ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 24

فَنَادٰىہَا مِنۡ تَحۡتِہَاۤ اَلَّا تَحۡزَنِیۡ قَدۡ جَعَلَ رَبُّکِ تَحۡتَکِ سَرِیًّا ﴿۲۴﴾
تو اس نے اسے اس کے نیچے سے آواز دی کہ غم نہ کر، بے شک تیرے رب نے تیرے نیچے ایک ندی (جاری) کر دی ہے۔ En
اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے
En
اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ آزرده خاطر نہ ہو، تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24){فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ …: سَرِيًّا سَرَي يَسْرِيْ } (ض) (چلنا) سے ہو تو معنی ہے ندی، کیونکہ اس میں پانی چلتا ہے اور {سَرُوَ يَسْرُوْ} ({شَرُفَ يَشْرُفُ}) سے ہو تو معنی ہے سردار۔ مریم علیھا السلام کو ان کے نیچے سے کس نے آواز دی؟ اس کے متعلق مفسرین کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ وہ جبریل علیہ السلام تھے، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام نے قوم کے طعن و ملامت کے وقت ہی بات کی تھی۔ طبری نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے یہ بات نقل فرمائی ہے کہ یہ جبریل تھے اور عیسیٰ علیہ السلام نے قوم کے پاس لے جانے سے پہلے کلام نہیں کیا۔ مگر یہ روایت عوفی کے طریق سے ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ سعید بن جبیر، ضحاک، عمرو بن میمون اور قتادہ کا کہنا بھی یہی ہے کہ انھیں نیچے سے جبریل علیہ السلام نے آواز دی تھی اور ان کے نیچے ایک ندی چلنے کی بشارت دی تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ انھیں ان کے نیچے سے عیسیٰ علیہ السلام نے آواز دی تھی۔ ابن جریر نے اسے ترجیح دی ہے۔ اس کی تین وجہیں ہیں، ایک یہ کہ اگر کوئی مانع نہ ہو تو ضمیر قریب ترین مرجع کی طرف لوٹتی ہے اور یہاں اس سے پہلے قریب ترین ذکر عیسیٰ علیہ السلام کا ہے، یعنی { فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ } اور اگر جبریل علیہ السلام نے آواز دی ہوتی تو ان کا نام آنا تھا۔ دوسری یہ کہ اس وقت مریم علیھا السلام کا حوصلہ مضبوط کرنے کی ضرورت تھی اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اس وقت بولنا ایک معجزہ تھا، جس سے انھیں اطمینان حاصل ہوا۔ تیسری یہ کہ قوم کے پاس جانے سے پہلے ان کے کلام کرنے سے مریم علیھا السلام کو یقین ہو جائے کہ قوم کے لوگوں کی ملامت کے وقت بھی یہ بول کر ان کی تسلی کر دیں گے۔ بظاہر ابن جریر کی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔ (واللہ اعلم)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ اس وقت درخت کے نیچے سے (فرشتے نے) انھیں پکار کر کہا کہ: ”غمزدہ نہ ہو، تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ بہا دیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مریم علیہا السلام اور معجزات ٭٭
«مِنْ تَحْتِهَا» کی دوسری قرأت «مِنْ تَحْتَهَا» بھی ہے۔ یہ خطاب کرنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برأت و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں جبرائیل علیہ السلام نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ { بات عیسیٰ علیہ السلام نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے یہ پانی تم پی لو }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13303:ضعیف]‏‏‏‏
ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الٰہی سے کھجوریں جھڑنے لگیں، کھانا پینا سب کچھ موجود ہو گیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لیے تر کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔
ایک حدیث میں ہے، { کھجور کے درخت کا اکرام کرو۔ یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نر مادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ، نہ ملیں تو خشک ہی سہی۔ کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لیے اس کے نیچے مریم علیہ السلام کو اتارا }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:263،]‏‏‏‏ یہ حدیث بالکل منکر ہے۔
«تُسَاقِطْ» کی دوسری قرأت «تَسَّاقَطْ» اور «تُسْقِطْ» بھی ہے۔ مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ’ کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں ‘۔ یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس دو شخص آئے، ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کی کیا وجہ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے توڑ دے، سلام کلام شروع کر، یہ تو صرف مریم علیہا السلام کے لیے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت وکرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لیے اسے عذر بنا دیا تھا۔
عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں، جب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں، خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں، مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی؟ کون سا عذر پیش کر سکوں گی؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، کاش کہ میں نسیا منسیا ہو گئی ہوتی۔
اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ ان سب سے نمٹ لوں گا۔ آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔‏‏‏‏