کٓہٰیٰعٓصٓ ۟﴿ۚ۱﴾
کھٰیعص۔
کہیٰعص
کہیعص
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{سورة مريم}
(آیت 1){ كٓهٰيٰعٓصٓ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
(آیت 1){ كٓهٰيٰعٓصٓ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
کہیعص
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ ک۔ ہ۔ ی۔ ع۔ ص [1] [2]
[1] اس سورۃ کا نام مریم اس لئے ہے کہ اس میں سیدہ مریم کے حالات کا تفصیلی ذکر آیا ہے اور یہی ایک خاتون ہیں جن کا قرآن میں نام مذکور ہے اور کم از کم تیس مقامات پر ان کا نام آیا ہے۔ [2] ہجرت حبشہ:۔
یہ سورت مکہ میں ہجرت حبشہ یعنی 5 نبوی سے پیشتر نازل ہوئی تھی۔ قریش کے ناروا مظالم اور سختیوں میں مسلمان پس رہے تھے اور کوئی غلام تھا یا آزاد، کمزور تھا یا قوی سب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ وہاں کا عیسائی بادشاہ جسے مسلمان نجاشی کہتے تھے۔ اپنے عدل کی وجہ سے مشہور تھا اور حبشہ کی طرف ہجرت کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ وہاں تبلیغ کے لئے میدان کھلا تھا۔ چنانچہ پہلی دفعہ سیدنا عثمانؓ کی سر کردگی میں جو وفد حبشہ کو روانہ ہوا اس میں گیارہ مرد اور چار عورتیں شامل تھیں۔ ان عورتوں میں سیدنا عثمانؓ کی بیوی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی رقیہ بھی شامل تھیں۔ اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا ابراہیمؑ کے بعد یہ پہلا جوڑا ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کے لئے نکلا“ رفتہ رفتہ ان مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ چند ہی ماہ میں 83 مرد اور 11 عورتیں حبشہ کو منتقل ہو گئے جن میں سات غیر قریشی مسلمان بھی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں صرف 40 آدمی رہ گئے۔ اس صورت حال نے کفار مکہ کو سخت بے چین کر دیا۔ کیونکہ ہجرت کرنے والے تقریباً سب ہی کسی نہ کسی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ کسی کا بیٹا، کسی کا داماد، کسی کی بیٹی، کسی کی بہن وغیرہ تھے۔ اس صدمہ سے متاثر ہو کر کچھ لوگ تو مسلمان ہوئے اور زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جنہوں نے مسلمانوں پر سختیوں میں مزید اضافہ کر دیا۔ ایک تجویز طے ہوئی کہ جیسے بھی بن پڑے مہاجرین حبشہ کو یہاں واپس مکہ لایا جائے۔
ہجرت حبشہ اور قریشی وفد کی ناکامی:۔
اس غرض کے لئے دو ماہرین سفارت عبد اللہ بن ابی ربیعہ (ابو جہل کا ماں جایا بھائی) اور عمرو بن عاص (فاتح مصر، جو ابھی تک اسلام نہ لائے تھے) کا انتخاب کیا گیا۔ یہ دونوں بادشاہ اور پادریوں کے لئے تحفے تحائف لے کر حبشہ پہنچے۔ پہلے پادریوں سے ملے اور انھیں تحفے تحائف دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ جب ہم بادشاہ کے سامنے اپنی عرضداشت پیش کریں تو وہ ان کی ہاں میں ہاں ملا دیں۔ چنانچہ دوسرے دن اس وفد نے بادشاہ کے سامنے حاضر ہو کر نذرانے پیش کرنے کے بعد عرض کی کہ ہمارے چند مجرموں نے مکہ سے بھاگ کر آپ کے ہاں پناہ لی ہے۔ وہ ہمیں واپس کر دیئے جائیں۔ ساتھ ہی رشوت خور درباریوں اور پادریوں نے ہاں میں ہاں ملا دی۔ مگر نجاشی انصاف پسند انسان تھا۔ ان کی باتوں میں نہ آیا اور کہہ دیا کہ جب تک میں ان لوگوں کی بات نہ سن لوں ان کی واپسی کا کیسے حکم دے سکتا ہوں۔ چنانچہ مسلمانوں کو بلایا گیا اور ان سے صورت حال دریافت کی گئی۔ مسلمانوں نے سیدنا جعفر طیارؓ کو اپنا نمائندہ یا ترجمان مقرر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم فلاں فلاں قسم کی گمراہیوں میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان نبی مبعوث کیا جس پر ہم ایمان لے آئے تو یہ لوگ ہاتھ دھو کر ہمارے پیچھے پڑ گئے۔ انہی لوگوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر ہم نے آپ کے ملک میں پناہ لی ہے۔ نجاشی کہنے لگا: تمہارے نبی پر جو کلام نازل ہوا ہے۔ اس کا کچھ حصہ تو سناؤ چنانچہ سیدنا جعفر طیارؓ نے اسی سورۃ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں جن میں سیدنا زکریا اور سیدہ مریم کا ذکر ہے۔ یہ کلام سن کر نجاشی پر رقت طاری ہو گئی۔ سنتا جاتا تھا اور روتا جاتا تھا حتیٰ کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی اور جب سیدنا جعفر طیار نے تلاوت ختم کی تو کہنے لگا: یہ کلام اور وہ کلام جو سیدنا عیسیٰؑ پر نازل ہوا دونوں ایک ہی منبع سے پھوٹے ہیں۔ واللہ! میں ان لوگوں کو تمہارے حوالہ نہ کروں گا۔ نجاشی کے انکار پر قریشی وفد سخت مایوس ہو گیا اور موجودہ صورتحال پر غور کرنے کے لئے سر جوڑ بیٹھے۔ عمرو بن عاص یکدم پکار اٹھا کہ بادشاہ سے دوبارہ ملاقات کی جائے میں کل ایسی بات پیش کروں گا جس سے یقیناً ہم کامیاب ہوں گے۔ چنانچہ دوسرے دن عمرو بن عاص نے رسائی حاصل کر کے بادشاہ سے کہا: حضور آپ کو یہ بھی علم ہے کہ یہ لوگ سیدنا عیسیٰؑ کے متعلق کیا اعتقاد رکھتے ہیں؟ بادشاہ نے اس سوال کے جواب کے لئے دوبارہ مسلمانوں کو بلا بھیجا۔ انھیں بھی اس بات کی خبر ہو گئی تھی۔ بہرحال انہوں نے یہ طے کر لیا کہ حالات جیسے بھی پیش آئیں ہمیں سچی بات ہی کہنا چاہئے اور جب نجاشی نے یہ سوال کیا تو سیدنا جعفر طیار کہنے لگے کہ ” عیسیٰؑ اللہ کے بندے، اس کے رسول، روح اللہ اور کلمۃ اللہ تھے“ یہ جواب سن کر نجاشی نے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: ”واللہ! جو کچھ تم نے کہا: عیسیٰؑ اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں“ نجاشی کے اس تبصرہ پر درباری لوگ برہم ہوئے مگر نجاشی نے اس کی کچھ پروا نہ کی۔ قریشی سفارت مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ نجاشی نے ان کے تحائف انھیں واپس کر دیئے اور مسلمانوں کو امن و اطمینان سے اس ملک میں رہنے کی اجازت دے دی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دعا اور قبولیت ٭٭
اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، { آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2379]
رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، { آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2379]
رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ’ لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں ‘۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔“
«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ’ میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں ‘۔
پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ’ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے ‘۔
یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔
دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ’ میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں ‘۔
پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ’ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے ‘۔
یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔
دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3094]
ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔“
جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ’ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے ‘۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔
چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے، { ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے }۔
مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔
ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔“
جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ’ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے ‘۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔
چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے، { ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے }۔
مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔
عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔“
ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔“