ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 51

وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ مُوۡسٰۤی ۫ اِنَّہٗ کَانَ مُخۡلَصًا وَّ کَانَ رَسُوۡلًا نَّبِیًّا ﴿۵۱﴾
اور کتاب میں موسیٰ کا ذکر کر، یقینا وہ خالص کیا ہوا تھا اور ایسا رسول جو نبی تھا۔ En
اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو۔ بےشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مُرسل تھے
En
اس قرآن میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر بھی کر، جو چنا ہوا اور رسول اور نبی تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) ➊ {وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا: مُخْلَصًا } کا معنی ہے خالص کیا ہوا، چنا ہوا۔ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے فرمان: «{ وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ [طٰہٰ: ۴۱] (اور میں نے تجھے خاص طور پر اپنے لیے بنایا ہے)، طٰہٰ کی آیت (۱۳) اور اعراف کی آیت (۱۴۴) سے ہوتی ہے۔
➋ {وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا: رَسُوْلًا } کا لفظی معنی بھیجا ہوا ہے اور { نَبِيًّا نَبَأٌ } سے { فَعِيْلٌ } کے وزن پر ہے جو فاعل اور مفعول دونوں معنوں میں آتا ہے۔ مفعول ہو تو وہ جسے اللہ کی طرف سے خبر دی جائے اور اگر فاعل ہو تو وہ جو اللہ کی طرف سے خبر دینے والا ہو۔ { نَبَأٌ } عام خبر کو نہیں بلکہ اس خبر کو کہتے ہیں جو بڑی عجیب یا اہم ہو۔ قرآن مجید میں یہ دونوں لفظ عموماً ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں، تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جن سے دونوں کے مرتبہ یا کام کی نوعیت کے اعتبار سے کافی فرق پایا جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ حج (۵۲) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جس کو اللہ تعالیٰ کی وحی آئی وہ نبی، ان میں سے جو خاص ہیں اور امت رکھتے ہیں یا کتاب وہ رسول ہیں۔ (موضح)
➌ یہاں { رَسُوْلًا } کے بعد { نَبِيًّا } لانے کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پیغام پہنچانے کے لیے کوئی بھی بھیجا جائے اسے رسول کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھیجے تو اس کا رسول، کوئی اور بھیجے تو اس کا رسول۔ جیسا کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق سورۂ یس میں مذکور مرسلین کسی نبی کی طرف سے بھیجے ہوئے داعی تھے اور جیسا کہ یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ وقوف کیے ہوئے تھے (ان کے شاگرد عمرو بن عبد اللہ وہ جگہ امام کی جگہ سے دور بیان کرتے تھے) تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور انھوں نے کہا: [إِنِّيْ رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ] [أبوداوٗد، المناسک، باب موضع الوقوف بعرفۃ: ۱۹۱۹۔ ابن ماجہ: ۳۰۱۱ و صححہ الألباني] میں تمھاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول یعنی پیغام لانے والا ہوں۔ اس آیت میں { رَسُوْلًا } کی تاکید { نَبِيًّا } کے ساتھ اس لیے فرمائی کہ موسیٰ علیہ السلام کو کسی کی طرف سے بھیجا ہوا محض ایک داعی نہ سمجھا جائے، بلکہ وہ نبی بھی تھے جو وحی الٰہی سے سرفراز تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 مخلص، مصطفیٰ، مجتبیٰ اور مختار، چاروں الفاظ کا مفہوم ایک ہے یعنی رسالت وپیامبری کے لیے چنا ہوا پسندیدہ شخص رسول بمعنی مرسل ہے (بھیجا ہوا) اور نبی کے معنی اللہ کا پیغام لوگوں کو سنانے والا یا وحی الہٰی کی خبر دینے والا تاہم مفہوم دونوں کا ایک ہے کہ اللہ جس بندے کو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے چن لیتا ہے اور اسے اپنی وحی سے نوازتا ہے، اسے رسول اور نبی کہا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے اہل علم میں ایک بحث یہ چلی آرہی ہے کہ آیا کہ ان دونوں میں فرق ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو وہ کیا ہے؟ فرق کرنے والے بالعموم کہتے ہیں کہ صاحب شریعت یا صاحب کتاب کو رسول اور نبی کہا جاتا ہے اور جو پیغمبر اپنی سابقہ پیغمبر کی کتاب یا شریعت کے مطابق ہی لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچاتا رہا، وہ صرف نبی ہے، رسول نہیں۔ تاہم قرآن کریم میں ان کا اطلاق ایک دوسرے پر بھی ہوا ہے اور بعض جگہ مقابلہ کرنے والے بھی آئے ہیں، مثلاً سورة الحج آیت 52 میں۔ ْْ

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ نیز اس کتاب میں موسیٰ کا قصہ بھی بیان کیجئے۔ بلا شبہ وہ ایک برگزیدہ انسان اور رسول [47] نبی تھے۔
[47] نبی اور رسول کا فرق:۔
سیدنا اسحاق اور یعقوب علیہما السلام کی اولاد میں سے سیدنا موسیٰؑ کا ذکر غالباً اس وجہ سے کیا جا رہا ہے کہ آپ اولوالعزم پیغمبر، مشرع اعظم اور قد آور شخصیت ہیں اور آپ کو فرمایا جا رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے ان کا ذکر کیجئے۔ آپ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں انتہائی مخلص تھے۔ آپ نبی بھی تھے اور صاحب شریعت رسول بھی۔ نبی اور رسول میں فرق یہ ہے کہ نبی عام ہے، اور رسول خاص۔ یعنی ہر رسول نبی تو ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ روایات کے مطابق رسولوں کی تعداد صرف 313 یا 315 تھی جبکہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ (نبی اور رسول کے فرق کے لئے دیکھئے سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 67 کا حاشیہ)

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

خلوص ابراہیم علیہ السلام ٭٭
اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے۔ «مُخلَصاً» کی دوسری قرأت «مُخلِصاً» بھی ہے۔ یعنی ’ وہ بااخلاص عبادت کرنے والے تھے ‘۔
مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔‏‏‏‏
دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» ۱؎ [7-الأعراف:144]‏‏‏‏ آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ’ ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ‘۔
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس قدر قریب ہو گئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔‏‏‏‏ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں، انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ ’ اے موسیٰ! جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں، سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی ‘۔
’ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی ‘۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» ۱؎ [28-القص:34]‏‏‏‏، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» ۱؎ [20-طه:36]‏‏‏‏ ’ موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ‘۔
آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:13]‏‏‏‏ الخ، ’ ہارون کو بھی رسول بنا ‘ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔