(آیت 90،89){ ثُمَّاَتْبَعَسَبَبًا …:} مغرب کی طرف انسانی آبادی کے آخری حصے تک تمام علاقے فتح کرکے اسلام کے زیر نگیں لانے کے بعد اب اس نے مشرق کی طرف آبادی کے آخری حصے تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک نہایت طویل اور دشوار سفر کے لیے ہر قسم کا سازوسامان مہیا کیا اور اپنی زبردست افواج اور جنگی سازو سامان ساتھ لے کر بے شمار دریاؤں، پہاڑوں، جنگلوں اور صحراؤں کو عبور کرتا ہوا اور تمام بادشاہوں کو شکست دیتا ہوا مشرق کی طرف آبادی کی ابتدا تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایسے لوگوں پر طلوع ہوتا ہے جن کے پاس سورج کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی پردہ تھا نہ مکان، نہ کوئی عمارت، نہ خیمہ، نہ لباس۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے ذکر نہیں فرمایا، مگر اہلِ مغرب کے ساتھ اس کے سلوک سے ظاہر ہے کہ اس نے انھیں بھی اسلام کی دعوت دی اور ہر ایک کے ساتھ اس کے رویے کے مطابق سلوک کیا ہے اور انھیں وحشی زندگی کے بجائے تہذیب و تمدن کی تعلیم دی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
89۔ 1 یعنی اب مغرب سے مشرق کی طرف سفر اختیار کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
89۔ پھر وہ ایک اور راہ (دوسری مہم) پر چل پڑا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک وحشی بستی ٭٭
ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے۔ راستے میں جو قومیں ملتیں، اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے۔ اگر وہ قبول کر لیتے تو بہت اچھا، ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے فضل سے وہ ہارتے۔ آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے۔ اور برابر زمین پر دین الٰہی کی تبلیغ میں رہے، ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہی۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے، سورج کی دھوپ سے پناہ دینے والی کوئی چیز وہاں انہیں نظر نہ آئی۔ ان کے رنگ سرخ تھے ان کے قد پست تھے عام خوراک ان کی مچھلی تھی۔
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جایا کرتے تھے اور غروب ہونے کے بعد جانوروں کی طرح ادھر ادھر ہو جایا کرتے تھے۔ [ابو شیخ فی العظمة989-978] حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وہاں تو کچھ اگتا نہ تھا، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جاتے اور زوال کے بعد دوردراز اپنی کھیتیوں وغیرہ میں مشغول ہو جاتے۔ سلمہ کا قول ہے کہ ان کے کان بڑے بڑے تھے ایک اوڑھ لیتے، ایک بچھا لیتے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ وحشی حبشی تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ وہاں کبھی کوئی مکان یا دیوار یا احاطہٰ نہیں بنا، سورج کے نکلنے کے وقت یہ لوگ پانی میں گھس جاتے۔ وہاں کوئی پہاڑ بھی نہیں۔ پہلے کسی وقت ان کے پاس ایک لشکر پہنچا تو انہوں نے ان سے کہا کہ دیکھو سورج نکلتے وقت باہر نہ ٹھہرنا۔ انہوں نے کہا نہیں ہم تو رات ہی رات یہاں سے چلے جائیں گے لیکن یہ تو بتاؤ کہ یہ ہڈیوں کے چمکیلے ڈھیر کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا یہاں پہلے ایک لشکر آیا تھا۔ سورج کے نکلنے کے وقت وہ یہیں ٹھہرا رہا، سب مر گئے، یہ ان کی ہڈیاں ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ وہاں سے واپس ہو گئے۔ پھر فرماتا ہے کہ ذوالقرنین کی، اس کے ساتھیوں کی کوئی حرکت کوئی گفتار اور رفتار ہم پر پوشیدہ نہ تھی۔ گو اس کا لاؤ لشکر بہت تھا زمین کے ہر حصے پر پھیلا ہوا تھا۔ «إِنَّاللَّـهَلَايَخْفَىٰعَلَيْهِشَيْءٌفِيالْأَرْضِوَلَافِيالسَّمَاءِ»[3-آل عمران: 5] لیکن ہمارا علم زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ ہم سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔