ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 25

وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَۃِ تُسٰقِطۡ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا ﴿۫۲۵﴾
اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی۔ En
اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی
En
اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے تروتازه پکی کھجوریں گرا دے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26،25) ➊ {وَ هُزِّيْۤ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ …: قَرِّيْ عَيْنًا } مشہور نحوی فراء نے فرمایا کہ قریش اور ان کے آس پاس کے لوگ { قَرَّ يَقَرُّ } (قاف کے فتحہ کے ساتھ) کہتے ہیں اور قیس، تمیم اور اہل نجد {قَرَّ يَقِرُّ } (قاف کے کسرہ کے ساتھ) کہتے ہیں۔ پہلی صورت میں { قَرِّيْ } قاف کے فتحہ کے ساتھ ہو گا جو مشہور قراء ت ہے، دوسری صورت میں قاف کے کسرہ کے ساتھ {قِرِّيْ} ہو گا جو شاذ قراء ت ہے۔ مصدر { قُرَّةٌ وَ قُرُوْرٌ} ہے، ٹھنڈا ہونا۔ (بقاعی) تنہائی، بھوک، پیاس، ولادت کی تکلیف، ولادت کے بعد کی کمزوری اور بدنامی کے خوف میں سے ہر چیز کا اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بہترین علاج فرما دیا۔ ایک کمزور خاتون جو ابھی ولادت کے جان شکن مرحلے سے نکلی ہو کھجور کے تنے کو کس قدر حرکت دے سکتی ہے؟ مگر فرمایا کہ اسے حرکت دو، وہ تازہ پکی ہوئی کھجوریں تم پر گرائے گی۔ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ وہ کھجوروں کے پھل دینے کا وقت نہ تھا۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو، کیونکہ مریم علیھا السلام کو ان کے کمرے میں بے موسم رزق ملتا تھا، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۳۷) لیکن اگر کھجوروں کے پھل کا موسم بھی مانا جائے تو کوئی جوان اور مضبوط آدمی کھجور کا تنا ہلا کر دیکھ لے کہ کتنی کھجوریں گرتی ہیں؟ ولادت کی کمزوری کے لیے تمام اطباء تازہ پکی ہوئی کھجور کے مفید ہونے پر متفق ہیں۔ پینے کے لیے ان کے نیچے رب تعالیٰ نے ندی جاری فرما دی۔ تنہائی اور پریشانی کے علاج کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک، خوبصورت اور عظیم المرتبت بیٹا عطا کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی تمام عنایات عام عادت کے خلاف معجزانہ طور پر ہوئیں۔ رہی آئندہ کی ملامت جو قوم کے پاس جانے کی صورت میں پیش آنے والی تھی، اس کا علاج یہ بتایا گیا کہ اگر کسی بھی وقت کوئی آدمی دیکھو تو اسے اشارے سے کہہ دو کہ میں نے رحمان کی خاطر روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے میں کسی انسان سے کسی صورت بات نہیں کروں گی۔ کسی بھی وقت کسی انسان کو دیکھنے کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سارے عمل کے دوران وہ تنہا رہیں۔
➋ { اِنِّيْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا:} چونکہ شادی کے بغیر بچہ پیدا ہونے پر ملامت کرنے والوں کا کسی طرح کی صفائی دینے سے بھی مطمئن ہونا ممکن نہ تھا، اس لیے ان کے جواب میں مکمل خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ جاہلوں کے جواب میں دانش مند لوگوں کا یہی وتیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا [الفرقان: ۶۳] اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔ عربی کا مقولہ ہے: {أَذَلُّ النَّاسِ سَفِيْهٌ لَا يَجِدُ مُسَافِهًا} کہ سب سے زیادہ ذلیل وہ بے وقوف ہے جسے اپنے جواب میں کوئی بے وقوفی کرنے والا نہ ملے۔
➌ { فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِيًّا:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میں خاموشی کا روزہ رکھنا جائز تھا، مگر ہماری شریعت میں اس سے منع کر دیا گیا، بلکہ اس طرح کی نذر ماننا بھی منع ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ فَسَأَلَ عَنْهٗ فَقَالُوْا أَبُوْ إِسْرَائِيْلَ نَذَرَ أَنْ يَّقُوْمَ وَلاَ يَقْعُدَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ وَيَصُوْمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْهٗ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهٗ] [بخاري، الأیمان والنذور، باب النذر فیما لا یملک و في معصیۃ: ۶۷۰۴]نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اس دوران میں آپ نے ایک آدمی کو کھڑے ہوئے دیکھا تو اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، سائے میں نہیں جائے گا اور کلام نہیں کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ بیٹھ جائے اور سائے میں بھی جائے اور کلام کرے اور اپنا روزہ پورا کرے۔ { فَاِمَّا } میں {اِنْ } شرطیہ اور{ مَا } ابہامیہ برائے تاکید ہے، اس لیے ترجمہ اگر کبھی کیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25۔ 1 سَرِبّاَ چھوٹی نہر یا پانی کا چشمہ۔ یعنی بطور کرامت اور خلاف قانون قدرت، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے پاؤں تلے پینے کے لئے پانی کا اور کھانے کے لئے ایک سوکھے ہوئے درخت میں پکی ہوئے تازہ کھجوروں کا انتطام کردیا۔ آواز دینے والے حضرت جبرائیل ؑ تھے، جنہوں نے وادی کے نیچے سے آواز دی اور کہا جاتا ہے کہ سَرِیّ بمعنی سردار ہے اور اس سے مراد عیسیٰ ؑ ہیں اور انہی نے حضرت مریم کو نیچے سے آواز دی تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ اور اس کھجور کے تنہ کو زور سے ہلاؤ وہ آپ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مریم علیہا السلام اور معجزات ٭٭
«مِنْ تَحْتِهَا» کی دوسری قرأت «مِنْ تَحْتَهَا» بھی ہے۔ یہ خطاب کرنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برأت و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں جبرائیل علیہ السلام نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ { بات عیسیٰ علیہ السلام نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے یہ پانی تم پی لو }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13303:ضعیف]‏‏‏‏
ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الٰہی سے کھجوریں جھڑنے لگیں، کھانا پینا سب کچھ موجود ہو گیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لیے تر کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔
ایک حدیث میں ہے، { کھجور کے درخت کا اکرام کرو۔ یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نر مادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ، نہ ملیں تو خشک ہی سہی۔ کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لیے اس کے نیچے مریم علیہ السلام کو اتارا }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:263،]‏‏‏‏ یہ حدیث بالکل منکر ہے۔
«تُسَاقِطْ» کی دوسری قرأت «تَسَّاقَطْ» اور «تُسْقِطْ» بھی ہے۔ مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ’ کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں ‘۔ یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس دو شخص آئے، ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کی کیا وجہ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے توڑ دے، سلام کلام شروع کر، یہ تو صرف مریم علیہا السلام کے لیے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت وکرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لیے اسے عذر بنا دیا تھا۔
عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں، جب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں، خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں، مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی؟ کون سا عذر پیش کر سکوں گی؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، کاش کہ میں نسیا منسیا ہو گئی ہوتی۔
اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ ان سب سے نمٹ لوں گا۔ آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔‏‏‏‏