ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 30

قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ؕ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیۡ نَبِیًّا ﴿ۙ۳۰﴾
اس نے کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا ہے۔ En
بچے نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے
En
بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بنده ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) ➊ { قَالَ اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ:} گویا سب سے پہلا کلمہ جو عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی زبان سے ادا کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا اعتراف تھا، جو ان کے خود اللہ تعالیٰ ہونے یا اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے یا تین معبودوں میں سے ایک ہونے کی صاف نفی ہے۔
➋ { اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ......:} ظاہر ہے کہ کتاب اور نبوت کا ملنا کچھ مدت بعد ہی ہوا ہو گا، کیونکہ دودھ پیتا بچہ نبوت کے فرائض دعوت و تبلیغ، اصلاح امت وغیرہ کیسے ادا کر سکتا ہے؟ اس لیے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک تو یہ کہ ازل سے اللہ تعالیٰ نے میرا نبی ہونا اور مجھے کتاب ملنا لکھ دیا ہے، جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُنْتُ نَبِيًّا وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ] [صحیح الجامع للألباني: ۴۵۸۱، عن میسرۃ الفجر رضی اللہ عنہ]میں اس وقت نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔ حالانکہ اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس برس کی عمر میں نبوت عطا ہوئی، اس لیے مراد تقدیر میں نبی لکھا ہونا ہے۔ دوسرا معنی یہ کہ ماضی کا لفظ بول کر مستقبل مراد لیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اتنے یقینی ہیں کہ سمجھو واقع ہو چکے ہیں۔ یہ اندازبیان قرآن مجید میں عام ہے، جیسے قیامت کے متعلق فرمایا: «{اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ [النحل: ۱] اللہ کا حکم آ گیا، سو اس کے جلدی آنے کا مطالبہ مت کرو۔ اسی طرح سورۂ زمر کی آیت (۶۸) میں ماضی کے چاروں صیغے مستقبل کے معنی میں ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

30۔ 1 یعنی قضا وقدر ہی میں اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ مجھے کتاب اور نبوت سے نوازے گا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ بچہ بول اٹھا۔ میں اللہ کا بندہ [29] ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔
[29] سیدنا عیسیٰ نے کلام فی المھد سے اپنی والدہ کی بہتان سے مکمل بریّت کر دی:۔
تب اس نومولود بچے کو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے قوت گویائی عطا فرمائی اور پہلی بات جو اس نے کی وہ یہ تھی کہ ”میں اللہ کا بندہ ہوں“ بالفاظ دیگر میں نہ اللہ ہوں اور نہ ابن اللہ ہوں اور یہ ایسی بنیادی بات تھی جو بعد میں اس کے پیروکاروں میں ہی متنازعہ فیہ بن گئی۔ کسی نے انھیں اللہ ہی کہہ دیا اور کسی نے اللہ کا بیٹا۔ آپ نے اپنے اس معجزانہ کلام کے آغاز میں ہی اس کی تردید فرما دی تھی۔ نیز یہ بھی بتایا کہ ”اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور اپنا نبی بھی بنایا ہے“ اس کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے مجھے کتاب تورات کا علم عطا فرمایا اور دوسرا یہ کہ اللہ مجھے کتاب انجیل بھی عطا فرمانے والا ہے اور نبوت بھی۔ سیدنا عیسیٰؑ کا یہ کلام در اصل ان کی سب بہتان تراشیوں کا مکمل جواب تھا اور اس کلام میں ان کی والدہ سیدہ مریم کی مکمل بریّت کا اظہار مقصود تھا یعنی اگر ایک نومولود بول سکتا ہے اور ایسا مبنی بر حقیقت کلام کر سکتا ہے تو یہ بھی عین ممکن ہے کہ وہ پیدا بھی معجزانہ طور پر بن باپ کے ہوا ہو۔ بالفاظ دیگر اسی عمر میں ایسے کلام کرنے کے معجزہ سے معجزانہ پیدائش کی توثیق مقصود تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اتنے میں بن بلائے آپ علیہ السلام بول اٹھے کہ لوگو! میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔‏‏‏‏ سب سے پہلا کلام عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی، پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں، رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔
کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔
عکرمہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں مجھے کتاب دی اس کا مطلب یہ ہے کہ دینے کا ارادہ ہو چکا ہے یہ پورا ہوکر رہے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسی وقت آپ علیہ السلام کو کتاب یاد تھی، سب سیکھے ہوئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:487/4:]‏‏‏‏ لیکن اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔ میں جہاں بھی ہوں، لوگوں کو بھلائی سکھانے والا، انہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔
ایک عالم اپنے سے بڑے عالم سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے اپنے کس عمل کے اعلان کی اجازت ہے، فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لیے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔
پس جماعتی مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے، آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز و زکوٰۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ ارشاد ہے «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99]‏‏‏‏ ’ مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ ‘۔
پس عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔‏‏‏‏ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔
عموماً قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23]‏‏‏‏ اور آیت «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [31-لقمان:14]‏‏‏‏ میں۔
اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یا والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جبار وشقی وہ ہے جو غصے میں آ کر خونریزی کر دے۔
فرماتے ہیں، ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔‏‏‏‏
مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی، مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا، مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی، پھر تابعداری کی اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔‏‏‏‏
پھر فرماتے ہیں، میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے۔‏‏‏‏ اس سے بھی آپ علیہ السلام کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الٰہی ہونا ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے۔ پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں۔ آپ علیہ السلام پر آسان اور سہل ہوں گے۔ نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔