم سے ذکر کیا جاتا ہے کہ الیاس ہی ادریس ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس قول کے لانے کو بھی امام بخاری کی اس رائے کا اظہار کہا ہے کہ ادریس علیہ السلام نوح علیہ السلام سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں ہوئے ہیں، کیونکہ قرآن مجید میں الیاس علیہ السلام کو نوح یا ابراہیم علیھما السلام کی اولاد میں شمار فرمایا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۸۴، ۸۵) لیکن اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ ان کا زمانہ نوح علیہ السلام سے بھی پہلے کا ہے، چنانچہ بخاری نے {بَابُ ذِكْرِ إِدْرِيْسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ} کے ترجمۃ الباب میں فرمایا: { وَ هُوَ جَدُّ أَبِيْ نُوْحٍ وَ يُقَالُ جَدُّ نُوْحٍ عَلَيْهُمَا السَّلاَمُ } یعنی وہ نوح علیہ السلام کے والد کے دادا ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نوح علیہ السلام کے دادا ہیں۔ ابن جریر، قرطبی اور ابن کثیر رضی اللہ عنھا کی رائے بھی یہی ہے، دلیل اسی سورت کی آیت (۵۸) کی تفسیر میں آ رہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ نیز اس کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کیجئے: وہ ایک راست باز [53] انسان اور نبی تھے۔
[53] سیدنا ادریس کا زمانہ اور مرکز تبلیغ:۔
سیدنا ادریسؑ سیدنا نوحؑ سے بہت پہلے مبعوث ہوئے تھے آپ کا مرکز تبلیغ بابل تھا۔ آپ کی قوم ستارہ پرست اور مظاہر پرست تھی۔ آپ علم ہندسہ، حساب اور نجوم میں ماہر تھے۔ نیز قلم سے لکھنا، کپڑا سینا، ناپ تول کے آلات اور اسلحہ کا بنانا انہی کے دور میں شروع ہوا۔ آپ بلند پایہ خطیب تھے اور ہرمس الہرامسہ کا خطاب پایا۔ آپ کی قوم نے آپ کی دعوت ماننے سے انکار کر دیا اور مخالفت پر اتر آئے۔ آخر آپ ہجرت کر کے مصر چلے آئے۔ جہاں بہت سے لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔ معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ سے چوتھے آسمان پر ملاقات ہوئی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ادریس علیہ السلام کا تعارف ٭٭
حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ آپ علیہ السلام سچے نبی تھے، اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ علیہ السلام کو ہم نے بلند مکان پر اٹھا لیا ‘۔
صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ { چوتھے آسمان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادریس علیہ السلام سے ملاقات کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7517]‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر میں امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ادریس علیہ السلام کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ علیہ السلام کو خیال آیا کہ آپ عمل میں اور سبقت کریں۔ جب آپ علیہ السلام کے پاس آپ کا دوست فرشتہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس سے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے، اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ علیہ السلام کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا۔ جب چوتھے آسمان پر آپ علیہ السلام پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے ادریس علیہ السلام کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا، وہ کہاں ہیں؟ اس نے کہا، یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر ان کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چنانچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔‏‏‏‏ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب رحمہ اللہ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہی روایت اور سند سے بھی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں، دیکھ کر فرمایا، صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو ادریس علیہ السلام کی روح پرواز ہو چکی تھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام درزی تھے، سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے۔
مجاہد رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ادریس علیہ السلام آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بے موت اٹھا لیے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں بلند مکان سے مراد جنت ہے۔