(آیت 14){ وَبَرًّۢابِوَالِدَيْهِ …:} آرزوؤں اور امنگوں سے پیدا ہونے والی اولاد عموماً مغرور، سرکش اور نافرمان ہوتی ہے، یحییٰ علیہ السلام ایسے نہ تھے، بلکہ ماں باپ کے ساتھ بہت نیک سلوک کرنے والے تھے۔ وہ نہ سرکش تھے اور نہ اپنے والدین یا اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے تھے۔ ظاہر یہ ہے کہ {”عَصِيًّا“”عَصَييَعْصِيْ“} سے {”فَعُوْلٌ“} کے وزن پر ہے، تعلیل کے بعد {”عَصِيًّا“} بن گیا۔ {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر بھی ہو سکتا ہے، دونوں وزن مبالغہ کے لیے ہیں۔ (شنقیطی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 یعنی اپنے ماں باپ کی یا اپنے رب کی نافرمانی کرنے والا نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں والدین کے لئے شفقت و محبت کا اور ان کی اطاعت وخدمت اور حسن سلوک کا جذبہ اللہ تعالیٰ پیدا فرما دے تو یہ اس کا خاص فضل وکرم ہے اور اس کے برعکس جذبہ یا رویہ، یہ اللہ تعالیٰ کے فضل خاص سے محرومی کا نتیجہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ وہ اپنے والدین سے ہمیشہ اچھا سلوک کرتے تھے اور کسی وقت بھی جابر اور نافرمان [15] نہ ہوئے۔
[15] بڑھاپے کی اولاد، اور بالخصوص ایسی اولاد جو اللہ سے دعائیں مانگ مانگ کر حاصل ہو، کے عادات و اطوار ماں باپ کے زیادہ لاڈ پیار کی وجہ سے اچھے نہیں ہوتے لیکن یحییٰؑ میں ایسی کوئی بات نہ تھی۔ وہ ماں باپ کے انتہائی فرمانبردار، ان سے بہتر سے بہتر سلوک کرنے والے تھے۔ نافرمانی یا سرکشی کی ان میں بو تک نہ تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔