قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا ۚ وَ کَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِیًّا ﴿۲۱﴾
اس نے کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے کہا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی اور اپنی طرف سے عظیم رحمت بنائیں اور یہ شروع سے ایک طے کیا ہوا کام ہے۔
En
(فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے
En
اس نے کہا بات تو یہی ہے۔ لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وه مجھ پر بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت، یہ تو ایک طے شده بات ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 21) ➊ { قَالَ كَذٰلِكِ:} جبریل علیہ السلام نے کہا، ایسے ہی ہو گاکہ نکاح یا زنا کے بغیر ہی تمھیں بیٹا عطا ہو گا۔
➋ { قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ:} مزید کہا کہ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ کسی مرد کے بغیر تجھے بیٹا دینا میرے لیے بالکل آسان ہے۔
➌ { وَ لِنَجْعَلَهٗۤ …:} واؤ کے بعد یہاں الفاظ محذوف ہیں، یعنی اور (ہم نے اس طرح کیا) تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کی بہت بڑی نشانی اور معجزہ بنائیں کہ ہم صرف عورت سے بھی انسان پیدا کر سکتے ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے تین نشانیاں موجود ہیں کہ ماں باپ کے بغیر انسان (آدم علیہ السلام)، ماں کے بغیر انسان (حوا علیھا السلام) اور ماں باپ دونوں کے ساتھ انسان۔ تینوں ہماری قدرتِ کاملہ کا اظہار ہیں، اب اس سے ہماری قدرت کی چوتھی نشانی بھی پوری ہو گئی۔ چاروں میں سے کوئی بھی اللہ کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا، انسان تو دور، ایک مکھی پیدا کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ دیکھیے سورۂ حج (۷۳) اس لحاظ سے ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی دلیل ہے۔
{وَ فِيْ كُلِّ شَيْءٍ لَهُ آيَةٌ
تَدُلُّ عَلٰي أَنَّهُ وَاحِدٌ }
شرک کے بیماروں کو دیکھیے، وہ مسیح علیہ السلام کا خالق جبریل علیہ السلام کو قرار دے رہے ہیں۔ [فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ عَافَانَا مِنْ بَلِیَّۃِ الْإِشْرَاکِ بِہِ وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِيَ لَوْ لَا أَنْ ھَدَانَا اللّٰہُ]
➍ {وَ رَحْمَةً مِّنَّا:} اور اسے اپنی طرف سے عظیم رحمت بنائیں بنی اسرائیل کے لیے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے بھی، کیونکہ مسیح علیہ السلام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی کا حکم دیا، اس طرح وہ ان کے لیے جہنم سے نجات اور جنت میں داخلے کا باعث بنے۔ {” اٰيَةً “ } اور {” رَحْمَةً “} میں تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے ہے، لہٰذا ترجمہ بہت بڑی نشانی اور عظیم رحمت کیا گیا ہے۔
➎ { وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا: ” مَقْضِيًّا “ ”قَضَي يَقْضِيْ“} کا اسم مفعول ہے، جو اصل میں {”مَقْضُوْيٌ“} تھا، معنی فیصلہ کیا ہوا۔ {” كَانَ “} ہمیشگی کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”شروع سے طے کیا ہوا“ کیا ہے، یعنی یہ بات تقدیر میں طے ہو چکی ہے، کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔
➋ { قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ:} مزید کہا کہ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ کسی مرد کے بغیر تجھے بیٹا دینا میرے لیے بالکل آسان ہے۔
➌ { وَ لِنَجْعَلَهٗۤ …:} واؤ کے بعد یہاں الفاظ محذوف ہیں، یعنی اور (ہم نے اس طرح کیا) تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کی بہت بڑی نشانی اور معجزہ بنائیں کہ ہم صرف عورت سے بھی انسان پیدا کر سکتے ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے تین نشانیاں موجود ہیں کہ ماں باپ کے بغیر انسان (آدم علیہ السلام)، ماں کے بغیر انسان (حوا علیھا السلام) اور ماں باپ دونوں کے ساتھ انسان۔ تینوں ہماری قدرتِ کاملہ کا اظہار ہیں، اب اس سے ہماری قدرت کی چوتھی نشانی بھی پوری ہو گئی۔ چاروں میں سے کوئی بھی اللہ کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا، انسان تو دور، ایک مکھی پیدا کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ دیکھیے سورۂ حج (۷۳) اس لحاظ سے ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی دلیل ہے۔
{وَ فِيْ كُلِّ شَيْءٍ لَهُ آيَةٌ
تَدُلُّ عَلٰي أَنَّهُ وَاحِدٌ }
شرک کے بیماروں کو دیکھیے، وہ مسیح علیہ السلام کا خالق جبریل علیہ السلام کو قرار دے رہے ہیں۔ [فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ عَافَانَا مِنْ بَلِیَّۃِ الْإِشْرَاکِ بِہِ وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِيَ لَوْ لَا أَنْ ھَدَانَا اللّٰہُ]
➍ {وَ رَحْمَةً مِّنَّا:} اور اسے اپنی طرف سے عظیم رحمت بنائیں بنی اسرائیل کے لیے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے بھی، کیونکہ مسیح علیہ السلام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی کا حکم دیا، اس طرح وہ ان کے لیے جہنم سے نجات اور جنت میں داخلے کا باعث بنے۔ {” اٰيَةً “ } اور {” رَحْمَةً “} میں تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے ہے، لہٰذا ترجمہ بہت بڑی نشانی اور عظیم رحمت کیا گیا ہے۔
➎ { وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا: ” مَقْضِيًّا “ ”قَضَي يَقْضِيْ“} کا اسم مفعول ہے، جو اصل میں {”مَقْضُوْيٌ“} تھا، معنی فیصلہ کیا ہوا۔ {” كَانَ “} ہمیشگی کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”شروع سے طے کیا ہوا“ کیا ہے، یعنی یہ بات تقدیر میں طے ہو چکی ہے، کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
21۔ 1 یعنی یہ بات تو صحیح ہے کہ تجھے مرد سے مقاربت کا کوئی موقع نہیں ملا ہے، جائز طریقے سے نہ ناجائز طریقے سے۔ جب کہ حمل کے لئے عادتًا یہ ضروری ہے۔ 21۔ 2 یعنی میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں، میرے لئے یہ بالکل آسان ہے اور ہم اسے اپنی قدرت تخلیق کے لئے نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے تمہارے باپ آدم کو مرد اور عورت کے بغیر، اور تمہاری ماں حوا کو صرف مرد سے پیدا کیا اور اب عیسیٰ ؑ کو پیدا کر کے چوتھی شکل میں بھی پیدا کرنے پر اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہے صرف عورت کے بطن سے، بغیر مرد کے پیدا کردینا۔ ہم تخلیق کی چاروں صورتوں پر قادر ہیں۔ 21۔ 3 اس سے مراد نبوت ہے جو اللہ کی رحمت خاص ہے اور ان کے لئے بھی جو اس نبوت پر ایمان لائیں گے۔ 21۔ 4 یہ اسی کلام کا ضمیمہ ہے جو جبرائیل ؑ نے اللہ کی طرف سے نقل کیا ہے۔ یعنی یہ اعجازی تخلیق۔ تو اللہ کے علم اور اس کی قدرت ومشیت میں مقدر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ وہ بولے ہاں! ایسا [22] ہی ہو گا تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ میرے لئے یہ آسان سی بات ہے اور اس لیے بھی (ایسا ہو گا) کہ ہم اس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور وہ ہماری طرف سے رحمت ہو گا اور یہ کام ہو کے رہے گا“
[22] سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش خود ایک معجزہ تھی:۔
یعنی نا ممکن ہونے کے باوجود ممکن ہے اور ایسا ہوکے رہے گا کیونکہ اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اور یہ اس لئے ہو گا کہ ہم اس لڑکے کو تمام لوگوں کے لئے ایک زندہ جاوید معجزہ بنا دیں۔ پھر یہ لڑکا ہماری طرف سے تمہارے لئے از راہ رحم و کرم عطیہ بھی ہے اور تمام لوگوں کے لئے بھی رحمت ثابت ہو گا۔ واضح رہے کہ تخلیق کے لئے چار ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ماں اور باپ دونوں سے پیدا ہو، یہ صورت عام ہے اور سب انسان یا جاندار ایسے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ دوسری یہ کہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہو۔ اس طرح سیدنا آدم کو پیدا کیا گیا۔ تیسری یہ کہ صرف مرد سے پیدا ہو۔ جیسے سیدہ حوا کو آدم سے پیدا کیا گیا۔ اور چوتھی یہ کہ صرف عورت سے پیدا ہو۔ یہ صورت ابھی تک وجود میں نہ آئی تھی جو سیدنا عیسیٰ کی پیدائش سے پوری ہو گئی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔