(آیت 41،40){”صَعِيْدًا“} میدان، {”زَلَقًا“} جس میں قدم پھسلتا ہو۔ اس مومن نے اپنے مغرور ساتھی سے کہا کہ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم دیکھتے ہو تو یہ کوئی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں، عین قریب ہے کہ میرا رب دنیا میں یا آخرت میں مجھے تمھارے باغ سے بہتر عطا کر دے اور تمھارے باغ پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج کر زمین کو چٹیل میدان بنا دے جہاں قدم پھسلتا ہو، یا وہ چشمہ جس سے اس کی نہر نکلتی ہے، اس کا پانی گہرا چلا جائے اور تم کسی صورت اسے حاصل نہ کر سکو۔ دیکھیے سورۂ ملک کی آخری آیت۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40۔ 1 دنیا یا آخرت میں۔ یا دنیا اور آخرت دونوں جگہوں میں۔ 40۔ 2 حَسْبَان،غُفْرَان کے وزن پر۔ حساب سے ہے یعنی ایسا عذاب، جو کسی کے کرتوتوں کے نتیجے میں آئے۔ یعنی آسمانی عذاب کے ذریعے سے وہ محاسبہ کرلے۔ اور یہ جگہ جہاں اس وقت سرسبز و شاداب باغ ہے، چٹیل اور صاف میدان بن جائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ تو عین ممکن ہے کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر باغ عطا کر دے اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے۔ جس سے وہ چٹیل میدان بن کر رہ جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔