ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 15

وَ سَلٰمٌ عَلَیۡہِ یَوۡمَ وُلِدَ وَ یَوۡمَ یَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ یُبۡعَثُ حَیًّا ﴿٪۱۵﴾
اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔ En
اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ ان پر سلام اور رحمت (ہے)
En
اس پر سلام ہے جس دن وه پیدا ہوا اور جس دن وه مرے اور جس دن وه زنده کرکے اٹھایا جائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) ➊ { وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ …:} یعنی ان تینوں وقتوں میں وہ ہر پریشانی سے سلامت رہیں گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اللہ جو بندے پر سلام کہے اس کا معنی یہ ہے کہ اس پر کچھ پکڑ نہیں۔ (موضح) سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا: { أَوْحَشُ مَا يَكُوْنُ الْخَلْقُ فِيْ ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ يَوْمَ يُوْلَدُ فَيَرَي نَفْسَهٗ خَارِجًا مِمَّا كَانَ فِيْهِ وَيَوْمَ يَمُوْتُ فَيَرَي قَوْمًا لَمْ يَكُنْ عَايَنَهُمْ وَيَوْمَ يُبْعَثُ فَيَرَي نَفْسَهٗ فِيْ مَحْشَرٍ عَظِيْمٍ قَالَ فَأَكْرَمَ اللّٰهُ فِيْهَا يَحْيَي بْنَ زَكَرِيًّا فَخَصَّهُ بِالسَّلاَمِ عَلَيْهِ } [طبري: ۲۳۷۵۱، بسند صحیح]آدمی سب سے زیادہ خوف زدہ تین مواقع پر ہوتا ہے، جس دن پیدا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس جگہ سے نکلتے ہوئے دیکھتا ہے جہاں وہ تھا اور جس دن فوت ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جنھیں اس نے نہیں دیکھا تھا اور جس دن وہ زندہ کیا جائے گا اور اپنے آپ کو بہت بڑے محشر (اکٹھ) میں دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں وقتوں میں یحییٰ بن زکریا علیھما السلام کو عزت بخشی اور انھیں سلامت رکھنے کی خاص نعمت عطا فرمائی۔
یحییٰ علیہ السلام کے کچھ اوصافِ حمیدہ اس سے پہلے سورۂ آل عمران (۳۹) میں گزر چکے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 تین مواقع انسان کے لئے سخت ودہشت ناک ہوتے ہیں، 1۔ جب انسان رحم مادر سے باہر آتا ہے، 2۔ جب موت کا شکنجہ اسے اپنی گرفت میں لیتا ہے، 3۔ اور جب اسے قبر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا تو وہ اپنے کو میدان محشر کی ہولناکیوں میں گھرا ہوا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تینوں جگہوں میں اس کیلئے ہماری طرف سے سلامتی اور امان ہے۔ بعض اہل بدعت اس آیت سے یوم ولادت پر عید میلاد " کا جواز ثابت کرتے ہیں لیکن کوئی ان سے پوچھے تو پھر یوم وفات پر عید وفات یا عید ممات " بھی منانی ضروری ہوئی کیونکہ جس طرح یوم ولادت کے لیے سلام ہے یوم وفات کے لیے بھی سلام ہے اگر محض لفظ " سلام " سے عید میلاد " کا اثبات ممکن ہے تو پر اسی لفظ سے " عید وفات " کا بھی اثبات ہوتا ہے لیکن کہاں وفات کی عید تو کجا سرے سے وفات وممات ہی کا انکار ہے یعنی وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر کے نص قرآنی کا تو انکار کرتے ہی ہیں خود اپنے استدلال کی رو سے بھی آیت کے ایک جز کو تو مانتے ہیں اور اسی آیت کے دوسرے جز سے ان ہی کے استدلال کی روشنی میں جو ثابت ہوتا ہے اس کا انکار ہے۔ (ۭاَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ) 2۔ البقرۃ:85) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ اس دن پر سلامتی ہو جس دن بھی وہ پیدا ہوئے اور اس دن بھی جب [16] وہ مریں گے اور اس دن بھی جب دوبارہ زندہ اٹھایا جائے گا۔
[16] انسان پر تین ہی مشکل گھڑیاں پیش آتی ہیں۔ جو بہرحال مشکل ہوتی ہیں۔ ایک پیدائش کا وقت اس کے اپنے آپ پر اور اس کی ماں پر۔ دوسرے موت کا وقت اور تیسرے بعث الموت کا وقت گویا اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی وہ اس قدر پسندیدہ تھے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی کوئی وقت ایسا نہیں آیا یا نہیں آئے گا جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلامتی نازل نہ ہوتی ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔