(آیت 20){قَالَتْاَنّٰىيَكُوْنُلِيْغُلٰمٌ …: ”بَغِيًّا“} کا معنی زانیہ ہے، اس کی جمع {”بَغَايَا“} اور مصدر{ ”بِغَاءٌ“} ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَلَاتُكْرِهُوْافَتَيٰتِكُمْعَلَىالْبِغَآءِ }»[النور: ۳۳]”اور اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو۔“ مریم علیھاالسلام نے کہا کہ اولاد کے لیے تو مرد اور عورت کا ملنا ضروری ہے، جبکہ مجھے نہ کسی بشر نے نکاح کے ساتھ چھوا ہے اور نہ میں بدکار ہوں۔ {”لَمْيَمْسَسْنِيْبَشَرٌ“} میں اگرچہ نکاح یا زنا کسی بھی طریقے سے کسی مرد کے چھونے کی نفی ہے اور یہی معنی سورۂ آل عمران (۴۷) میں مراد ہے، مگر یہاں زنا کے مقابلے میں آنے کی وجہ سے چھونے کا مطلب نکاح کے ساتھ چھونا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ وہ بولیں: ”میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا جبکہ مجھے کسی انسان [21] نے چھوا تک نہیں اور میں بد کار بھی نہیں“
[21] یعنی سیدہ مریم کا پہلا خوف تو دور ہو گیا کہ یہ کوئی بد کار آدمی نہیں بلکہ اللہ کا فرستادہ فرشتہ ہے اب حیرت اس بات پر ہوئی کہ لڑکا ہو کیسے سکتا ہے؟ جب تک کسی مرد سے صحبت نہ ہو خواہ یہ بالجبر کی صورت میں ہو یا بالرضا کی صورت میں؟ اور یہ دونوں باتیں یہاں مفقود تھیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔