موسیٰ نے اس سے کہا کیا میں تیرے پیچھے چلوں؟ اس (شرط) پر کہ تجھے جو کچھ سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ بھلائی مجھے سکھا دے۔
En
موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں
(آیت 66تا70) ان آیات اور گزشتہ آیات میں اپنے علم پر عجب سے پرہیز، طلب علم کے لیے سفر، آخری دم تک حصول علم کا عزم مصمم، استاذ کے سامنے طلب علم کے لیے درخواست کا طریقہ، استاد کا ادب، اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرنا، اپنے کسی بھی کام یا عہد میں اپنے آپ پر بھروسے کے بجائے ان شاء اللہ کہہ کر اسے اللہ کے سپرد کرنا سکھایا گیا ہے اور یہ کہ استاذ تعلیم کے لیے شاگرد پر بعض شرطیں عائد کر سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
66۔ موسیٰ نے اس بندے (خضر) سے کہا: اگر میں آپ کی پیروی کروں تو کیا آپ اس بھلائی کا کچھ حصہ مجھے بھی سکھا دیں گے جو آپ کو سکھائی گئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شوق تعلیم و تعلم ٭٭
یہاں اس گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے درمیان ہوئی تھی۔ خضر اس علم کے ساتھ مخصوص کئے گئے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کو نہ تھا۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ علم تھا جس سے خضر بے خبر تھے۔ پس موسیٰ علیہ السلام ادب سے اور اس لیے کہ خضر کو مہربان کر لیں، ان سے سوال کرتے ہیں۔ شاگرد کو اسی طرح ادب کے ساتھ اپنے استاد سے دریافت کرنا چاہیئے، پوچھتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ کی خدمت کرتا رہوں اور آپ سے علم حاصل کروں جس سے مجھے نفع پہنچے اور میرے عمل نیک ہو جائیں۔ خضر علیہ السلام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ تم میرا ساتھ نہیں نبھا سکتے، میرے کام آپ کو اپنے علم کے خلاف نظر آئیں گے۔ میرا علم آپ کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے، وہ اللہ نے مجھے نہیں سکھایا، پس میں اپنی ایک الگ خدمت پر مقرر ہوں اور آپ الگ خدمت پر۔ ناممکن ہے کہ آپ اپنی معلومات کے خلاف میرے افعال دیکھیں اور پھر صبر کر سکیں۔ اور واقعہ میں آپ اس حال میں معذور بھی ہیں۔ کیونکہ باطنی حکمت اور مصلحت آپ کو معلوم نہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ ان پر مطلع فرما دیا کرتا ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ جو کچھ کریں گے، میں اسے صبر سے برداشت کرتا رہوں گا، کسی بات میں آپ کے خلاف نہ کروں گا۔
پھر خضر نے ایک شرط پیش کی کہ اچھا کسی چیز کے بارے میں تم مجھ سے سوال نہ کرنا، میں جو کہوں وہ سن لینا، تم اپنی طرف سے کسی سوال کی ابتداء نہ کرنا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عز و جل سے سوال کیا کہ تجھے اپنے بندوں میں سے زیادہ پیارا کون ہے؟ جواب ملا کہ جو ہر وقت میری یاد میں رہے اور مجھے نہ بھلائے۔ پوچھا کہ تمام بندوں میں سے سب سے اچھا فیصلہ کرنے ولا کون ہے؟ فرمایا جو حق کے ساتھ فیصلے کرے اور خواہش کے پیچھے نہ پڑے۔ دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ فرمایا وہ عالم جو زیادہ علم کی جستجو میں رہے، ہر ایک سے سیکھتا رہے کہ ممکن ہے کوئی ہدایت کا کلمہ مل جائے اور ممکن ہے کوئی بات گمراہی سے نکلنے کی ہاتھ لگ جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پھر دریافت کیا کہ کیا زمین میں تیرا کوئی بندہ مجھ سے بھی زیادہ عالم ہے؟ فرمایا ہاں، پوچھا وہ کون ہے؟ فرمایا خضر علیہ السلام۔ فرمایا میں اسے کہاں تلاش کروں؟ فرمایا دریا کے کنارے پتھر کے پاس جہاں سے مچھلی بھاگ کھڑی ہو۔ پس موسیٰ علیہ السلام ان کی جستجو میں چلے۔ پھر وہ ہوا جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ اسی پتھر کے پاس دونوں کی ملاقات ہوئی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سمندروں کے ملاپ کی جگہ جہاں سے زیادہ پانی کہیں بھی نہیں، چڑیا نے چونچ میں پانی لیا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔