ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 92

ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۹۲﴾
پھر وہ کچھ اور سامان ساتھ لے کر چلا۔ En
پھر اس نے ایک اور سامان کیا
En
وه پھر ایک سفر کے سامان میں لگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 93،92) ➊ { ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا …:} مغرب و مشرق کے سفر کے بعد ذوالقرنین کا یہ تیسرا سفر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی جہت بیان نہیں فرمائی کہ وہ شمال ہے یا جنوب یا چاروں جہتوں کا کوئی کونا۔ معلوم ہوتا ہے اسے پوشیدہ رکھنے ہی میں اللہ کی حکمت ہے۔ چنانچہ مدت دراز سے لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی دو پہاڑوں کے درمیان اس جیسی بلندی والی یہ دیوار کسی نے نہیں دیکھی۔ دیوار چین یا داغستان میں دربند اور خوزامہ کے درمیان کسی زمانے میں پائی جانے والی دیوار یا کسی اور دیوار کی نہ یہ ہیئت ہے، نہ ان کے پار رہنے والوں میں کہیں یاجوج ماجوج کا وجود ہے۔
➋ بہت سے مفسرین نے ذوالقرنین کا یہ سفر شمال کی طرف قرار دیا ہے، کوئی اسے روس کا علاقہ قرار دیتا ہے، کوئی تاتاریوں کو یاجوج ماجوج کا مصداق ٹھہراتا ہے، جنھوں نے شمال کی جانب سے نکل کر دنیاکو تہ و بالا کر دیا تھا اور بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ بعض انھیں مغل یا ترک قرار دیتے ہیں، مگر سب بلادلیل اندھیرے میں پتھر پھینکتے چلے جاتے ہیں۔ بعض حضرات اپنے دعوے کے کسی جز کی دلیل کے طور پر بائبل سے کچھ نقل کرکے پورے دعوے کی دلیل کے فریضے سے سبکدوش ہو جاتے ہیں، حالانکہ موجودہ بائبل پر یقین ممکن ہی نہیں۔ ان حضرات کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ ذوالقرنین کی دیوار ختم ہو چکی اور اس کے پیچھے روکے ہوئے یاجوج ما جوج جو نکلنے تھے نکل چکے، حالانکہ قرآن و سنت دونوں سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت کی تفصیل کی ضرورت ہو تو وہ قرآن مجید کی کسی دوسری آیت ساتھ ملانے سے پوری ہو جاتی ہے، اگر پھر بھی ضرورت باقی رہے تو صحیح حدیث ملانے سے وہ بھی پوری ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید میں یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ذکر ایک اور مقام پر بھی آتا ہے، فرمایا: «{ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ (96) وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِيْنَ [الأنبیاء: ۹۶، ۹۷] یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور سچا وعدہ بالکل قریب آ جائے گا تو اچانک یہ ہو گا کہ ان لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی جنھوں نے کفر کیا۔ ہائے ہماری بربادی! بے شک ہم اس سے غفلت میں تھے، بلکہ ہم ظلم کرنے والے تھے۔ سورۂ کہف اور سورۂ انبیاء دونوں کی آیات کو ملانے سے صاف واضح ہے کہ اس دیوار کے زمین کے برابر ہونے اور یاجوج ماجوج کے موجیں مارتے ہوئے نکلنے کا وقت ایک ہی ہے اور اس کے بعد نفخ صور اور قیامت بالکل قریب ہوں گی۔ اس کی مزید تفصیل صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی موجود ہے کہ یہ سب کچھ دجال کے نکلنے اور مسیح علیہ السلام کے زمین پر نازل ہونے کے بعد ہو گا۔ چنانچہ نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی حدیث میں دجال کے نکلنے، فتنہ و فساد پھیلانے، پھر مسیح علیہ السلام کے نازل ہو کر اسے قتل کرنے کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام اسی طرح (مصروف) ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائے گا کہ میں نے اپنے کچھ ایسے بندے نکالے ہیں کہ کسی میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیں، اس لیے میرے بندوں کو طور کی طرف لے جا کر محفوظ کر لو، تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ ان کے پہلے لوگ طبریہ جھیل پر پہنچیں گے تو اس میں جو بھی (پانی) ہے پی جائیں گے اور ان کے آخری لوگ گزریں گے اور کہیں گے کہ یہاں کبھی ضرور پانی رہا ہے۔ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی محصور رہیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک کے نزدیک بیل کا سر آج تمھارے نزدیک سو دینار (تین سو گرام سونے) سے بہتر ہو گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑے ڈال دے گا تو وہ سب ایک شخص کی موت کی طرح ہلاک ہو جائیں گے، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت جگہ بھی نہیں پائیں گے جسے ان کی سڑاند اور گندگی نے نہ بھر رکھا ہو۔ تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرندے بھیجے گا جو انھیں اٹھا کر وہاں پھینک دیں گے جہاں اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا کہ کوئی مکان یا خیمہ اس کے بغیر نہیں رہے گا۔ چنانچہ وہ بارش زمین کو دھو دے گی، یہاں تک کہ اسے آئینے کی طرح صاف کر دے گی۔ پھر زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھل اُگا اور اپنی برکت واپس لا تو ان دنوں ایک جماعت انار کا ایک حصہ کھائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گی اور دودھ والے جانوروں میں برکت دی جائے گی، یہاں تک کہ دودھ والی اونٹنی لوگوں کی کئی جماعتوں کو کافی ہو گی اور دودھ والی گائے لوگوں کے ایک قبیلے کو کافی ہو گی اور دودھ والی بکری لوگوں کے ایک خاندان کو کافی ہو گی۔ تو وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک طیب ہوا بھیجے گا جو ان کی بغلوں کے نیچے اثر کرے گی اور ہر مومن اور ہر مسلم کی روح قبض کر لے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، جو گدھوں کی طرح ایک دوسرے سے جنسی ملاپ کریں گے تو ان پر قیامت قائم ہو گی۔ [مسلم، الفتن، باب ذکر الدجال: ۲۹۳۷]
اس صحیح حدیث سے ذوالقرنین کی دیوار کا زمین کے برابر ہو چکا ہونا اور یاجوج ماجوج کا روسی، چینی یا تاتاری ہونا اور ان کے خروج کا واقع ہو چکا ہونا صاف غلط ثابت ہوتا ہے اور یہ بات طے شدہ ہے کہ قرآن مجید اور صحیح حدیث کے خلاف جو بات بھی ہے وہ باطل اور جھوٹ ہے، خواہ وہ بات کہنے والا کتنا بڑا ہو اور خواہ وہ بائبل کی کسی کتاب میں موجود ہو، کیونکہ بائبل کے محفوظ نہ رہنے اور اس میں اضافہ اور تبدیلی کی شہادت قرآن مجید میں کئی جگہ موجود ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۳)، انعام (۹۱)، بقرہ (۷۹) اور آل عمران (۷۸) اس کے مقابلے میں قرآن و سنت کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ دیکھیے سورۂ حجر (۹)، قیامہ (۱۶، ۱۷)، حم السجدہ (۴۲) اور نجم (۳، ۴) بلکہ اس میں کئی ایسی عبارتیں ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی انھیں عام مجمع میں پڑھنے کی جرأت نہیں کر سکتا، مثلاً لوط، داؤد اور سلیمان علیھم السلام پر تہمتوں کے طوفان والی عبارتیں۔ اور اس بات پر امت کا اتفاق ہے کہ اہل کتاب کی کوئی بات قرآن و سنت کے خلاف ہو تو وہ جھوٹ ہے اور اگر نہ خلاف ہو نہ موافق تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انھیں نہ سچا کہو نہ جھوٹا۔ زیر تفسیر آیات کے بارے میں اسرائیلی روایات قرآن مجید اور صحیح احادیث کے خلاف ہیں، اس لیے بے بنیاد اور باطل ہیں۔
➌ یاجوج اور ماجوج عجمی نام ہیں، اس لیے عجمہ اور تانیث (مجوس کی طرح قبیلہ ہونے) کی وجہ سے غیر منصرف ہیں۔ اگر انھیں عربی مانا جائے تو یاجوج بروزن {يَفْعُوْلٌ} مثلاً {يَرْبُوْعٌ} اور ماجوج بروزن {مَفْعُوْلٌ} مثلاً {مَعْقُوْلٌ} ہو گا اور ان کا ماخذ { اَجَّ يَؤُجُّ } ہو گا۔ {اَجَّ الظَّلِيْمُ } کا معنی نر شتر مرغ تیز دوڑا اور {اَجَّتِ النَّارُ} آگ بھڑک اٹھی۔ غرض یاجوج اور ماجوج کا اشتقاق ایک ہی مادے سے ہے اور اس کے مفہوم میں تیزی اور اشتعال شامل ہے اور یہ لفظ معرفہ اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہیں۔ (قاسمی)
➍ یاجوج اور ماجوج آدم علیہ السلام ہی کی اولاد ہیں، جیسا کہ صحیحین میں ہے: [يَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ يَا آدَمُ! فَيَقُوْلُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِيْ يَدَيْكَ قَالَ يَقُوْلُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ، قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِيْنَ، قَالَ فَذَاكَ حِيْنَ يَشِيْبُ الصَّغِيْرُ «{ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَي النَّاسَ بِسُكٰرٰي وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ قَالَ فَاشْتَدَّ ذٰلِكَ عَلَيْهِمْ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَيُّنَا ذَاكَ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ أَبْشِرُوْا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ أَلْفٌ، وَمِنْكُمْ رَجُلٌ] [مسلم، الإیمان، باب قولہ: یقول اللّٰہ لآدم…: ۲۲۲۔ بخاري: ۶۵۳۰] اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اے آدم! وہ عرض کریں گے: لبیک و سعدیک اور ہر خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: آگ والی جماعت کو نکالو۔ وہ عرض کریں گے: اور آگ والی جماعت کیا ہے؟ فرمائیں گے: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ وہ وقت ہو گا کہ بچہ بوڑھا ہو جائے گا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے میں دیکھے گا، حالانکہ وہ ہر گز نشے میں نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ راوی نے کہا، تو یہ بات ان پر بہت شاق گزری، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں وہ ایک آدمی کون ہو گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ کہ یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار اور تم میں سے ایک آدمی ہو گا۔ بعض مفسرین نے یاجوج ماجوج کی شکل و صورت، قد کے لمبے اور چھوٹے ہونے اور ان کے کانوں کے متعلق عجیب و غریب اقوال و روایات لکھی ہیں جن میں سے کوئی بھی قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ (ابن کثیر)
➎ اس حقیقت پر بعض کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یورپی اقوام نے زمین کا ہر کونا چھان مارا ہے مگر انھیں نہ کہیں یاجوج ماجوج نظر آتے ہیں نہ پہاڑوں جیسی بلند لوہے اور تانبے کی کوئی دیوار نظر آتی ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے مخفی رکھنا چاہے کوئی اسے نہیں دیکھ سکتا۔ بنی اسرائیل میدان تیہ میں چالیس سال تک چند میل کے دائرے میں گھومتے رہے، نہ وہ اس دائرے سے نکل سکے اور نہ کسی اور کو ان کا پتا چل سکا، ورنہ وہ انھیں نکلنے کا راستہ بتا کر وہاں سے نکال لیتا۔ ایمان ہو تو اس دیوار، یاجوج ماجوج، نزول مسیح، دجال، دا بۃ الارض سب پر یقین آ جاتا ہے اور اگر ایمان نہ ہو تو انسان ایک جمع ایک، جمع ایک، برابر تین کے بجائے برابر ایک جیسی صریح خلاف عقل بات پر اڑ جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے رازوں تک اپنی نا رسائی کو تسلیم نہیں کرتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

92۔ 2 یعنی اب اس کا رخ کسی اور طرف ہوگیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

92۔ پھر وہ ایک اور راہ (تیسری مہم) پر نکلا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یاجوج ماجوج ٭٭
اپنے شرقی سفر کو ختم کر کے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے۔ دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے، جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، کھیت باغات تباہ کرتے ہیں، بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد برپا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ عزوجل آدم علیہ السلام سے فرمائے گا کہ اے آدم! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہو گا آگ کا حصہ الگ کر، پوچھیں گے کتنا حصہ؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا تم میں دو امتیں ہیں کہ وہ جن میں ہوں انہیں کثرت کو پہنچا دیتی ہیں یعنی یاجوج ماجوج۔ [صحیح بخاری:6530]‏‏‏‏
امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں ایک عجیب بات لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے خاص پانی کے چند قطرے جو مٹی میں گرے تھے، انہی سے یاجوج ماجوج پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا وہ حواء اور آدم علیہ السلام کی نسل سے نہیں بلکہ صرف نسل آدم علیہ السلام سے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ قول بالکل ہی غریب ہے نہ اس پر عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور ایسی باتیں جو اہل کتاب سے پہنچتی ہیں، وہ ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے ہاں کے ایسے قصے ملاوٹی اور بناوٹی ہوتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد میں حدیث ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین لڑکے تھے سام، حام اور یافث۔ سام کی نسل سے کل عرب ہیں اور حام کی نسل سے کل حبشی ہیں اور یافث کی نسل سے کل ترک ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج ترکوں کے اس جد اعلیٰ یافث کی ہی اولاد ہیں، انہیں ترک اس لیے کہا گیا ہے کہ انہیں بوجہ ان کے فساد اور شرارت کے انسانوں کی دیگر آبادی کے پس پشت پہاڑوں کی آڑ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ذوالقرنین کے سفر کے متعلق اور اس دیوار کے بنانے کے متعلق اور یاجوج ماجوج کے جسموں، ان کی شکلوں اور ان کے کانوں وغیرہ کے متعلق وہب بن منبہ سے ایک بہت لمبا چوڑا واقعہ اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے جو علاوہ عجیب و غریب ہونے کے صحت سے دور ہے۔ ابن ابی حاتم میں بھی ایسے بہت سے واقعات درج ہیں لیکن سب غریب اور غیر صحیح ہیں۔ ان پہاڑوں کے درے میں ذوالقرنین نے انسانوں کی ایک آبادی پائی جو بوجہ دنیا کے دیگر لوگوں سے دوری کے اور ان کی اپنی مخصوص زبان کے اوروں کی بات بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کی قوت وطاقت، عقل و ہنر کو دیکھ کر درخواست کی کہ اگر آپ رضا مند ہوں تو ہم آپ کے لیے بہت سا مال جمع کر دیں اور آپ ان پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو کسی مضبوط دیوار سے بند کر دیں تاکہ ہم ان فسادیوں کی روزمرہ کی ان تکالیف سے بچ جائیں۔ اس کے جواب میں ذوالقرنین نے فرمایا، مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اللہ کا دیا سب کچھ میرے پاس موجود ہے اور وہ تمہارے مال سے بہت بہتر ہے۔ یہی جواب سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ملکہ سبا کے قاصدوں کو دیا گیا تھا «أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ» [27-النمل: 36]‏‏‏‏۔ ذوالقرنین نے اپنے اس جواب کے بعد فرمایا کہ ہاں تم اپنی قوت وطاقت اور کام کاج سے میرا ساتھ دو تو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہوں۔ زبر جمع ہے زبرۃ کی۔ ذوالقرنین فرماتے ہیں کہ لوہے کے ٹکڑے اینٹوں کی طرح کے میرے پاس لاؤ۔ جب یہ ٹکڑے جمع ہو گئے تو آپ نے دیوار بنانی شروع کرا دی اور وہ لمبائی چوڑائی میں اتنی ہو گئی کہ تمام جگہ گھر گئی اور پہاڑ کی چوٹی کے برابر پہنچ گئی۔ اس کے طول و عرض اور موٹائی کی ناپ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں۔
جب یہ دیوار بالکل بن گئی تو حکم دیا کہ اب اس کے چاروں طرف آگ بھڑکاؤ۔ جب وہ لوہے کی دیوار بالکل انگارے جیسی سرخ ہو گئی تو حکم دیا کہ اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور ہر طرف سے اس کے اوپر بہا دو چنانچہ یہ بھی کیا گیا۔ پس ٹھنڈی ہو کر یہ دیوار بہت ہی مضبوط اور پختہ ہو گئی اور دیکھنے میں ایسی معلوم ہونے لگی جیسے کوئی دھاری دار چادر ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے وہ دیوار دیکھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا دھاری دار چادر جیسی، جس میں سرخ و سیاہ دھاریاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:23340:مرسل]‏‏‏‏ لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ خلیفہ واثق نے اپنے زمانے میں اپنے امیروں کو ایک وافر لشکر اور بہت سا سامان دے کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس دیوار کی خبر لائیں۔ یہ لشکر دو سال سے زیادہ سفر میں رہا اور ملک در ملک پھرتا ہوا آخر اس دیوار تک پہنچا، دیکھا کہ لوہے اور تانبے کی دیوار ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا نہایت پختہ عظیم الشان دروازہ بھی اسی کا ہے جس پر منوں کے وزنی قفل لگے ہوئے ہیں اور جو مال مسالہ دیوار کا بچا ہوا ہے، وہ وہیں پر ایک برج میں رکھا ہوا ہے جہاں پہرہ چوکی مقرر ہے۔ دیوار بے حد بلند ہے کتنی ہی کوشش کی جائے لیکن اس پر چڑھنا ناممکن ہے۔ اس سے ملا ہوا پہاڑیوں کا سلسلہ دونوں طرف برابر چلا گیا ہے اور بھی بہت سے عجائب وغرائب امور دیکھے جو انہوں نے واپس آ کر خلیفہ کی خدمت میں عرض کئے۔