اس آیت کی تفسیر آیت 89 میں تا آیت 91 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
90۔ 1 یعنی ایسی جگہ پہنچ گیا جو مشرقی جانب کی آخری آبادی تھی، اس کو مطلع الشمس کہا گیا ہے۔ جہاں اس نے ایسی قوم دیکھی جو مکانوں میں رہنے کے بجائے میدانوں اور صحراؤں میں بسیرا کیے ہوئے، لباس سے بھی آزاد تھی۔ یہ مطلب ہے کہ ان کے اور سورج کے درمیان کوئی پردہ اور اوٹ نہیں تھی۔ سورج ان کے ننگے جسموں پر طلوع ہوتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
90۔ حتیٰ کہ وہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ اسے ایسا معلوم ہوا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ سورج اور اس قوم کے درمیان [74] ہم نے کوئی آڑ نہیں بنائی۔
[74] دوسرا سفر مشرق کی طرف تھا وہ علاقے فتح کرتا ہوا بالآخر وہاں تک پہنچ گیا جہاں مہذب دنیا ختم ہو جاتی تھی اور اسے ایسی جانگلی غیر مہذب قوم سے واسطہ پڑا جو اپنا گھر بنانا بھی نہ جانتے تھے۔ سورج کی گرمی یا بارش سے بچنے کے لیے ان کے پاس نہ خیمے کے ہلکے پھلکے گھر تھے اور نہ مکان تھے اور وہ پہاڑوں کی غاروں اور کھوہوں میں اپنا گزر اوقات کیا کرتے تھے یا پھر وہ آفتاب کی تپش اور بارش وغیرہ کو برداشت کرنے کے عادی بن چکے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک وحشی بستی ٭٭
ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے۔ راستے میں جو قومیں ملتیں، اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے۔ اگر وہ قبول کر لیتے تو بہت اچھا، ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے فضل سے وہ ہارتے۔ آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے۔ اور برابر زمین پر دین الٰہی کی تبلیغ میں رہے، ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہی۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے، سورج کی دھوپ سے پناہ دینے والی کوئی چیز وہاں انہیں نظر نہ آئی۔ ان کے رنگ سرخ تھے ان کے قد پست تھے عام خوراک ان کی مچھلی تھی۔
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جایا کرتے تھے اور غروب ہونے کے بعد جانوروں کی طرح ادھر ادھر ہو جایا کرتے تھے۔ [ابو شیخ فی العظمة989-978] حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وہاں تو کچھ اگتا نہ تھا، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جاتے اور زوال کے بعد دوردراز اپنی کھیتیوں وغیرہ میں مشغول ہو جاتے۔ سلمہ کا قول ہے کہ ان کے کان بڑے بڑے تھے ایک اوڑھ لیتے، ایک بچھا لیتے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ وحشی حبشی تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ وہاں کبھی کوئی مکان یا دیوار یا احاطہٰ نہیں بنا، سورج کے نکلنے کے وقت یہ لوگ پانی میں گھس جاتے۔ وہاں کوئی پہاڑ بھی نہیں۔ پہلے کسی وقت ان کے پاس ایک لشکر پہنچا تو انہوں نے ان سے کہا کہ دیکھو سورج نکلتے وقت باہر نہ ٹھہرنا۔ انہوں نے کہا نہیں ہم تو رات ہی رات یہاں سے چلے جائیں گے لیکن یہ تو بتاؤ کہ یہ ہڈیوں کے چمکیلے ڈھیر کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا یہاں پہلے ایک لشکر آیا تھا۔ سورج کے نکلنے کے وقت وہ یہیں ٹھہرا رہا، سب مر گئے، یہ ان کی ہڈیاں ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ وہاں سے واپس ہو گئے۔ پھر فرماتا ہے کہ ذوالقرنین کی، اس کے ساتھیوں کی کوئی حرکت کوئی گفتار اور رفتار ہم پر پوشیدہ نہ تھی۔ گو اس کا لاؤ لشکر بہت تھا زمین کے ہر حصے پر پھیلا ہوا تھا۔ «إِنَّاللَّـهَلَايَخْفَىٰعَلَيْهِشَيْءٌفِيالْأَرْضِوَلَافِيالسَّمَاءِ»[3-آل عمران: 5] لیکن ہمارا علم زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ ہم سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔