ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 65

فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَیۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ عَلَّمۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴿۶۵﴾
تو ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے ہاں سے ایک رحمت عطا کی اور اسے اپنے پاس سے ایک علم سکھایا تھا۔ En
(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا
En
پس ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا، جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرما رکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 65) ➊ { عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ:} اس سے مراد خضر علیہ السلام ہیں (خاء کے فتحہ اور ضاد کے کسرہ کے ساتھ، یا خاء کے کسرہ اور ضاد کے سکون کے ساتھ)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرُ لِأَنَّهٗ جَلَسَ عَلٰی فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ مِنْ خَلْفِهٖ خَضْرَاءَ] [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الخضر…: ۳۴۰۲]ان کا نام خضر اس لیے پڑا کہ وہ سفید زمین کے ایک قطعے پر بیٹھے تو وہ ان کے پیچھے سرسبز ہو کر لہلہانے لگا۔ یہ اللہ کے نبی تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے آخر میں فرمایا کہ میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ (کہف: ۸۲) بلکہ یہ سب اللہ کے حکم سے تھا جو وحی کی صورت میں انبیاء کو صادر ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کا اوپر مفصل حدیث میں یہ کہنا کہ میرے پاس ایک علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سکھایا ہے، تم اسے نہیں جانتے…۔ ولی کتنا بھی مقرب ہو اس کا الہام حجت نہیں، نہ وہ الہام سے کسی کو قتل کر سکتا ہے، ورنہ ہر مومن اللہ کا ولی ہے۔ (بقرہ: ۲۵۷) وہ اللہ کے امر کا بہانہ بنا کر جسے چاہے گا قتل کر دے گا، جب کہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں۔
محقق علماء جن میں امام بخاری، ابن تیمیہ اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیھم جیسے عظیم ائمہ شامل ہیں، فرماتے ہیں کہ خضر علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں، کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو سورۂ آل عمران کی آیت (۸۱) کے مطابق ان پر لازم تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ پر ایمان لاتے اور آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے، جب کہ ان کے آنے کا کہیں ذکر نہیں، نہ کسی صحابی سے ان کے ملنے کا کوئی ذکر ہے۔ صحیح بخاری کی وہ حدیث بھی اس کی دلیل ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هٰذِهِ، فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَی مِمَّنْ هُوَ عَلٰی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ] [بخاری، العلم، باب السمر في العلم: ۱۱۶، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما]آج رات سے ایک سو سال پورے ہونے تک زمین کی پشت پر جو بھی ہے کوئی باقی نہیں رہے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ زمین پر نہیں بلکہ دریاؤں اور سمندروں میں رہتے ہیں، ان کا رد جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے ہوتا ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل فرمایا: [مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَةٍ الْيَوْمَ، تَأْتِيْ عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ، وَ هِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ] [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب بیان معنی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : علی رأس مائۃ…: ۲۵۳۸] کوئی بھی جان جو آج پیدا ہو چکی ہے اس پر سو سال نہیں آئیں گے کہ وہ اس وقت زندہ ہو۔ جو لوگ خضر علیہ السلام کے زندہ ہونے کے قائل ہیں ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں ہے، ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ تمام روایات جن میں خضر علیہ السلام کے اب تک زندہ ہونے کا ذکر ہے سب جھوٹی ہیں۔ سب سے بڑی دلیل جو وہ حضرات بیان کرتے ہیں، یہ ہے کہ بہت سے صالحین سے ان کی ملاقات ہوئی ہے، حالانکہ اسے دلیل کہنا دلیل کی توہین ہے، کیونکہ جنھوں نے انھیں دیکھا ہے انھیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ خضر ہیں؟ کیا انھوں نے پہلے خضر علیہ السلام کو دیکھا ہے کہ ملاقات پر وہ انھیں پہچان گئے؟ رہا کسی ملنے والے کے کہنے سے کہ میں خضر ہوں اسے خضر مان لینا سادہ لوحی کی انتہا ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے بے شمار لوگوں کو گمراہ کیا ہے، مگر وہ سب وہی ہیں جو صحابہ کے بعد آئے، کیونکہ صحابہ رضی اللہ عنھم آسانی سے شیطان کے فریب میں آنے والے نہیں تھے۔ صحیح بخاری اور ترمذی میں جس عین الحیاۃ (آبِ حیات) کا ذکر ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں اور آپ کے سوا کسی دوسرے کے قول سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔
➋ { اٰتَيْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا …:} قرآن مجید میں { رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ } سے مراد نبوت کئی جگہ لی گئی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ (31) اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ» ‏‏‏‏ [الزخرف:۳۱، ۳۲] اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟ کیا وہ تیرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) تقسیم کرتے ہیں؟ مزید دیکھیے سورۂ دخان (۵، ۶) اور قصص (۸۶) اور اللہ کی طرف سے علم بول کر وحی اور نبوت مراد لی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۳) اگرچہ یہ الفاظ نبوت کے ساتھ خاص نہیں، مگر ان کے ساتھ { وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ } واضح دلیل ہے کہ یہاں ان الفاظ سے مراد نبوت اور وحی الٰہی ہی ہے اور بلاشک و شبہ خضر علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔ (شنقیطی) علم لدنی سے صرف اولیاء کا علم مراد لینا اور انھیں نبیوں سے بھی اونچا درجہ دینا صاف الحاد اور بے دینی ہے، جس کے ذریعے سے زندیق لوگ شریعت کا طوق گردن سے اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ اللہ کے احکام جو شیطان کے ہر قسم کے دخل سے محفوظ ہوں، صرف انبیاء کے ذریعے سے نازل ہوتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ جن (۲۶ تا ۲۸) اور سورۂ حج (۵۲) جو شخص کسی اور کو یہ درجہ دے وہ کافر ہے، اسے توبہ کروائی جائے، اگر نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ (قرطبی ملخص)
➌ خضر علیہ السلام کے عالم الغیب نہ ہونے کی دلیل ان کا موسیٰ علیہ السلام سے یہ پوچھنا ہے کہ اس سرزمین میں سلام کیسا؟ پھر موسیٰ علیہ السلام کے اپنا نام بتانے پر ان کا یہ پوچھنا کہ بنی اسرائیل والے موسیٰ؟ پھر ان کا موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہنا کہ آپ کے پاس جو علم ہے وہ میں نہیں جانتا…۔ پھر اپنے اور موسیٰ علیہ السلام کے علم کو اللہ کے علم سے چڑیا کی چونچ کے پانی کو دریا سے نسبت کی طرح قرار دینا ہے۔ کس قدر بدنصیب ہیں وہ لوگ جو خضر علیہ السلام کو نبی کے بجائے ولی قرار دیتے ہیں، پھر ان کے چند واقعات کو سامنے رکھ کر اولیاء کو علم لدنی کا ضمیمہ لگا کر عالم الغیب بنا دیتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

65۔ 1 اس بندے سے مراد حضرت خضر ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں وضاحت ہے۔ خضر کے معنی سرسبز اور شاداب کے ہیں، یہ ایک مرتبہ سفید زمین پر بیٹھے تو وہ حصہ زمین ان کے نیچے سے سرسبز ہو کر لہلہانے لگا، اسی وجہ سے ان کا نام خضر پڑگیا (صحیح بخاری، تفسیر سورة کہف) 65۔ 2 رَحْمَۃ سے مراد مفسرین نے وہ خصوصی انعامات مراد لئے ہیں جو اللہ نے اپنے اس خاص بندے پر فرمائے اور اکثر مفسرین نے اس سے مراد نبوت لی ہے۔ 65۔ 3 اس سے علم نبوت کے علاوہ جس سے حضرت موسیٰ ؑ بھی بہرہ ور تھے، بعض خاص امور کا علم ہے جس اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت خضر کو نوازا تھا، حضرت موسیٰ ؑ کے پاس بھی وہ علم نہیں تھا۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے بعض صوفیا دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو، جو نبی نہیں ہوتے، علم الہام سے نوازتا ہے، جو بغیر استاد کے محض فیض کے سر چشمہ کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ باطنی علم، شریعت کے ظاہری علم سے، جو قرآن و حدیث کی صورت میں موجود ہے، مختلف بلکہ بعض دفعہ اس کے مخالف اور معارض ہوتا ہے لیکن استدلال اس لئے صحیح نہیں کہ حضرت خضر کی بابت تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کے علم خاص دیئے جانے کی وضاحت کردی ہے، جب کہ کسی اور کے لئے ایسی وضاحت کہیں نہیں اگر اس کو عام کردیا جائے تو پھر ہر شعبدہ باز اس قسم کا دعویٰ کرسکتا ہے، چناچہ اس طبقے میں یہ دعوے عام ہی ہیں۔ اس لئے ایسے دعوؤں کی کوئی حیثیت نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا۔ اور اپنے ہاں سے ایک خاص علم سکھایا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔