یٰیَحۡیٰی خُذِ الۡکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ ؕ وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡحُکۡمَ صَبِیًّا ﴿ۙ۱۲﴾
اے یحییٰ! کتاب کو قوت سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں فیصلہ کرنا عطا فرمایا۔
En
اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی
En
اے یحيٰ! میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 12){ يٰيَحْيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ …:} اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی وہ باتیں چھوڑ دیں جو خود ہی سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، کچھ سمجھدار ہوئے تو والد کے جانشین کے طور پر تیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ اے یحییٰ! تورات کو قوت کے ساتھ پکڑو، یعنی اسے حفظ کرو، معانی و مطالب سمجھو، اس پر عمل کرو اور اس کے احکام پوری قوت کے ساتھ اپنے آپ پر اور پوری قوم پر نافذ کرو۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں بچپن ہی میں فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرما دی اور وہ نو عمری ہی میں اپنے والد کے علم و فضل، بنی اسرائیل کی سیادت اور وحی و نبوت کے وارث بن گئے اور پوری قوت سے بنی اسرائیل کو تورات پڑھانے اور فیصلے کرنے لگے۔ والد کمزور تھے اور یہ نوجوان، سو والد کی جگہ لوگوں کو کتاب کا علم سکھانے لگے۔ اگر کوئی کہے کہ بچپن میں یہ کیسے ہو سکتا ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ نبوت کا سارا معاملہ خرقِ عادت یعنی دنیا کے عام معمول، عادت اور دستور کے خلاف ہوتا ہے، اس لیے اس خرق عادت پر بھی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یعنی اللہ نے حضرت زکریا ؑ کو یٰحیٰی ؑ عطا فرمایا اور جب وہ کچھ بڑا ہوا، گو ابھی بچہ ہی تھا، اس اللہ نے کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے یعنی اس پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ کتاب سے مراد تورات ہے یا ان پر مخصوص نازل کردہ کوئی کتاب ہے جس کا ہمیں علم نہیں۔ 12۔ 2 حُکْم سے مراد دانائی، عقل، شعور، کتاب میں درج احکام دین کی سمجھ، علم وعمل کی جامعیت یا نبوت سے مراد ہے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ اس امر میں کوئی مانع نہیں ہے کہ حکم میں یہ ساری ہی چیزیں داخل ہوں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ (اللہ تعالیٰ نے یحییٰ کو بچپن میں ہی حکم دیا ہے کہ) ”اے یحییٰ! کتاب (تورات) پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو جاؤ“ اور ہم نے اسے بچپن میں ہی قوت فیصلہ [13] عطا کر دی تھی۔
[13] سیدنا یحییٰؑ کے اوصاف:۔
یعنی اللہ کی کتاب کو خود بھی سیکھو دوسروں کو بھی سکھاؤ۔ اس کے احکام پر خود بھی پوری طرح عمل کرو دوسروں کو بھی اس کی دعوت دو۔ یہی وہ مشن تھا جس کے لئے سیدنا زکریاؑ نے دعا کی تھی۔ چنانچہ اللہ نے سیدنا یحییٰ کو سن رشد پر پہنچتے ہی منصب نبوت پر سرفراز فرما کر یہ حکم دے دیا تھا۔ اور ساتھ ہی قوت فیصلہ، قوت اجتہاد، تفقہ فی الدین، معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت اور معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭
بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ’ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا ‘۔
نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ’ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں ‘۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا]
پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔
ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔
نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ’ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں ‘۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا]
پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔
ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے } }۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔“ ۱؎ [مسند احمد:254/1:ضعیف] یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔